اسکندرآباد(خالد اشفاق سے)
آل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ اسکندرآباد کاتاریخی فلڈ لایئٹ ٹورنامنٹ کا سیمی فائنل اور فائنل اسکندرآباد کی فٹبال ٹیموں کے بغیر کھیلا گیا۔آل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ اسکندرآباد کے دوسرے راؤنڈ ہوم گراؤنڈ پر اسکندرآباد فٹبال کلب کی شکست جہاں شائقین فٹبال کے خواب ٹوٹنے کا باعث ہے وہاں ساتھ ٹیم سپرٹ،نوجوان کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے اور ہر قسم کی روش اور گراؤنڈ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کھیل اور کھلاڑی دوست پالیسیوں کے فوری اطلاق کا بھی متقاضی ہے۔دس سال سے زیادہ کے عرصہ کے بعد ہونے والا یہ ٹورنا منٹ ایک میگا ٹورنا منٹ کے طور پر سامنے آ نے کے باوجود بھی ماضی جیسی انفرادیت قائم نہ رکھ سکا۔عوام کی کثیر تعداد بیزار نظر آتی ہے ماضی میں جہاں فٹبال گراؤنڈمیں ایسے مقا بلوں میں جہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی وہاں آج گرؤنڈ میچ کے موقع پر بانجھ نظر آتا ہے۔ماضی میں اسکندرآباد کی تین مشہور فٹبال کی ٹیمیں پینسلین فٹبال ٹیم،کرسچیئن فٹبال ٹیم اوراسکندرآباد فٹبال ٹیم اپنی خاص اہمیت کی حامل ٹیمیں تھیں اور پاکستان میں جہاں کہیں بھی فٹبال ٹورنامنٹ ہوتا ان ٹیموں سے کھلاڑی کھیلنے کے لئے منگوائے جاتے لیکن وقت کی گرد اورکھیل کے گراؤنڈز کا سیاسی اکھاڑوں میں تبدیل ہو جانے سے سے اسکندرآباد فٹبال کے اندر سے اصل روح کھینچ لی۔پینسلین فٹبال ٹیم،کرسچیئن فٹبال ٹیم کے زمینی حقائق اس کے زوال کا سبب ضرور بنے جو اتنے قابل مذمت نہیں ہیں مگر ساتھ یہ بھی ہوا کی تما م مرکزیت آج سے تقریباً دس سال پہلے اسکندرآباد فٹبال ٹیم کو حاصل ہو گئی اور اسکندرآباد کلب کی رونقیں بڑھ گئیں لیکن افسوس کہ جاڑے کی دھوپ کی طرح یہ سلسلہ بھی جز وقتی چلا۔کئی جونئیر فٹبال لورز کھلاڑیوں نے میڈیا کو بتایا کہ اب محض کھیل کھیل نہیں اسکے ساتھ عزت نفس کے متعلقہ بہت سے اخلاقی تقاضے بھی ہیں جو کہ اگر شروع سے سینئر سے جونیئر تک ملحوظ خاطر رکھے جاتے تو آج اسکندرآباد فٹبال کلب زوال کا شکار نہ ہوتا اور اپنی پرانی روایات زندہ کر رہا ہوتا جبکہ زیادہ بازگشت یہ بھی سنی گئی کہ گزشتہ سال اسکندرآباد فٹبال گراؤنڈ پر فٹبال گیم ہی نہ ہوئی یہ حقائق شاید ان شائقین فٹبال کے سوالات کا بہترین جواب ہیں جو یہ پوچھ رہے تھے کہ اسکندرآباد فٹبال کلب آل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ سے ہی کیوں فارغ ہوا۔

حصہ