ہوا میں گھات لگا کر گمان بیٹھ گیا
چراغ کھینچ کے اپنی کمان بیٹھ گیا
اندھیری رات کی جانب نکل پڑا تانگہ
دئیے جلا لئے اور کوچوان بیٹھ گیا
نیاگرا سے نکلتی ہوئی کے کاندھے پر
پرندہ بھول کے اپنی اڑان بیٹھ گیا
مثالِ اشک رواں تند و تیز بارش میں
غبارِ دل کی طرح سائبان بیٹھ گیا
بس ایک چوب نکالی گئی ستارے کی
جہاں کھڑا تھا وہیں آسمان بیٹھ گیا
تمام بستی اسے روکنے نکل آئی
مرے جو پاس کوئی نوجوان بیٹھ گیا
نکالیں کیسے غلط فہمیوں کا وہ عفریت
جو آ کے اپنے کہیں درمیان بیٹھ گیا
کسی کے ایک اشارے میں اتنی قدرت تھی
بڑے سکون سے سارا جہان بیٹھ گیا
جہاں پہ طے تھی ملاقات اُس کنارے پر
نظر پڑی تو دلِ بد گمان بیٹھ گیا
جہاں ہو ڈالنا مٹی کہیں خرابے پر
کمیشن ایک وہیں میری جان بیٹھ گیا
سکوتِ شب میں کہیں ہجرِ یار بیٹھ گیا
جلا چراغ تو دل میں قرار بیٹھ گیا
اٹھا کہ آگ لگا دوں میں جا کے پانی میں
پر اتنی دیر میں دل کا غبار بیٹھ گیا
بڑے بڑوں کو قرابت نہ مل سکی لیکن
خدا کے پائوں میں خدمت گزار بیٹھ گیا
بڑے عجیب تذبذب میں صبحِ رخصت تھی
میں بار بار اٹھا بار بار بیٹھ گیا
جہاں پہ گردنیں لوگوں کی کچھ خمیدہ تھیں
بچھا کے تخت وہیں شہریار بیٹھ گیا
کسی کے دل پہ زر و مال کی حکومت ہے
کسی کے ذہن میں پروردگار بیٹھ گیا
شبوں کے میر شکاری ! اندھیرا فائر کر
وہ بام َصبح پہ آ کر شکار بیٹھ گیا
بڑھا گئے وہ دکان اپنے حسن کی منصور
خرامِ عشق! ترا کاروبار بیٹھ گیا
منصور آفاق

حصہ