سعید احمد

پاکستان کے اندر لسانیات کا موضوع ہمیشہ لڑائی جھگڑے اور فساد کا سبب بنا ہے ملک کے اندر انھیں طبقات کو برتری حاصل رہی ہے جنکے ہاتھ میں اقتدار رہا ہے ہمیشہ برسراقتدار طبقے نے بازور قوت ملکی وسائل کو بے درردی سے لوٹا ملکی اسٹبلشمنٹ نے بھی ان لوگوں کا ساتھ دیا اور اقتدار میں شریک کیا جو انکے ہم زبان ہوتے ہیں ملکی اسٹیبلشمٹ نے ہمیشہ سے جانبداری کا مظاہرہ کیا میرٹ کے اصولوں کو پامال کیا گیا جس سے پاکستان میں نفرتیں پیدا ہوئی ہیں آج بھی جن کے ہاتھ میں وسائل اور اقتدار ہے انھوں نے عوام کے ذہنوں کو اس قدر منتشر الدماغ بنا دیا ہے کہ پاکستان میں لسانیات کا موضوع نفرت کی علامت بن کر رہے گیا ہے مخصوص لسانوں کو افضل اور باقی لسانوں کو شودر بنا کر نصابی کتب میں پڑھایا جا رہا ہے یہ نفرتیں ہمارے خطہ میں 1947ء کی تقسیم کے نتیجے میں آنے والے آبادی کے ریلے کی درآمد کے بعد دیکھائی دی ہیں ہمارے پُرامن خطہ کو جہنم کا دروازہ بنانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی گئی ہونا تو یہ چاہیے کہ لسان پر تحقیق ہونی چاہیے لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہے رہی ہے ایک طرح سے لسان پر تحقیق کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیںدوسری طرف مقتدر طاقتوں نے لسان کو خطرناک بنا کر پیش کیا لوگوں کے دلوں میں نفرتیں پیدا کیں ۔زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے مختلف زبانوں کو نشانہ بنا کر مخصوص زبانوں کو فائدہ پہنچایا گیا ۔ جس سے نفرتیں پیدا ہوئی لوگوں میں اشتعال پیدا ہوا یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اشیرباد سے ہوا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے من چاہے دانشوروں اور ادیبوں کے ذریعے تحقیق کروائی اور اپنی پسند کے خود ساختہ نتائج حاصل کرنے کے لے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کا بے دریغ استعمال کیا تاکہ مطلوبہ ٹارگٹ کو حاصل کیا جا سکے ۔

پاکستان میں لسان کو اژدھا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اسکی ایک وجہ باظاہر بنگلادیش کی پاکستان سے علحیدگی کی صورت میں نظر آتی ہے حالانکہ بنگلادیش کی پاکستان سے علحیدگی معاشی محرومی کے سبب ہوئی ہے اسکا ذکر کوئی نہیں کرتا بلکہ زیادہ زور لسان کو جواز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اس سے مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کا جو مقصد تھا، اس سے الٹا نقصان ہوا ہے، پاکستان کی سلامتی کو شدید ترین خطرہ درپیش ہے ایک طرف محمود اچکزائی نے افغانیہ بنانے کا اعلان کر چکے ہیں دوسری طرف علحیدگی پسند تحریکیں بھی اسی لسانیت سے نفرت کے نتیجے سے پھوٹی ہیں ۔ دوسری وجہ برسراقتدار طبقات پاکستان کی جغرافیائی اور لسانی تفریق سے کبھی روشناس نہیں ہوئے اسکی وجہ وہ طبقہ ہے جو تقسیم کے وقت ہندستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا کیونکہ یہ طبقہ پاکستان کے جغرافیہ سے لاعلم تھا اسی طبقے کے پاس اقتدار رہا ہے طاقت رہی ہے اسی طبقے نے اپنی مرضی اور منشاء کے نتایج کو نصابی کتب کا حصہ بنایا کیونکہ انھیں طبقات کے پاس پاور تھی اور اج بھی انھیں کے پاس پرنٹ اور الیکٹرونک کی میڈیا کی طاقت ہے ۔ کیونکہ انکے ہاتھ میں اقتدار ہے انھوں نے اپنی مرضی کی مردم شماری اور اپنی مرضی کے اعداد شمار کا ڈیٹا نصابی کتابوں میں لکھ رکھا ہے اور ہمیشہ سے یہ برسراقتدار طبقہ عصبیت پسند اور جانبدار رہا ہے ۔ برسراقتدار طبقے نے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کیلئے لسانی ڈیٹا مرتب کر رکھا ہے، حکومتی چھتری کے نیچے مخصوص لسانوں کو فروغ دینے کیلئے دوسری زبانوں کی نفی کی گئی اور تحقیق کے دروازے بند کرنے کی کوششیں کیں ۔ہر گروہ نے دوسرے گروہ کے خلاف پروپیگنڈا کیا کہ فلاں لہجہ ہے اور فلاں زبان ہے اس کے ساتھ اپنی مرضی منشاء کے نتائج حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کی حدیں پار کی گئی ہیں ۔ لسانی قواعد و ضوابط کو پامال کر کے اپنے اصول و قواعد کے مطابق لسانوں کی درجہ بندی کی اور تحقیقی مواد مرتب کیا گیا تاکہ اپنی عددی برتری ثابت ہو سکے ۔ لسانی اصولوں کے برخلاف جو اصول ، قواعد و ضوابط واضع کیئے گئے اس سے پاکستانی قوم کے اندر ہجان کی سی کیفیت پیدا ہوئی اور پاکستان کے اندر لسانوں کے حوالے سے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا جس سے افراتفری پیدا ہوئی جو پاکستان کی سلامیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

دنیا میں 6000 زبانیں بولی جاتی ہیں پاکستان میں لگ بھگ 79زبانیں بولی جاتی ہیں ان میں سرائیکی ، سندھی ، بروہی ، بلوچی پشتو کو لوگوں کی سپورٹ حاصل ہے۔ پاکستان کے اندر معیار ی اور غیر معیاری لسان کا کوئی تصور نہیں ہے جسکی لاٹھی اسکی بھینس والا معاملہ ہے۔ پاکستان میں معیاری لسان بولنے والے سیاست میں اگر غیر متحرک ہیں تو انکی معیاری لسان عصبیت کا شکار ہے کیونکہ سیاسی فورم پر انکی اواز اُٹھانے والا کوئی نہیں ہے اس کے برعکس غیر معیاری لسان بولنے والے سیاست میں متحرک ہیں اور اقتدار میں ہیں تو اسی غیر معیاری لسان کے اوپر حکومتی فنڈ کو جھونکا گیا اور جھونکا جا رہا ہے کیونکہ ان سے وابستہ اشرفیہ سیاست میں متحرک ہیں غیر معیاری لسان سے کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے لیکن حکومتی کارندے اس چیز سے بے خبر ہیں اور غیر معیاری لسانوں پر وسائل کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے معیاری لسان اور غیر معیاری لسان میں بنیادی فرق صوتی آوازوں کا ہے ۔ ان زبانوں میں صوتی آوازیں ہی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ لسانوں کا حروفی ڈھانچہ بھی صوتی آوازوں کی وجہ سے مرتب ہوتا ہے ۔جن زبانوں کی آپنی صوتی آوازیں ہیں وہ زبانیں اپنی منفرد صوتی آوازوں کی بدولت معیاری لسان کہلاتی ہیں اس کے برعکس جن زبانوں کی منفرد صوتی آوازیں نہیں ہیں وہ غیر معیاری لسان کہلائی جا سکتی ہے کیونکہ ان زبانوں کی صوتی آوازیں تمام زبانوں میں مشترکہ طور پر موجود ہیں یہ طفیلی لہجہ کہلاتی ہیں پنجابی بھی ایک ایسا ہی طفیلی لہجہ ہے۔
پنجابی لہجہ کی آوازیں فارسی ، عربی اور ہندی میں پہلے سے مستعمل ہیں اس وجہ سے پنجابی کو لکھنے کیلئے الگ سے کسی حروف کو ایجاد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔ مشرق کی صوتی آوازوں کا مطالعہ کریں تو بعض صوتی آوازیں مشترکہ ورثے کی حامل ہیں مشرق کی زبانوں میں مخصوص صوتی آوازوں کے علاوہ بہت ساری آوازیں مشترکہ ہیں اپ ” الف سے لیکر ے ” تک صوتی حروفوں کا جائزہ لیں تو ان حروفوں سے نکلنے والی صوتی آوازیں ایسی ہیں جو بہت ساری زبانوں میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں ان مشترکہ صوتی آوازوں کے علاوہ مشرقی زبانوں میں ہر زبان کی مخصوص جدگانہ صوتی آوازیں ہیں جو اُس زبان کو دوسری لسان سے الگ کرتی ہیں اُسکو جداگانہ تشخص دیتی ہیں ۔ الف کی مخصوص صوتی آواز بھی ایک ایسی آواز ہے جو ہمیں مشرق کی تمام لسانوں میں نظر آتی ہےاس کے علاوہ اور بہت ساری آوازیں ہیں جو مشرقی خطے میں مشترکہ طور پر موجود ہیں ایسے حروفوں سے نکلنے والی صوتی آوازیں سب لسانوں کی مشترکہ صوتی آوازیں شمار ہوتی ہیں ۔یہ مشترکہ صوتی آوازیں گلوبل صوتی آوازیں کہلاتی ہیں ۔

اب ہم پنجابی لہجہ کا جائز ہ لیتے ہیں پنجابی پنجا صاحب سے نکلا ہے جو سکھوں کا مقدس مقام ہے سکھ بذات خود ثقافتی ، تہذیبی ، تمدنی ، جغرافیائی اور لسانی طور پر ہندی قوم کا حصہ ہیں سکھ عرصہ دراز سے ہندی قومیت سے الگ جداگانہ تشخص کیلئے جدوجہد کر تے رہے ہیں جس کیلئے ١٨٩٥ء میں برطانوی عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ پنجابی کو ہندی سے الگ زبان قرار دیا جائے۔ فارسی اور ہندی زبان میں پنجابی ، سرائیکی زبان میں پنجابی اور عربی زبان میں بنجابی کہلائے جانے والے اس لہجہ کے حروف اور صوتی آوازوں کے مطالعہ کے بعد برطانوی عدالت نے پنجابی کو ہندی کا ترش لہجہ قرار دیا کیونکہ پنجابی کی تمام صوتی آوازیں عربی ، فارسی اور ہندی میں پہلے موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سر توڑ کوششوں کے باوجود پنجابی کو ہندی کی صوتی آوازوں سے الگ نہیں کیا جا سکا ۔ محروم آصف خان نے اس حوالے سے کام بھی بہت کیا لیکن کیونکہ پنجابی کی صوتی آوازیں نہیں ہیں یا آپ یوں سمجھ لیں جو بھی لفظ لکھا جاتا ہے اسکی صوت مذکورہ بالا زبانوں میں پہلے سے موجود ہے یہی وجہ ہے عربی ، فارسی اور ہندی کے حروف پنجابی لکھنے کیلئے کافی سمجھے جاتے ہیں اور وہی صوتی آوازیں اور حروف استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اس قسم کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ پنجابی کیلئے الگ سے قاعدہ بنایا جائے یا کوئی الگ سے رسم الخط ایجاد کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ جتنی بھی کوششیں ہوئی ہے وہ تمام کوششیں اس وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوئی کیونکہ لفظ کو لکھنے کیلئے صوتی آوازیں پہلے سے موجود تھی جس سے ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا اگے چل کر بھی کوئی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں ہے اسکا بنیادی سبب صوتی آوازیں ہیں جو ہم روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں جس کے لیے ہم نے حروفوں کا سہارا لیا ہوا ہے تاکہ جو صوتی آوازیں ہم ادا کرتے ہیں انکو پڑھ اور لکھ سکیں۔

١٨٩٥ء میں مختلف ماہرین لسانیات کی موجودگی میں شواہد کی بنیاد پر جج اے ڈبلو سٹوگن نے پنجابی کو ہندی کا رف لہجہ قرار دیا ۔ ماہرین لسانیات کی رائے میں پنجابی معیاری زبان نہیں ہے بلکہ ہندی کا ترش لہجہ ہے جسکو زبان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ڈاکٹر طارق رحمان نے اپنی تحقیق میں برطانوی عدالت میں دائر پٹیشن کا ذکر کیا اس دائر پٹیشن کے نتیجہ کا ذکر ڈاکٹر طارق رحمان نے کچھ اسطرح کیا ہے ۔

Wilson146s proposals were condemned even more savagely than those of Cust. Most of his colleagues were still of the view that Punjabi was a dialect or patois, despite Leitner146s details about Punjabi literature and the indigenous tradition of education in the province (1882). Indeed, some Englishmen even felt that Punjabi should be allowed to become extinct, Judge A. W. Stogdon, the Divisional Judge of Jullundur, wrote in his letter of 3 August 1895 that : As for the encouragement of Punjabi. I am of the opinion that it is an uncouth dialect not fit to be a permanent language, and the sooner it is driven out by Urdu

لسان میں اصل کردار صوتی آوازوں کا ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وہ لسان یا لہجہ کہلاتی ہے انھیں صوتی آوازوں کی بنیاد پر لفظ تشکیل پاتے ہے اور یہی صوتی آوازیں ہیں جس کی بنیاد پر لسان کے حروف ایجاد کیئے جاتے ہیں ۔ جن کو ہم ضبط تحریر میں لاتے ہیں۔ مشرقی زبانوں میں سرائیکی ، عربی ، ہندی ، سندھی ، فارسی اور پشتو کی صوتی آوازوں کا مطالعہ کریں تو انکے کیلئے الگ سے حروف ایجاد ہو چکے ہیں اسکی بنیادی وجہ ان میں مشترکہ صوتی آوازوں کے ساتھ ساتھ انکی جداگانہ منفرد صوتی آوازیں ہیں جو ان زبانوں کو ایک دوسرے سے الگ شناخت دیتی ہیں لیکن دو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی پنجابی اس کوشش میں ہیں کہ پنجابی کے لکھنے کا منفرد طریقہ ایجاد کیا جائے جو پنجابی کو ہندی سے الگ کر دے یہ کوشش لاحاصل ہے ۔اسکا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا ۔ اسکی بنیادی وجہ یہی ہے پنجابی کے اندر صوتی آوازیں جداگانہ نہیں ہیں جسکی بنیاد پر اسکی صوتی آوازوں سے مختلف حروف ایجاد ہو سکیں بلکہ پنجابی وہ صوتی آوازیں نکالتے ہیں جو ہندی میں موجود ہیں پھر پنجابی کے لے الگ سے رسم الخط کیسے ایجاد ہو گا ؟ کچھ ادیب گورمکھی کا رسم الخط پیش کر کے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان میں الگ سے حروف ہیں جو عربی ، فارسی اور ہندی میں موجود نہیں ہیں جناب کبھی اپکو توفیق ملے تو اپ گورمکھی کے صوتی قاعدہ کو سنیں اس میں تمام آوازیں وہی ہیں جو ہندی میں پہلے سے موجود ہیں پھر الگ سے حرف بنا لینے سے پنجابی کیسے ہندی صوتی آوازوں سے الگ ہو سکتی ہے ؟ صوتی آوازیں ہی لسان کی جداگانہ شناخت کی ضامن ہیں اگر صوتی آوازیں جداگانہ نہیں ہیں تو کیسے حروف ڈھلیں گئے ؟ کیسے حرف ایجاد ہونگے ؟ جن لسانوں کے حروف ایجاد ہو چکے ہیں اپ انھیں حروفوں کو استعمال کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں پنجابی لہجہ کو لکھنے کیلئے ہم مذکورہ زبانوں کی صوتی آوازیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں وجہ وہی ہے کہ پنجابی کے اندر جداگانہ شناخت کی حامل صوتی آوازیں نہیں ہیں۔ بنیادی سبب وہی ہے پنجابی ایک طفیلی لہجہ ہے جس میں لفظوں کے بننے کا عمل رک چکا ہے ۔

نوٹ: نیلاب ڈاٹ کام میں چھپنے والی تحاریر سے ادارے کا متفق ہوناضروری نہیں۔

حصہ