سماجیات

چلی ہے رسم کہ شلوار اتاری جائے…………….. تحریر . حفصہ نور

چلی ہے رسم کہ شلوار اتاری جائے…………….. تحریر . حفصہ نور
رمضان مبارک کے بابرکت مہینے میں غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے موضوع پر ہونے والے ٹی وی شو میں جمیت علماء اسلام کے رہنما حافظ حمدالله نے ماروی سرمد کو طوائف کا لقب دیتے ہوئے فرمایا میں تیری اور تیری ماں کی شلوار اتار دوں گا، قوتِ برداشت کا مظاہرہ گھونسہ مار کر کرنا چاہا مگر قرآن کو اٹھا کر قسمیں کھانے والے فیاض چوہان بیچ میں آگئے اور مکا ہوا کی نذر ہوگیا۔
ہمارے معاشرے میں عورت کو چھنال، چلترن، چالو، بدکار، بدچلن، سالڈ آئٹم، چھٹی ہوئی، ٹافی، ٹیڑھ پسلی، پٹاخہ ، چھوٹی مرچ، بڑھیا مال، بڑا گوشت، پھلجھڑی، ٹریکٹر، گاڑی کا بونٹ، ڈگی کا سائز، ناقص العقل، نو گنا مرد کے مقابلے میں شیطان پالنے والی، کتے کی دم ، ملائی، مکھن، پنکی، گہرا کنواں، چڑیل، دو نمبر، چکنی، ہوٹ، سیکسی دانہ، پورے دنوں کی اور نہ جانے کن کن برہنہ الفاظ سے پکارا جاتا ہے۔
عورت کی حرمت اس قدر ہے کہ جس گالی میں اس کا نام نہ ہو وہ ہماری سماعت میں زہر نہیں گھول سکتی، تیری ماں کی ، تیری بہن کی— کبھی میں نے کسی عورت کو بھی یہ کہتے نہیں سنا تیرے باپ کی۔۔۔ تیری بھائی کی!
بغیر ازاربند کھینچے شلواریں صدیوں سے کسی نا کسی روپ میں اتاری جاتی رہی ہیں، اگر بات ہم اپنے ملک کی سیاست کی کریں تو شلواراتارنے کا کام مصنف نے بھی کیا جنہوں نے “بازارِ حسن سے پارلیمنٹ تک” جیسی کتاب کسی ایک خاص جگہ سے ڈوریاں ہلنے کے نتیجے میں لکھ ڈالی، جس میں مرد حضرات سے لے کر عورتوں تک، سب کی بھی عزت کی شلواریں تار تار کردی گئیں۔
ایک مقتدر مولانا سے ایک انٹریو میں دریافت کیا گیا کہ آپ کو بی بی کی کون سی بات یاد آتی ہے تو مولانا کہنے لگے مجھے بی بی کی گردن کا تل بہت یاد آتا ہے۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی برہنہ تصاویر کے پمفلٹ بنوا کر ہیلی کاپڑ سے زمین پر برسائے گئے، دیواروں پر پمفلٹ چپکائے دیئے گئے، جہاں تک ممکن ہوا بھرپور کردار کشی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔
رعنا لیاقت علی خان سے فاطمہ جناح تک کی کردار کشی کئی گئی، اب بھی عاصمہ جہانگیر کے لیے نائکہ جیسے الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے، مریم نواز آج بھی بھگوڑی کے نام سے پکاری جاتی ہیں، ریحام کو دوسری شادی اور پہلے شوہر کو لات مارنے کے جرم میں فاحشہ، گھر نہ بسانے والی چلترن کہا جاتا رہا اور شادی سی پہلے ماں بننے کہ الزام بھی لگا دیئے گئے، جمائمہ کو قندھاری انار سمجھ کر کھانے والوں کی اور کیچڑ اچھالنے کی تمنا زیادہ پروان نہ چڑھ سکی کیوں کہ ظاہر ہے جمائمہ نے اس ملک میں نہ رہ کر خدمت کا موقع نہیں دیا۔
رانا ثنا اللہ کے پنجابی زبان میں ایک مقتدر (اور ان کے موجودہ سرپرست) گھرانے کے حوالے سے فحش لطائف آج بھی زدعام ہیں۔
ٹی وی شو میں بیٹھے مصطفی کمال جب شرمیلا فاروقی سے یہ کہہ رہے ہوں کہ میرا منہ مت کھلواؤ کہ تم کہاں سے آئی ہو، جب کشمالا طارق کو بھرے پروگرام میں گالی دے دی جاتی ہو، جب ایان علی پر الزام سے زیادہ بڑا جرم اس کی خوبصورتی ہو، اس کے جرم سے کہیں زیادہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہوں کہ یہ زرداری کی رکھیل ہے، جب ملالہ جیسی بچی کو بدچلن نہ بول سکیں تو ایجنٹ بول کر دل کی بھڑاس نکال دی۔
اکثر حضرات تو کسی لڑکی کے منہ نہ لگانے پر بہتان پر اتر آتے ہیں، اب یہ مردوں کی عورت کے معاملے میں احساس کمتری ہوئی یا احساسِ برتری کا غرور۔ یہ سب مثالیں تو بڑی بڑی تھیں، یہاں تو عورت کو ہر سطح پر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے، چاہے گھر میں بیٹھی عورت ہو یا گھر سے باہر نکل کر نوکری کرنے والی ہو، جس قوم کا پسندیدہ پرندہ شاہین ہو، وہاں فاختہ ہمیشہ خون میں ہی لتھڑی ملے گی، جن کی اپنی شلواریں نیم تاریک حجروں میں بے نشان ہوتی رہیں، وہ یہی سب کہہ سکتے ہیں، تصور کریں کہ ان کی قرابت دار خواتین کا کیا حشر ہوتا ہوگا ؟
اکثر حضرات قندیل بلوچ کے پیج پر جاکر گندی گندی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں مگر قندیل کے پیج پر لائکس کوئی اور ہی کہانی سنا رہے ہوتے ہیں، قندیل بلوچ تو صرف بولنے اور لکھنے کی حد تک برہنہ ہے، ہم سب ایک بار اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ ہم کتنے ننگے ہیں ۔
پاکستان میں کوئی بھی عورت کسی بھی سطح پر محفوظ نہیں ہے، حافظ حمداللہ نے تو شلوار اتارنے کی دھمکی دے کر محض اس ذہنیت کی عکاسی کی ہے، جس سے پاکستان کی عورت نبرد آزما ہے۔
میں حفصہ نور کہ عورت تھی اور مجرم تھی
گواہ نصف کا اپنا وجود کچھ بھی نہیں

Back to top button