غزل
(شاہدہ مجید (

آج موقع ہے جو کہنا ہے مری جاں ! کہئے
پھر نہ شاید ہو کبھی وقت مہرباں ، کہئے

اتنی قبریں ہیں امیدوں کی مرے دل میں کہ اب
شہر دل کو بھی مرے شہر ِ خموشاں کہئے

یوں تو اس شہر میں سب دوست ہیں اپنے لیکن
کس کو ہمدرد کسے درد کا درماں کہئے

تیرگی راتوں کی جھیلی ہے کہ آئے گی کبھی
صبح اک ایسی جسے صبح ِدرخشاں کہئے

سہتے آئے ہیں ستم آپ کے ہنستے ہوئے ہم
اور بھی دل میں اگر ہو کوئی ارماں , کہئے

ﺩﮬﻨﺪ ﭘﮭﯿﻠﮯ ﮔﯽ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺩﻭﺭ ﺗﻠﮏ
ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺭﺕ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻓﺼﻞ ِﺯﻣﺴﺘﺎﮞ ﮐﮩﯿﮯ

کس کے خوابوں سے سجا رکھی ہیں آنکھیں اپنی
کس کی خاطر ہے یہ پلکوں پہ چراغاں ! کہئے

حصہ