گلاب کا پیغام۔۔۔۔(عروہ نیا زی)
اک دن!
کہا میں نے یہ گلاب سے
تو پسند ہے ھر بچے اور بڑے کی
اے گلاب! میرا ایک کام کر دے
کوئی پیغام ان کے نام کر دے
اک صبح۔۔
وہ مسکراتے ہو ئے بولا مجھ سے
میں اپنا پیغام ہر اس کے نام کرتا ہوں
جو کرتا ہے مجھے دل سے پسند
جس کی زند گی میں بھرے ہیں وفا کے رنگ
وہی توڑ نے کا حق رکھتا ہے مجھے ہر دم
میں نے کہا!
اے ہر کسی کی پسند اے پھولوں کے بادشاہ
یہ تو بتا!کس سے اور کیسی وفا۔
اس وفا کا کو ئی نام بھی تا ہو
اس کے پیچھے چھپا کوئی پیغا م بھی تو ہو
زرا کھل کے تو بتا تا کہ میں سکوں سب کو سمجھا
پہلے جیسی ادا سے!
اے انسان نہ تونا سمجھ نا نا دان ہے
یہ وفا کیا ہے ،تیرے جزبوں کی پہچان ہے
تیرے وطن کو آج ضرورت اس کیاے انسان ہے
اٹھ کہ تا ریخ کو دہرا نے کا وقت آگیا ہے
اپنی زندگی کی شمع بجھا کے وطن کے ہر زرے کو چمکا نے کا وقت آ گیا ہے۔

حصہ