تہمت لگا کر ماں پہ اپنی جو غیروں سے داد لے اُس ’’بوم بوم آفریدی ‘‘ کو کپتانی سے ہٹایا جائے
شاہد آفریدی کو ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کی قیادت سے فوری طور پر معذول کیا جائے
پاکستان کی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے دشمن ملک بھارت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھاشن دیا ہے کہ کہ ’’ انہیں جتنا پیار بھارت میں ملا ہے اُتنا پاکستان میں بھی نہیں ملا ہے ‘‘ ۔ شاہد آفریدی کے اس بیان پر پاکستان کے محبِ وطن حلقوں کی جانب سے جس ردِ عمل کا اظہار کیا جار رہاہے وہ فطری ہے اور ایسا ردِ عمل ظاہر کرنے والے حق بجانب بھی ہیں ۔ بھارت جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے وہاں جا کر ایسا بیان دینا جس سے پاکستانیوں کی اپنے کھلاڑیوں سے محبت کی توہین ہو ۔ وہ کسی صورت میں بھی قابلِ قبول نہیں ہے ۔
شاہد آفریدی کو پاکستان کی کرکٹ نے شناخت عطاء کی ۔ اپنے ملک کے شائقین نے اُس کی لائق ستائش کارکردگی پر اُسے کاندھوں پر بٹھایا اور اُس کے لئے تہنیتی جذبات کی انتہا کر دی ۔ پاکستانیوں کی جانب سے کبھی بھی اپنے ہیروز کی پذیرائی میں بخل سے کام نہیں لیا گیا ۔۔۔ لیکن یہ اس قوم کی بدقسمتی ہے کہ اسے اپنوں کی جانب سے ہمیشہ تکلیف دہ سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ کرکٹ محض ایک کھیل ہے لیکن سرمایہ درارنہ معاشرت نے اسے قوموں کی ترقی و کامرانی سے مربوط کر رکھا ہے ۔ اورگذشتہ کئی سالوں سے پاکستانی قوم کو ’’ کرکٹیریا ‘‘ کے مرض میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بار بار کی ہزیمت ناک کارکردگی کے باوجود قوم اس کھیل کے نشے سے باہر نہیں آ سکی ۔ پاکستانی ٹیم کی مسلسل ناکامیوں نے قوم کے لئے مشکلات پیدا کی ہیں ۔ ماضی قریب میں بہت سے کرکٹروں کی ذاتی غلطیوں ، جرائم اور آپس کی چپقلش نے کوئی قابلِ فخر تائثر قائم نہیں کیا ۔ لیکن پھر بھی قوم ان کھلاڑیوں سے محبت کرتی ہے ۔ دشمن ملک کی سرزمین پر شاہد آفریدی نے اپنے ایک بودے اور گھٹیا بیان کے ذریعے جس انداز میں کفرانِ نعمت کیا ہے وہ ہر لحاظ سے قابلِ گرفت ہے ۔ بی سی سی پی کی وساطت سے جاری کی گئی شاہد آفریدی کی وضاحت کسی بھی صورت میں قوم کے لیئے قابلِ قبول نہیں ہے ۔ پاکستان کے جذبے اور محبت کی اس طرح دشمن ملک میں تذلیل کرنے والے کو قومی ٹی ٹونٹی ٹیم کی قیادت سے فوری طور پر الگ کیا جانا چاہئے ۔ اور ساتھ ہی شاہد آفریدی کو قوم سے معافی مانگنی چاہئے ۔۔ اور آئندہ شاہد آفریدی جیسے کھلاڑیوں کو اپنی اوقات میں رہنا چاہئے ۔

حصہ