Neelab Writer

بعض قدیم اُستاد شعرا کی وجہ سے شعرا کو آوارہ مزاج اور غیر سنجیدہ سمجھا جانے لگا تھا۔ بعد ازاں علامہ اقبال جیسے شاعر کے سبب اس تصور میں خاصی کمی واقع ہو ئی ۔ پھر بھی فلموں اور ٹی فوی ڈراموں میں شاعر کو ایک مخبوط الحواس شخص کے طور پر پیش کیا جانا ایک معمول ہے جو تا حال جاری ہے ۔ شراب نوشی کے عادی اور خوبصورت لونڈوں کی اُنگلی پکڑ کرمشاعروں میں جانے والے اساتذہ تو آج موجود نہیں ہیں لیکن شاعروں کی ایک قلیل تعداد میں آوارہ مزاجی اور غیر سنجیدہ روی کے مظاہر آج بھی موجود ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کی شکلیں تبدیل ہو گئی ہیں۔ شاعر ہمیشہ کچھ نیا کرنے وار منفرد نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ کاوش کوئی بڑی چیز نہیں ہے ۔ اگر اخلاقی حدود قیود میں رہتے ہوئے انفرادیت پیدا کی جائے تو یقیناًاُسے سراہا جانا چاہیے۔ لیکن بد قسمتی سے شاعر قبیلے میں شامل کچھ لوگ انفرادیت کے چکر میں انسانی مرتبے اور ادبی وقار کو بھی قربان کر دیتے ہیں ۔ ایک شاعر کی معاشرتی ذمہ داری عام آدمی کی نسبت بہتر زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اُ س کے افکار اور کر دار و عمل سے دوسرے لوگ اثرات قبول کرتے ہیں اور اپنے راستوں کا تعین کرتے ہیں ۔ اگر ایسا ذمہ دار طبقہ کہ جس کے اثرات قبول کئے جاتے ہوں غیر سنجیدہ روش اپنا لے گا تو معاشرتی قدریں تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں گی ۔ یشب تمنا بھی شاعروں کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے لئے جو راستہ منتخب کیا ہے وہ حیرت انگیز طور پر غیر سنجیدگی لئے ہوئے ہے ۔ ویسے اُن کی زیادہ تر شاعری تو وہی ہے جس پر فقط اعتراض اُٹھانا ممکن نہیں لیکن ان کی چند تخلیقات سے سارے کے سارے تخلیقی جو ہر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ اگر انتخاب کرتے ہوئے ایسی چیزوں کو روک لیا جاتا تو بہتر ہو تا لیکن ایسا محسوس ہو تا ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر اپنا یہ امیج بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
کتاب میں شامل نظم ’’عفریت ‘‘کی چند سطور دیکھئے :
حرص تھی آنکھوں میں میری
اور بدن نار ہوس میں جل رہا تھا
یہ مونا تھی مرے بیٹے کی بیوی۔
ہم انگلستان سے بیٹے کی شادی کیلئے
لاہور آئے تھے
وہ شادی کر کے واپس جا چکا تھا
اور ہم مونا کے ویزے کیلئے ٹھہرے ہوئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اکیلا پا کے اُس کو میں چلا آیا تو تھا کمرے میں
وہ شائد سو رہی تھی
مگر آہٹ یہ فوراً جاگ اُٹھی تھی
ذرا حیرت زدہ اور ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا تو مجھے وحشی بنانے کیلئے اتنا بہت تھا
میں بستر کی طرف لپکا
وہ شائد اب مری اگلی کہانی جانتی تھی
کسی دہشت زدہ ہرنی کی صورت
وہ کمرے سے نکلنے کیلئے
باہر کو بھاگی
میں پھیلے بازوؤں کے ساتھ
پہلے ہی کھڑا تھا
میں اُس کو تھام لینے کیلئے
اُچھلا تو سرشیشے سے ٹکرایا
چھناکا۔۔۔دھماچوکڑی ۔ ۔۔
بہت سے لوگ اندر آ چکے تھے ۔
میں اک کونے میں چپکے سے اندھیرے میں کھڑا تھا
میری بیوی نے حیرت سے مجھے دیکھا
وہ اس عفریت سے پہلے ہی واقف تھی
مگر فوراً نظر انداز کر کے ایک لمحے میں
وہ سب کے ساتھ مونا کی طرف دوڑی اسے زانوں پہ ڈالا اور بولی کوئی پانی کو لے آؤ
میں سب نظروں کو جُل دے کر نکل آیا
اس نظم کے شامل کتاب ہونے پر مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا ہے ۔ اگر یشب صا حب نے معاشرے میں موجود بے راہ روی کو موضوع بنایا ہے اور کسی جگہ پیش آنے والے واقعہ کو منظوم کیا ہے تو بھی احتیاطاً ایسے واقعہ کی تبلیغ کرنے سے گریز کرنا ہی بہتر تھا کیونکہ اُن کی کتاب ایک ادب پارہ ہے کوئی اخبار نہیں کہ اطراف میں جنم لینے والی چیز وں کو من وعن شائع کرنے کو وہ اپنا فرض سمجھتے ۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ نظم پڑھنے والا ہر سسرنا چاہتے ہوئے بھی ایک بار ضرور اپنی بہو کو ہوس زدہ نظروں سے دیکھے گا اور نظم پڑھنے والی ہر بے چاری بہو اپنے سسر سے خوف ضرور کھائے گی اور اس بے راہ روی کی تمام تر ذمہ داری یشب تمنا پر عائد ہو گی ۔ اگر یشب صا حب نے خود کو سچا اور بے باک شاعر ثابت کرنے کیلئے یہ نظم لکھی ہے بھی انہیں اس بات کا احساس ہو نا چاہیے تھا کہ اُن کی اس نظم سے ہمارے معاشرہ میں موجود رشتوں کے تقدس پر ضرب کا ری لگ سکتی ہے ۔ یشب صا حب کے اس بے باک پن کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اُ ن کی زندگی کا ایک طویل عرصہ مغربی تہذیب میں گزرا ہے اور نظم میں موجود سسر کا کردار بھی مغربی انداز کا حامل ہے ۔ مونا کی ساس بھی مغربی رویوں میں رچی بسی دکھائی دے رہی ہے وہ اپنے شوہر کی بھیڑ یا پن سے واقف ہے اور وہاں کوئی ہنگامہ کھڑ ا نہیں کرتی اور سہمی ہوئی بہو کیلئے صرف ایک گلاس پانی منگوانے پر ہی اکتفا کرتی ہے اور سسر صا حب وہاں موجود لوگون کو جل دے کر باہر نکل جاتے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ بھلے ہی نیم اسلامی ہے لیکن ہمارے ہاں بھی ایسا واقعہ یا اس کا تصور بھی ایک گالی سے کم نہیں ہے کیونکہ یہاں بہو کو بیٹی کا مقام حاصل ہو تا ہے اور ساس سسر ماں باپ کا درجہ رکھتے ہیں۔ پروفیسر قیصر نجفی اس کتاب میں شامل اپنے مضمون میں یوں لکھتے ہیں۔
’’یشب عورت کو صرف عورت کے روپ میں دیکھتے ہیں اور اگر عورت میں کسی رشتے کا رنگ جھلکتا ہو تو وہ اس رشتے سے صرف نظر کر لیتے ہیں ۔ بعض اوقات عورت کو جنسی کشش انہیں متوھش کر دیتی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہم یشب سے اتنا ضرور کہیں گے کہ ہم عفریت جیسی آپ کی کسی شعری کا وش کی تحسین نہیں کر سکتے البتہ اسے حقیقت نگاری کے جدید رجحان کی ایک نمائندہ نظم باور کیا جا سکتا ہے ۔ ‘‘
قیصر نجفی کی سطور پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اکیلی ہی اُن کے بارے میں ایسی رائے نہیں رکھتی بلکہ اور لوگ بھی یشب صا حب کے بارے میں اسی انداز سے سوچتے ہیں۔

نوٹ: نیلاب ڈاٹ کام میں چھپنے والی تحاریر سے ادارے کا متفق ہوناضروری نہیں۔

حصہ