نیلاب
نیلوفر خان
ایک بوند زہر
_____________
ایک ننھا سا قطرہِ زہر رگوں میں پھیل کر روح کو جسم سے باہر دھکیلنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔زہر صدیوں سے قتل کے لئے استعمال ہونے والا سب سے خطرناک ، زور آور ، اور قابلِ اعتبار ہتھیار ہے۔ گو زہر کتنا ہی جان لیوا کیوں نہ ہو میرا ماننا ہے کہ زہر سے بھی خطرناک زہریلی سوچ ہوتی ہے۔زہر کا ہتھیار کے طور پر استعمال 4500 قبل از مسیح سے لے کر پھیلتا ہی چلا گیا۔زہر بہت سے مقاصد کے لئے استعمال ہوتا چلا آیا ہے مگر سب سے زیادہ یہ صرف دشمن کے خاتمے کے لئے ، بغض اور انتقام لینے کے لئے استعمال ہوا۔رومن دورِ حکومت میں یہ قتلِ عام کے لئے عا م استعمال ہوتا تھا۔مطلب ایک بوند زہر اور کام تمام ۔
331 قبل از مسیح میں زہر دینا بہت مقبول اور شاہانہ طرزِ قتل تھا۔ڈنر کے ٹیبل پر من پسند کھانوں میں زہر کی ملاوٹ سے دشمن کو مٹی میں ملا دینا عام بات تھی۔ ان دنوں کھانوں کی میز پر، مشروبات میں ، من پسند پھلوں میں اور میٹھے میں زہر ملا کر پیش کرنا عام تھا۔بڑے بڑے عظیم شہنشاہوں نے زہر کو من چاہا ہتھیار سمجھ کر استعمال کیا۔اس سلسلے میں Arsenic (ایک زہریلا سفید سفوف) کی اعلیٰ قسم بنانے میں عرب سب سے برتری لے گئے۔انہوں نے اس زہریلے سفید سفوف کی ایک ایسی قسم ایجاد کی جو بے رنگ ، بے بو، ایک دم شفاف تھی جسے Detect کرنا مشکل بلکہ ناممکن تھااور اسی لئے اس شفاف اُجلے سفوف نے بہت کام دکھایا۔اب یہ سفوف ایشیاء میں بھی پایا جاتا ہے۔سُقراط جیسا فلاسفر ہو، Oilve Thomas جیسا ادا کار ، یا پھر چندر گپتا موریہ کی ملکہ ،Durdhara کوئی بھی ایک بوند زہر کی بھینٹ چڑھنے سے بچ نہ سکا۔Adolf Hitler جو کہ میرا پسندیدہ ماضی کا کردار بھی ہے نے سائنائٹ اور گن سے بیک وقت خود کو پکڑے جانے سے پہلے ختم کر لیااور اس کے پہلو میں Eva Hitler بھی پائی گئی جس نے سائنائٹ کیپسول کھا کر خود کشی کر لی تھی کسی حد تک یہ ٹھیک بھی تھااتنے زور آور شخص کی جان کوئی کم نسل لے اس سے بہتر تو ایک بوند زہر تھا۔ ایوا ہٹلر کی سب سے قریبی اور پیاری چیز انتقام کا نشانہ بننے سے اور ہٹلر کی ذلت کا باعث بننے سے بچ گئی اور ایک بوند زہر کی نذر ہو گئی۔
تاریخ ایک بوند زہر کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جب زہر کے استعمال اور خطرات بڑھتے چلے گئے تو اس کی روک تھام کے لئے اقدامات کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔یہ واضح تھا کہ اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس اقدام اُٹھانا ضروری ہے۔ 63-114 (قبل از مسیح )میں Mithridates Vi جو کہ Pontus ( قدیم یونانی ریاست شمالیAnatolia ) کا بادشاہ تھا کو مسلسل زہر دےئے جانے کا خطرہ لاحق تھا ۔ اس خطرے کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی بجائے اس ذہین بادشاہ نے تدبیر کی اور زہر کے توڑ کے لئے ادویات حاصل کرنے اور بنانے کے لئے کوشاں رہا۔ بلا آخر اس نے اس وقت کی درجنوں ہربل جڑی بوٹیوں کی تھوڑی تھوڑی مقدار پر مشتمل ایک زہر کے اثر کو زائل کرنے والا فارمولا حاصل کر لیا۔ اس زہر کے تریاق کو بادشاہ نے Mithridatium کا نام دیا ۔ اس تریاق کو خفیہ رکھا گیا جب تک Pompey The Great اس کی سلطنت پر قابض نہ ہوگیا اور اسے دوبارہ روم میں شامل کر دیا۔پومپی سے شکست کھانے کے بعد Antidote نسخے اور تمام کے تمام نوٹس روم کے قبضے میں آگئے او ر لاطینی زبان میں ترجمہ کئے گئے ۔ Pliny the elder جو کہ روم کا عظیم مصنف اور قدرتی فلاسفر تھا نے سات ہزار قسم کے زہر متعارف کر ائے ۔ ایک جگہ وہ لکھتا ہے کہ ’’ ایک بطخ کا خون Pontus کی ریاست میں ملا ،جو کہ زہریلی خوراک پر پلی تھی اور اس بطخ کا خون بعد میں Mithridatium کی تیاری میں استعمال ہوا کیونکہ اس بطخ کو زہریلی خوراک کھلائی گئی اور اسے کچھ نقصان نہ ہو ‘‘ ۔ ایک بوند زہر کے اثر نے کتنوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا اور کتنوں کو تخت و تاج بخش دیا۔ پس سب سے بڑا کنگ میکر ایک بوند زہر رہا۔
قدیم بادشاہ اردشیر سوئم شاہ فارس سلطنتِ Achaemenid کے گیارھویں سلطان کی زندگی ایک بوند زہر کے گرد گھومتی ہے ۔ اردشیر کی تاج پوشی فروری338 قبل از مسیح میں ہوئی ۔اس قدیم بادشاہ کو فارس کا عظیم بادشاہ، مصر کا فرعون، شاہان شاہ ، بادشاہوں کا بادشاہ ، صدیوں کا بادشاہ ، اس زمین کا بادشاہ اور آقائے جہاں کے شاہی خطابات حاصل تھے ۔اردشیر سوئم 26 اگست سے 25 ستمبر358 قبل از مسیح ستاسی سال کی عمر میں اس جہان میں اپنا بے جان جسم چھوڑ کر فقط اپنی روح کو لئے پر اسرار عالم ارواح کی طرف کوچ کر گیا۔
مصر کے اکتسویں شاہی خاندان کا پہلا فرعون بھی اردشیر سوئم بنا ۔ اردشیر سوئم اردشیر دوئم کا بیٹا تھا اور تخت تک پہنچنے سے پہلے ایک ریاست کا صوبیدار اور اپنے باپ کی فوج کا کمانڈر بھی تھا۔ اردشیر سوئم اپنے ایک بھائی کی شہادت ، دوسرے کی خود کشی ، تیسرے کے قتل اور اپنے چھیاسی سالہ باپ کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔
تخت نشین ہونے کے بعد اردشیر نے Bagoas جو کہ ایک عیار اور شاطر خواجہ سرا تھا اور جس کے ذمے اُمورِ حرم کو سنبھالنا تھا کی مدد سے تمام شاہی خاندان کو قتل کر دیا تا کہ اس کی تخت پر گرفت مضبوط رہے۔ Bagoas اس خدمت کے عوض اردشیر سوئم کا وزیر بن گیا۔ 343 (ق م ) میں اردشیر سوئم نے مصر کے فرعون NectneboII کو شکست دے کر خود مصر کا فرعون بنا ۔ Bagoas خواجہ سراء ایک کمزور صنف مگر مضبوط اور زہریلے اعصاب کا مالک تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تخت کے پیچھے تمام نظامِ حکومت و طاقت کو ایک ہیجڑا کنٹرول کر رہا تھا۔
تاریخ میں بے شمار شواہد ملتے ہیں Bagoas خواجہ سرا اُس وقت کا امیر ترین شخص بن گیا۔ اردشیر سوئم کے دورِ حکومت کے آخری سالوں میں فلپ دوئم کی طاقت یونان میں بڑھ رہی تھی۔ اُ س نے یونانی لوگوں کو اردشیر سوئم کے خلاف بغاوت پر اُکسانا شروع کیا۔ اس کی ان کاوشوں کی وجہ سے Perinthus کے شہر نے مزاحمت کی ۔ اردشیر سوئم نے اپنے آخری سالوں میں اپنا ایک نیا محل تعمیر کیا اور اپنا مقبرہ بھی بنایا۔اردشیر سوئم اب بیگوس کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا تھا کیونکہ وہ اپنا دماغ اور تجربہ استعمال کرنے لگا تھا ساتھ ہی دربار کی اہم شخصیات ’’بیگوس ‘‘ کے خلاف تھیں وہ ارد شیر سوئم کو ’’بیگوس ‘‘ کے خلاف مشورے فراہم کرتی رہتی تھیں اس لئے وہ ’’بیگوس ‘‘ کے خلاف ہو گیا ۔ Bagoas نے صورتحال کو جلد بھانپ لیا اور اردشیر سوئم کو زہر دے کر ختم کر دیا۔ اردشیر چہارم اردشیر سوئم کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا اُس کا بادشاہ بننا قطعی ممکن نہ تھا۔ مگر غیر متوقع طور پر اُسے تخت نشینی کے لےئے اُبھار گیا اور یہ کام خواجہ سرا بیگوس کا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اردشیر چہارم کو کٹھ پتلی بادشاہ کے طور پر استعمال کر نا آسان ہوگا۔
اردشیر چہارم نے تمام شاہی خاندان کو Bagoas کی مدد سے قتل کر دیا اور تخت نشین ہو گیا۔ اردشیر چہارم جلد بیگوس کے مخالف ہو گیا ۔
اور شاہی دربار کے اہم لوگوں کے مشورے سے جو کہ ’’ بیگوس ‘‘ کے دشمن تھے بیگوس کو زہر دینے کا منصوبہ بنایا مگر بیگوس ہر بار کی طرح زیادہ متحرک نکلا۔ اور اردشیر چہارم Arses کو پہلے زہر دینے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر بیگوس نے اردشیر چہارم کے ایک کزن کو اُبھارا اور Darius iii کو تخت نشین کروادیا ۔ Darius III نے تخت نشین ہوتے ہی سب سے پہلے ’’ بیگوس ‘‘ سے جان چُھڑانے کی سوچی وہ ’’ بیگوس ‘‘ کے اثر کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس مصری خواجہ سرا بیگوس نے حالات کو بھانپتے ہوئے DariusIII کو بھی زہر دینے کا منصوبہ بنایا مگر اس بار Darius III سبقت لے گیا ۔ اور بیگوس کو ایک بوند زہر کے آگے ہار ماننا پڑی ۔ تاریخ نے یہ تو ثابت کر دیا کہ زہر دشمن کے خاتمے کے لئے کافی ہے۔اس لئے احتیاط لازم ہے۔ کیا پتہ ایک بوند زہر کس کے حلق میں اُترنے کی منتظر ہو ۔

حصہ