پرامن سوات میں چند ایام تحریر: سہیل احمد اعظمی
پاکستان کو اللہ تعالی نے جن قدرتی مناظر و مقامات سے نوازا ہے ان میں سے ایک مقام وادی سوات جانے کا گذشتہ ہفتے اتفاق ہوا۔ ویسے بھی کئی بار پہلے سوات کا وزٹ کرچکاہوں لیکن سوات میں پہلے اسلامی نظام کے نفاذ ، بعدا ازاں آپریشن کے بعد پہلی مرتبہ بمعہ فیملی کے ایک دوست کے بھائی کی شادی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ بائی روڈ کئے گئے اس سفر میں کئی تجربات اور مشاہدات ہوئے جنہیں کالم کی نظر کرکے ارباب اختیار حکمرانوں کی طرف توجہ مبذول کروانا ضروری سمجھتاہوں۔ ہم نے بائی روڈ براستہ کرک، کوہاٹ، پشاور جانے کا فیصلہ کیا اور مردان میں ایک رات قیام کیا۔ ڈیرہ سے پشاور تک انڈس ہائی وے روڈ کی حالت قابل رحم ہے۔ بھاری ٹریفک کے باعث جہاں سڑک کئی جگہ سے بیٹھ گئی ہے وہاں سڑک پر پڑے ہوئے کھڈے صوبائی اور مرکزی حکومت کی توجہ کے منتظر ہیں۔ ڈیرہ شہرسے نکلتے ہی بنوں روڈ ابتداء میں ٹوٹ پھوٹ اور شکستہ ریزی کا شکارہے۔ لیکن ہمارے مقامی ایم پی ایز اور متعلقہ محکمہ غیر ضرری سڑکوں کی تعمیر میں تو مصروف ہیں لیکن جہاں ضرورت ہے وہاں کام ندارد ، یہی حال انڈس ہائی وے روڈ کا بھی ہے۔ پشاور بائی پاس کے شہر کے ٹریفک کے اژدھام سے ہم کتراکر مردان کی شیخ ملتون کا لونی میں رات گزانے پہنچے تو وہاں کی کالونی اور مردان کی ترقی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ شیخ ملتون کالونی مردان کی پہلی سرکاری کالونی ہے جو کسی طرح سے بھی اسلام آباد کی کالونیوں سے کم نہیں ہے۔ کھلی سڑکیں، کشادہ پارکس، کھیل کے میدان، گیس، بجلی کی وافر فراہمی، لوڈ شیڈنگ چند گھنٹے، پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتال موجود، کھلی مساجد، سکول، کالجز غرض یہ کہ کالونی کسی بھی حکومت میں بنی ہو، قابل تعریف ہے۔ مردان پہنچتے ہی بارش کا جو سلسلہ گذشتہ دنوں سے جاری و ساری تھا مزید بڑھ گیا اور ہماری بروز اتوار سوات روانگی شدید بارش میں شروع ہوئی۔ چند کلومیٹر کا سفر طے کیا تھا کہ تخت بائی کے مقام پر بنائے جانے والے اوور ہیڈ پر بریج کی بھینٹ ہم چڑھ گئے جہاں کچوے کی چال سے ہمیں نہ صرف ڈرائیونگ کرنی پڑی وہاں اوور ہیڈ بریج کے کام کی رفتار بھی کچھ ایسی ہی تھی جسکے باعث وہاں سے گزرنے والی ٹریفک کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقیاتی کام کو دن اور رات کی ہنگامی بنیادوں پر کرکے عوام کو اس عذاب مسلسل سے فوری نجات دلوائی جائے۔ مردان سے براستہ تخت بائی ، حلالہ، شیر گڑھ، سخاکوٹ، درگئی، بٹ خیلہ، چک درہ تک کا سفر تو ہم نے پرانی سڑک پر کیا جو اب کافی بہتر ہے۔ آپریشن سے پہلے سوات تک کا راستہ نہایت ابتر تھا آپریشن کے دوران مزید خراب ہوا۔ لیکن بعد ازاں سڑکوں کو کم از کم ماسوائے بحرین کالام روڈ کے کافی بہتر کیا گیاہے۔ چک درہ سے بحرین تک ایک نئی روڈ غالبا FWOنے تعمیر کی ہے جو ایک شاندار سڑک ہے۔ جہاں داخلے سے لے کر خروج تک آرمی کے نوجوانوں کا کڑا پہرا اور دیگر سیکورٹی چیک پوسٹیں موجود ہیں جس کے باعث کسی بھی مشتبہ شخص، گاڑی کا سوات میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ ہم نے پوری وادی سوات میں اپنے چار روزہ قیام کے دوران دیکھا کہ کینٹ کے علاقوں کی طرح پاک آرمی نے پورے علاقے کو گھیر رکھا ہے سڑکوں پر موبائل گشت 24گھنٹے جاری رہتاہے۔ کسی بھی دیگر علاقے کے افراد کا داخلہ بغیر انٹری کے ناممکن ہے۔ آپریشن کے باعث وہاں کاروبار زندگی بہت تیزی سے رواں دوا ں ہے۔ زمین کی قیمت خاصل کر کمرشل پلاٹس آسمان کو چھورہی ہے۔ تفریحی مقاما ت پر دھڑا دھڑ ہوٹل، پلازے، مارکیٹیں تعمیر ہوری ہیں۔ خاص کر مینگورہ شہر میں دریائے سوات کے کنارے پر واقع علاقے ہمیں بہت پسند آئے۔ جہاں جدید ہوٹل کے علاوہ ایک فضاپارک موجود ہے جسکے بالمقابل پہاڑ کی چوڑی پر واقعہ ایک کئی منزلہ جدید ہوٹل یورپ کے کسی جدید تفریحی مقام کی یاددلارہاتھا۔ میں نے بنکاک، ابوظہبی ، دوبئی، کولاالمپور کے Beaches کے قریبی تفریحی مقامات دیکھے ہیں لیکن مینگورہ شہر میں دریائے سوات کے کنارہ کا یہ علاقہ بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ اسکے علاوہ یہاں پر تعمیر ہونے والے جدید پلازے، فلیٹس کسی بڑے شہر کی یاددلاتے ہیں۔ میں نے کئی مقامی افراد سے آپریشن سے پہلے اور بعد کے حالات کے بارے میں سوال کیا تو تقریبا کا جواب یہ تھا کہ حالات اب کافی بہتر اور حکومتی کنٹرول میں ہیں۔ ان سب کا رونا تھا کہ وادی سوات ایک سیاحتی تفریحی مقام ہے۔ یہاں کی اصل سیرگاہ کالام ہے جہاں کی سڑک بحرین سے کالام تک 50کلومیٹر آپریشن 2010ء کے سیلاب ، لینڈسلائڈنگ اور آپریشن کے باعث تقریبا ختم ہے جس کے باعث سیاحوں کی آمدروفت متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے پاک آرمی ، صوبائی و مرکزی حکومتوں سے مذکورہ سڑک کی فوری تعمیر کا مطالبہ کیا ۔ ہمارے چار روزہ قیام کے دوران جہاں بارشوں نے پوری وادی سوات کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا جس کے باعث آمدورفت اور کاروبار زندگی معطل ہوگئیں ۔ اسی دوران مرکزی حکومت کی جانب سے ممکنہ کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے خلاف بھی وادی سوات سراپا احتجاج تھی۔ سوات میں دیگر کاروبار کے علاوہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آمدورفت کیلئے ایک بڑا اور سستا ذریعہ ہے۔ تقریبا ہر گھر میں گاڑی کی موجودگی کے باعث ٹریفک اکثر جام رہتی ہے۔ اگر کسٹم ایکٹ نافذ ہوگیا تو وہاں کی عوام اس سستی سہولت کو کھودے گی جسے جو ہرگز قبول نہ کریں گے۔ انکا مطالبہ تھا کہ حکومت پہلے ہمیں تعلیم، صحت، آمدورفت، صفائی، دیگر بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرے پھر ٹیکسوں کی بات کرے۔ ان کے مطابق یہاں پر ہونے والے آپریشن کے باعث لاکھوں لوگوں کو اپنے ہی ملک میں ہجرت کرنا پڑی جس کے جھٹکے کو وہ ابھی تک سہہ رہے ہیں اور سنبھلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کئی لوگوں نے اپنی قیمتی جائیداد کو دوران ہجرت اونے پونے فروخت کردیا جس کے باعث اب وہ گھروں اور اپنی زرعی اراضی سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مزید مراعات اور سہولیات دینے کی بجائے کسٹم ایکٹ کے نفاذ کی تجویز انتہائی ظالمانہ اور نقابل قبول ہے جس کے خلاف ہر ممکن احتجاج بدستور جاری ہے اور اسمیں مزید تیزی کا خطرہ ہے۔وادی سوات کے چار روزہ قیام کے دوران ہمیں مردان میں حاجی جان محمد، محمد بلال ، مینگورہ میں ہدایت اللہ اور خوارزہ خیلہ میں عطاء اللہ وغیرہ کی مکمل سپورٹ حاصل رہی جس کیلئے ہم ان کے مشکور ہیں۔

حصہ