چین میں پیدا ہونے والے بچے کے ہاتھ اور پاؤں کی 31 انگلیاں ..
چین میں پیدا ہونے والے ایک بچے کے ہاتھ میں 15 اور پیروں میں 16 انگلیاں ہیں، جو نہ صرف دنیا بلکہ خود اس کے والدین کے لیے بھی حیران کن ہے۔
دیہی پس منظر رکھنے والے صوبے ہونان میں پیدا ہونے والے بچے کے والدین اتنی مالی استطاعت نہیں رکھتے کہ اس کی سرجری کرا سکیں لیکن دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ اتنا آسان آپریشن نہيں ہوگا۔ مقامی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہونگ ہونگ نامی بچہ “کثیر انگشتی” کا ایک انتہائی نایاب کیس ہے اور اگر اس کے والدین کے پاس سرجری کروانے کے لیے پیسے ہوں بھی تو یہ آپریشن بہت مشکل ہوگا۔ اس سرجری پر لاکھوں ڈالرز لاگت آ سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ مقامی اخبارات نے خاندان کی مدد کے لیے اپیلیں شائع کی ہیں۔
ہونگ ہونگ کی والدہ بھی کثیر انگشتی کا شکار ہیں یعنی معمول سے زیادہ انگلیاں رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بچے کی ولادت سے قبل کئی مرتبہ اسکین بھی کروائے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شین ژین، چین میں ہونے والے تمام اسکینز میں، جن میں 4 ڈی الٹرا ساؤنڈ بھی شامل تھے، بچے میں ایسی کوئی علامت نہیں پائی گئی اور ڈاکٹروں نے والدین کو کہا کہ بچے کے ہاتھ اور پیر میں انگلیوں کی تعداد معمول کے مطابق ہوگی۔ کیونکہ ہونگ ہونگ کی والدہ کے ہاتھوں کی حالت اتنی گمبھیر نہیں جتنی کہ بچے کی ہے اس لیے والدین کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔ والدہ کے ہاتھوں اور پیروں میں 12، 12 انگلیاں ہیں۔
کثیر انگشتی کوئی نایاب جینیاتی بیماری نہیں ہے، یہ ہر ایک ہزار بچوں میں سے دو کو ہوتی ہے۔ 2010ء میں چین میں ایک اور بچہ پیدا ہوا تھا جس کے ہاتھوں اور پیروں میں 31 انگلیاں تھیں۔ جب وہ چھ سال کا ہوا تو اس کا کامیابی کے ساتھ آپریشن کیا گیا۔ شین یانگ کے اس بچے کو اپنا ہاتھ استعمال کرنے میں بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ اس کے دونوں ہاتھوں کی تین انگلیاں باہم ملی ہوئی تھیں۔ اسکول کے بچے اسے ‘بھوت’ کہتے تھے۔ بہرحال، اس وقت تک بچے کے پاس سب سے زیادہ انگلیوں کا عالمی ریکارڈ تھا جو اس نے بھارت کے دو بچوں سے چھینا تھا جن کے ہاتھوں میں 12 اور پیروں میں 13 انگلیاں تھیں۔
2014ء تک ہاتھوں اور پیروں میں سب سے زیادہ انگلیوں کا ریکارڈ بھارت کے علاقے گجرات کے دیوندر ستھر کے پاس تھا جن کے ہاتھوں اور پیروں دونوں میں 14، 14 انگلیاں تھیں۔ اب یہ بچہ ممکنہ طور پر نیا عالمی ریکارڈ یافتہ ہے۔

حصہ