ٹوکیو:(اے پی پی) جاپان میں جنگل میں کھوجانیوالا سات سالہ بچہ زندہ سلامت مل گیا۔ بچے کے والدین نے بچے کو سزا کے طور پر جنگل میں چھوڑنے پر لوگوں سے معافی مانگ لی۔ ذرائع کے مطابق جاپانی امدادی کارکنوں کی 7سالہ یاموٹو ٹنو کا جنگل میں ایک فوجی اڈے کیلئے قائم کردہ جھونپڑی نما کمرے سے ڈھونڈ نکالا گیا جہاں وہ گزشتہ ایک ہفتے سے خود کو خونخوار ریچھوں سے بچا کر چھپا ہوا اور صرف پانی پی کر زندہ تھا۔ جنگل میں مذکورہ مقام اس جگہ سے ساڑھے پانچ کلومیٹر دور تھا جہاں اس کے والدین نے اس کو سزاکے طور پر اکیلا چھوڑا تھا ۔ یاماٹو کو ایک فوجی نے ہی ڈھونڈا جس کو وہ جھونپڑی کا دروازہ کھولنے پر ملا ۔ وہ یخ بستہ راتوں میں جھونپڑی میں موجود دو بستروں کی وجہ سے محفوظ رہا اور جھونپڑی کے باہر لگے پانی کے نلکے نے اس کی زندگی کی ڈور سنبھالے رکھی ۔ بیٹے کے ملنے کے بعد یاموٹو کے والدین نے بتایاکہ وہ ہائیکنگ کیلئے پہاڑی جنگل گئے تھے جہاں یاموٹو نے سڑکوں سے گزرنے والی گاڑیوں اور لوگوں پر پتھر پھینکے اور انہوں نے اسے بطور سزا وہاں تھوڑی دیر چھوڑا اور وہ وہاں سے گم ہو گیا۔یاماٹو کے والدین نے پہلے یہ کہا کہ ان کا بیتا ہائیکنگ کے دوران گم ہو گیا تاہم بعد میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے اسے وہاں دانستہ طور پراکیلے چھوڑا تھا ۔ ایک ہفتے کی سخت تلاش کے بعد یاموٹو کو اس جنگل سے زندہ نکالا گیا جہاں جنگلی ریچھ بہتات میں پائے جاتے ہیں۔جمعہ کو بچے کے والدین نے میڈیاپر اپنے عمل کی معافی مانگتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ایسا کرکے بہت مشکل وقت کا سامنا کیا اور وہ یاموٹو کے ساتھیوں ، اساتذہ سکول اور ان لوگوں سے معافی کے طلبگار ہیں جنہوں نے اس کیلئے پریشانی د یکھی اور اپنی تشویش ظاہر کی اور ان سے بھی جنہوں نے دن رات ایک کرکے اس خوفناک جنگل میں اس کو تلاش کیا ۔ یاموٹو کے والد نے امدادی کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ۔ بچے کو میڈیکل چیک اپ اور قانونی کارروائی کے بعد والدین کے حوالے کردیاگیا

حصہ