سماجیات

دو جنسوں میں بٹی ہوئی ادھوری زندگی … تحریر .نورالعین نوری

دو جنسوں میں بٹی ہوئی ادھوری زندگی … تحریر .نورالعین نوری
زندگی بہت سے واقعات اور کہانیاں سمیٹے ہوئے رہتی ہے، اور ان میں شامل تجربات ہمارے لئےجینے کی راہ فراہم کرنے کا کام کرتے ہیں اور بعض جینے کی وجہ ہی چھین لیتے ہیں۔ یہ کہانی اک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو زندگی کا اک اک پل بہت کھل کر جیتی ہے، ہر لمحہ خوبصورت بنانا تو جیسے اس کی شخصیت کا سب سے حسین پہلو تھا۔ “ماہ لقا” اس کا نام بھی اس کی ذات کی طرح اس کی تمام تر خوبیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اعلیٰ طبقے اور شہر کے نامور سنار کی بیٹی ہونے کے باعث اسے پریشانیوں سے آزادی ہی رہی۔ ایسے میں اس نے اپنی ذات کو مکمل طور سے جینے کے لئے وقف کر دیا تھا، لیکن قدرت نے اسے جتنا خاص بنایا تھا اتنا ہی خاص سلوک بھی روا رکھنا منظور کیا۔ شادی کی عمر کو پہنچی تو ماں باپ نے اک معزز خاندان کے چھوٹے چشم و چراغ کا انتخاب کیا۔ تمام تر مراحل طے ہوئے اور شادی کی تاریخ بھی مقرر کر دی گئی۔ تیاریاں عروج پر تھیں، لیکن ابھی تین ہفتے باقی ہی تھے کہ 25 دسمبر 2015 کو ماہ لقا کے کمرے میں اک مردہ جسم کئ سوال لئے پایا گیا۔ وہ اسی تتلی کا تھا جو چاروں طرف اپنے رنگ بکھیرتی تھی۔ سب کو اس اچانک موت کا صدمہ بھی ہوا اور دھچکا ھی لگا کہ اس پری وش کے ساتھ بھی کوئی معاملہ ہو سکتا ہے ؟ مگر افسوس کہ کوئی نہ جان سکا۔ ماہ لقا کے خاندان ماہ لقا کے خاندان والوں کی حیرت نہ مٹ سکی تو انھوں نے پولیس کی مدد لی۔ پولیس کی تفتیشی ٹیم میں موجود سارہ اور کرائم رپورٹر ملیحا بھی شامل تھیں۔ تمام تر کیس میں کوئی بات سامنے نہ آسکی۔ اور کیس کی فائل بند کر دی گئی۔ لیکن کرائم رپوٹر ملیحا کے ہاتھ ماہ لقا کی اک ڈائری لگی تھی اور جسے اس نے اسی دن ہی پڑھ لیا تھا کہ شاید کوئی اہم بات یا سِرا ہاتھ لگے۔ لیکن جو اس کے ہاتھ لگا وہ اس نے خود تک ہی محدود رکھا، کیوں ؟ یہ ماہ لقا کی ڈائری کے ان صفحات کو دیکھ کے آپ خود جواب تلاشیں۔۔۔۔۔۔
“آج تو کمال ہی ہو گیا ڈیر ڈائری ! پتہ ہے ممی پاپا نے میرے لئے ویسا ہی شخص ڈھونڈ نکالا جیسا کہ میں نے سوچ ر کھا تھا۔”
“تم تو جانتی ہو نا کہ میں کیسی ہوں؟ میں بھی شادی سے پہلے اپنا مکمل طبّی معاینہ کرواؤنگی۔ اپنی تسلی کے لئے اور اس لیے بھی کہ میں اک صحت مند زندگی کا آغاز کروں۔ میں نہیں چاہتی کی مجھ پہ کوئی انگلی ااٹھائے، آج تک کسی کو موقعہ نہ ملا تو آگے بھی نہیں ہاہا۔۔۔۔۔ پھر ملتی ہوں میری ہمراز !”
“لا لا لا آج موسم کتنا حسیں ہے اور آج مجھے ڈاکٹر سمیر سے بھی ملنا ہے، اف! میں بھی نہ،تمہیں کالا کر رہی ہوں۔۔۔ چلو آتی ہوں۔”
“یہ ہسپتال والے اتنے ٹیسٹ کیوں لکھتے ہیں ؟؟؟ لو ! اب انھیں سنا رہی ہوں میں حد ہے، خود ہی تو گئی تھی “مکمل چیک اپ ” کے لئے۔۔۔۔ اب میں تھک گئی ہوں آرام کرتی ہوں اور تم سے پھر کلام کرتی ہوں “
” ارے یار! کل بلاوا آگیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ میرے وجود میں کیا خرابیاں ہیں ہاہا!۔۔۔ ایک بھی نکلی تو تمھاری میری بات چیت بند “
“آج جو میں لکھ رہی ہوں، غور سے سنو میری پیاری! میں اک عام نارمل لڑکی ہی پیدا ہوئی تھی،خاندان کی پہلی لڑکی تھی لہٰذا لاڈلی تو ہونا ہی تھا، ماں پاپا تو ناز اٹھاتے نہیں تھکتے تھے، وقت کیسے روانی سے گزرتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا یار! میں بڑی ہو گئی تھی اب اور مجھ میں تبدیلیاں آرہی تھیں۔۔۔۔ لیکن یہی وہ موڑ تھا کہ جب میں اک بھیانک تجربے سے گزری۔۔ پتہ ہے کیا تبدیلی؟ میں خود نہیں سمجھ پاتی تھی، مجھے ہر وہ کام پسند تھا جو جنسِ مخالف کو پسند ہو سکتا ہے۔ رفتہ رفتہ میں اک مکمل مردانہ سوچ کی حامل ہوتی جا رہی تھی،مجھے خود بھی حیرت ہوتی تھی۔ میں نے ماہرِ نفسیات سے بھی رجوع کیا، اور انھی کے مشورے اور توسط سے ڈ اکٹر سمیر سے ملاقات ہوئی اور مجھ پر بھیانک انکشافات ہوئے جن کا مجھے لاشعوری طور پر خوف تھا۔ میں تیزی سے مکمل تبدیلیِ جنس کی جانب رواں تھی اور یہ قطعی طور سے قدرتی تھا۔۔ اک پل اے کاش! کوئی تو چلا کر کہتا کہ یہ اک بھیانک خواب ہے اور میں اس سے جاگ جاوں۔۔۔ کوئی مجھے جھنجھوڑ دو! کوئی تو! ہاہا! ڈاکٹر سمیر نے یہ نیک کام انجام دیا بھی لیکن مجھے تلخ حقیقت کا سامنا کروانے کے لئے۔۔ آہ! کیا وجوہات تھیں ؟ میں نے پوچھنا چاہا تھا۔۔۔ لیکن اب میں کیونکر پوچھوں؟ کوئی شکوہ کیوں کر کروں؟ لیکن ہاں، میرے ماں بابا؟؟ جن کا میں مان،غرور ہوں، ان کا کیا؟ وہ معاشرے کا سامنا میرے نۓ وجود کے ساتھ کیسے کریں گے؟ نا نا نا یہ نہیں ہونے دوں گی میں۔۔۔ میں نے آج تک انکا سر نہیں جھکنے دیا،تو آیندہ بھی نہ ہوگا۔ “
بس! یہی کچھ باتیں تھیں جو میں نے جانتے بو جھتے چھپائی تھیں، یہ میرا فرض تھا کہ اک راز کو راز ہی رہنے دوں۔ اور ماہ لقا کے والدین کبھی بھی شرمندگی نہ اٹھائیں۔۔۔ لیکن اک منٹ ! لفظ شرمندگی کیوں استعمال کروں ؟ ہاں کیوں نہیں۔ ہمارا معاشرہ اس تیسری جنس کے حوالے سے شرمندہ ہی تو رہتا ہے، ماں باپ خود مار ڈالتے ہیں ایسی اولاد کو۔ اور اگر کوئی اک آدھ پل کر جوان ہو بھی جاتا ہے تو اس کے لئے عملی زندگی کے مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں۔
یہ وہی کمرہ تھا جہاں کبھی وہ دلنشیں پیکر تتلی کی طرح رنگ بکھیرتا تھا۔ اور اب جہاں سلگتی یادوں کے سوا کچھ نہ تھا، جہاں اک بیٹی نے ماں باپ کو سوالات سے بچانے کے لئے موت کو گلے لگایا تھا، ملیحا (کرائم رپورٹر) اس کی ہر ہر شے کی مہک کو اپنے اندر محسوس کر رہی تھی۔ اس گھر سے باہر قدم رکھ دیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی ویسی کبھی نہیں ہوتی جیسی ھم سوچتے ہیں۔۔۔

Back to top button