امجد طفیل بھٹی

مسلم لیگ ( ن ) کے انتہائی سنیئر رکن اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات جناب پرویز رشید صاحب نے نواز شریف کی اقتدار سے نااہلی پہ بے دخلی کا سارا ملبہ پرویز مشرف پر ڈال دیا ہے اور انتہائی مضحکہ خیز بات کی کہ پرویز مشرف کی بد روح اداروں اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے اندر ابھی تک موجود ہے۔ انہوں نے ساتھ ساتھ چوہدری نثار کے بارے میں بھی اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے مسلم لیگ ( ن ) کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور وزارت داخلہ میں ہوتے ہوئے عمران خان سے دوستی نبھائی ہے۔پرویز رشید صاحب کی میاں صاحب سے محبت اور انسیت پہ کوئی شک نہیں کر سکتا کیونکہ وہ میاں نواز شریف صاحب کے چند قریبی رفقاء میں شامل ہیں جن سے میاں صاحب اپنے دل کی بات کرتے ہیں اور اگر مشورہ درکار ہو تو وہ نہ صرف لیتے ہیں بلکہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ اب جہاں تک تعلق ہے چوہدری نثار کا تو وہ کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ میاں صاحب کو بند گلی میں دھکیلنے والے خود انکے مشیر ہیں۔ شاید یہی بات پرویز رشید کے دل پہ لگی کیونکہ وہی انکے سب سے اہم اور قابل بھروسہ مشیر ہیں۔

پرویز رشید نے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ نواز شریف کو ہٹانے کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی کر چکی تھی ، عمران خان کو تو صرف ایک مہرے کے طور پہ استعمال کیا گیا۔ لیکن شاید پرویز رشید صاحب یہ بھول رہے ہیں کہ پانامہ پیپرز تو پانامہ میں لیک ہوئے تھے اور عمران خان کا تو شاید کوئی جاننے والا بھی پانامہ میں نہ ہو۔ دوسری بات جو انتہائی اہم ہے وہ یہ کہ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ وزارت داخلہ کی سر پرستی میں بنی ہے۔ ان سب باتوں سے تو مسلم لیگ ( ن ) میں دھڑے بندی کی باتوں کو تقویت ملتی ہے یعنی کہ واقعی بڑے میاں صاحب کا گروپ الگ ہے اور چھوٹے میاں صاحب بشمول چوہدری نثار کے ایک الگ گروپ ہے۔خیر یہ بحث ایک الگ بحث ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) میں کتنے دھڑے ہیں۔ یہاں بات کرتے ہیں پرویز مشرف کی بدروح کی تو جناب پرویز رشید صاحب شاید بات کرنے سے پہلے سوچتے تھوڑا کم ہیں کیونکہ اگر وہ اپنی پارٹی کی طرف ذرا غور فرما لیں تو انہیں امیر مقام ، زاہد حامد ، شیخ وقاص اکرم ، دانیال عزیز ، طلال چوہدری ، ماروی میمن اور نہ جانے کتنی ایسی بد روحیں زندہ حالت میں ملیں گی جو کہ ایک وقت واقعی پرویز مشرف صاحب کی روحیں تھی اور جنکی زبان پہ صرف اور صرف مشرف کا ہی نام ہوتا تھا۔اور آج کل ان لوگوں کے اندر میاں صاحبان کی روحیں اتری ہوئی ہیں جو کہ ہر وقت میں اں صاحبان کے گن گانے ، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کہنے پر مجبور کرتی رہتی ہیں۔

لیکن پرویز رشید صاحب کو نہ جانے یہ مشرف صاحب کی یاد کیسے آ گئی شاید آجکل سول حکومت اور فوج کے آپس میں تعلقات پر بحث چلی ہوئی ہے تو انہوں نے بھی موقع کو غنیمت جانتے ہوئے یہ بات کر دی۔ ابھی کچھ دن کی ہی بات ہے بڑے میاں صاحب نے فرمایا کہ اداروں کے تعلقات صرف انکی ذمہ داری نہیں۔ جبکہ چوہدری نثار کے بارے میں ن لیگ میں پہلے ہی بہت تشویش پائی جاتی ہے اور یہ تا ئثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ ” فوج ” کے بندے ہیں جسکے جواب میں چوہدری صاحب بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ انہیں فوجی بیک گراؤنڈ ہونے پہ فخر ہے۔
پرویز رشید نے جہاں ایک طرف تو پرویز مشرف کی بدروح کی بات کی تو دوسری جانب چوہدری نثار پہ بھی الزام دھر دیا کہ مشرف کو باہر بھیجنے میں بھی انکا ہاتھ ہے۔ دبے لفظوں میں انہوں یہ کہا کہ ہماری حکومت تو مشرف کو سزا دینا چاہتی تھی مگر کچھ لوگ اور ادارے نہیں چاہتے تھے کہ ان کو سزا ہو۔ اب آجکل کوئی اتنا نا سمجھ بھی نہیں کہ وہ کس ادارے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

اور ایسے موقع پر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ موصوف ڈان لیکس کا ذکر نہ کرتے۔ کیونکہ وہ معاملہ بھی فوج اور سویلین حکومت کے مابین تھا اور پرویز رشید کو ہی اس کا براہ راست ذمہ دار سمجھا جاتا رہا ہے۔ اور ڈان لیکس کے بعد بنائی جانے والی جے آئی ٹی پر بھی انکے شدید تحفظات تھے ایسے ہی تحفظات پانامہ جے آئی ٹی پر۔ بھی تھے۔اور تو اور پانامہ جے آئی ٹی کے اراکین کے تانے بانے بھی پرویز مشرف سے ملانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ نہ جانے بڑے میاں صاحب کے دل سے پرویز مشرف کا خوف کب جائے گا ؟ انہیں ہر طرف پرویز مشرف ہی نظر آتے ہیں۔اگر بات کو ذرا گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ پرویز رشید کی یہ تنقید مشرف پر نہیں تھی بلکہ یہ فوج پر تھی۔اس سے پہلے بھی عمران خان کے دھرنے کے وقت اور بعد میں بھی مختلف اوقات میں عمران خان کے پیچھے کسی خفیہ ہاتھ کا ذکر کیا گیا جو کہ دراصل فوج پر تنقید ہی تھی۔

اب خواہ مخواہ میں پرویز مشرف کا نام استعمال کیا جا رہا ہے۔وہ پنجابی میں ایک کہاوت مشہور ہے جسکا اگر اردو میں ترجمہ کیا جائے تو وہ کہاوت کچھ یوں بنے گی۔
” کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو ”

بس پرویز رشید کی حالیہ تنقید بھی اسی کہاوت کی مثال ہے یعنی نام پرویز مشرف کا لیا گیا اور سنایا پاک فوج کو گیا۔اس بات سے ایک بات تو بالکل واضح ہو گئی ہے کہ بڑے میاں صاحب نے کبھی بھی فوج کے ساتھ تعلقات کو نہ تو بہتر کیا اور نہ ہی کبھی اس ضمن میں کوئی کوشش بھی کی۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ن لیگ کے دور حکومت میں فوج اور سول حکومت کے تعلقات ہمیشہ سے ہی سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔

حصہ