تنقید

صفائی نصف ایمان ہے

تحریر ۔۔۔۔احمر اکبر بورےوالہ

صفائی نصف ایمان ہے ۔یہ سوچ کر وہ روز اپنی دکان کے باہر فٹ پاتھ کو پانی کے ساتھ بار بار دھو کر صاف کرتا اور اس پر لگے لال رنگ کےدھبے اتارنے کی پوری کوشش کرتا کسی حد تک کامیاب بھی ہو جاتامگر دل ہی دل میں ان لال دھبوں کے موجد کو گالیاں بھی دیتا اور کبھی کبھی تو ایک بددعا بھی کرتا ،جب وہ صفائی کے بعد باوضو ہو کر قرآن پاک کی تلاوت سے فارغ ہو جاتا مگر شاید وہ لال دھبوں کے موجد کے پیچھے دعائیں کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی جو اس پر کوئی بددعا اثر نہ کرتی یہ سلسلہ دوسال تک چلتا رہاپھر اس کو عادت ہو گئی اب وہ صفائی تو روز کرتا ہے مگر بددعائیں ،شکوے کرنا بند کر دئیے ہیں۔ سب اللہ پر چھوڑ دیا ہے کہ پان کھا کر میری دکان کے چبوترے کو خراب کرنے والے کو اور پان بیچنے والے کواللہ پوچھے گا۔اس لیے اب وہ اپنا کام کرتا ہے کیونکہ صفائی نصف ایمان جو ہے
پاکستان کا ہر شہری پاکستان پر گہری نگاہ تو رکھتا ہے مگر وہ کر کچھ نہیں سکتا ۔شیخ رضوان صاحب کے پاس بیٹھا تو انھوں نے پورے پاکستان کی ہسٹری کھول کر رکھ دی ۔ان کے بقول پاکستان کا ہر شہری صفائی پسند ہے مگر صرف اپنی حد تک وہ چاہتا ہے اس کے رہنے اور کام کرنے والی جگہ صاف ستھری ہو ی سب کی خیر ہے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔یہ سوچ اتنی پاپولر ہوئی ہے کہ آج پورے کا پورا کراچی شہر کچرا منڈی کا منظر پیش کرتا ہے جبکہ بلدیہ اور متعلقہ محکمے بھی اس گند کو صاف کرنے سے قاصر ہیں اب اللہ کریم ہی اپنی رحمت کریں گے تو یہ کچرا صاف ہو سکتا ہے ورنہ عوام اپنے ناک پر انگلی رکھ کر منہ پر ماسک لگا کر سانس روک کر گزر جاتے ہیں سب کے اپنے گھر گیراج دکانیں صاف ہیں مگر سڑکوں پر گند پڑا ہوا ہے جو پھینکتے بھی ہم خود ہیں اور ادارہ ہونے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو ہم کہہ دیتے ہیں ہمیں کیا جناب ۔ان کو ۔اللہ پوچھے گا ،ان کو حساب دینا پڑے گا ۔اگر سب کچھ اللہ پر ہی چھوڑنا ہے تو کچھ دن اپنے گھر، آفس ،دفتر کی صفائی نہ کریں اور دیکھیں اللہ آپ کے دل میں کیسے کیسے خیالات پیدا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں تقریباً 89℅ کرپشن نہ صرف موجود ہے بلکہ ایک دلدل کی سی کیفیت اختیار کر چکی ہے جس میں ہر نیا آنے والا افسر خود بخود پھس جاتا ہے اگر کوئی ایماندار ہونے کی ایکٹنگ بھی کرے تو وہ کرپشن کا انداز بدل لیتا ہے مگر کرتا ضرور ہے اور بعض افسران کھلے عام کہتے ہیں کہ ہمارا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہے
پاکستان میں 95℅ سیاست دان کرپٹ ہیں اور باقی پانچ فی صد بھی اسی ڈر سے کرپشن نہیں کرتے کہ ابھی حالات سازگار نہیں ہیں انشاءاللہ اگلے الیکشن کے بعد کرپشن کا آغاز کریں گے ۔اب یہ سب کرپشن کرنے والے پان کھا کر جگہ جگہ تھوکنے والے کی طرح پاکستان کے ہر ادارے، کو تباہ و برباد کر رہے ہیں اور ہم سب کو اس دکان والے کی طرح ان کے روز روز کے کارنامے سن کر چپ رہنے کی عادت ہو چکی ہے ۔اب ہم کو کرپشن کرپشن لگتی ہی نہیں اب ہم ان کو بددعا بھی نہیں دیتے بس چپ کر کے رشوت دے کر اپنا کام کرواتے ہیں اور پھر اپنے اپنےکاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔کیونکہ ہم کو لگتا ہے ہم نے سماج سدھارنے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ۔ہم کیوں کسی کے چکر میں پڑیں کس کے پاس وقت ہے کہ وہ ان بدمعاشوں کے منہ لگے اور کیس بھگتے کیونکہ ہمارےملک میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کی تعداد انصاف فراہم کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ایک کرپشن اور قاتل کو ہمارے ملک میں آزاد کروانا مشکل کام نہیں ہے کیونکہ چارج شیٹ ، بیان، وقوع کی تفتیش اور پھر فائنل پولیس رپورٹ ایسی چیزیں ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوےفیصلہ کرنا ہوتا ہے اس لیے ہمارے ملک میں جرائم پیشہ افراد صرف پولیس افسران کو خرید کر انصاف کے ساتھ کھیلواڑ کر جاتے ہیں اور ہم کو لگتا ہے پاکستان کے جج بک چکے ہیں اصل میں جب پورے کی پوری ٹیم ہی ایک جانب ہو تو انصاف کرنے والا بھی اس دکاندار کی طرح اللہ پر چھوڑ دیتا ہے اور کاغذوں کے مطابق فیصلے کرنا شروع کر دیتا ہے جبکہ اسے پتہ ہوتا ہے جرم ہوا ہے قاتل اور کرپشن کرنے والا بھی گرفت میں ہے مگر وہ اپنی نوکری مفاد کی خاطر کاغذی خطوط پر فیصلہ کرتا ہے ۔یوں پورے کا پورا پاکستان گندہ کیا جا رہا ہے اور ہم سب صفائی نصف ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنے ملک سے نہ ہی گندگی صاف کر سکیں ہیں اور نہ ہی کرپشن ۔کیونکہ ہم اب اس دکاندار کی طرح عادی ہو چکے ہیں ۔ روز اتنے قتل بہونے کے باوجود وہ ایک خبر کے علاوہ کچھ بھی نہیں لگتے روز کتنی ہوا کی بیٹیوں کی عزت تار تار کی جاتی ہے مگر ہم ایک خبر سمجھ کر پڑھتے ہیں ۔۔
صفائی نصف ایمان ہے۔تو میرے بھائی اپنے گھروں سے نکلو اورسب مل کر اپنا شہر صاف کرو پھر ملک صاف کرو پھر کرپشن کرنے والے ہاتھی اس ملک سے نکالو ۔ سیاست کے لیے مت نکلو اپنے ملک کے لیے نکلو اور ملک کو صاف کرو۔ کب تک ان پان کھانے والوں کے داغ دھوتے رہو گے۔پاکستان کو پان کے داغ سے چھٹکارا صرف عوام ہی دلا سکتی ہے

Back to top button