ذوالفقار احمد چیمہ عہد ساز شخصیت اور نیوٹیک کاادارہ تحریر: سہیل احمد اعظمی
صحافتی، تجارتی، سماجی اور کھیل کے طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے 25سال گزر گئے ان سالوں میں بہت سے انتظامی، پولیس، آرمی افسران اور سیاستدانوں سے واسطہ تعلق رہاہے۔ سب سے تعلق صرف اور صرف اجتماعی مسائل کے حل، کرپشن کی نشاندہی اور عوام کی دادرسی کیلئے رہا۔ بہت سے اچھے ، ایماندار افسر دیکھے اور بہت برے اور کرپٹ بھی ، اچھے افسران میں کچھ افسران ایسے ہیں جن میں مجھ سمیت جہاں بھی ان کی تعیناتی ہوئی وہاں کے لوگ اور ان کے ساتھ کام کرنے والے افسران نہایت ہی اچھے الفاظ میں یا د کرتے ہیں۔ ان افسران میں سابق آئی جی پولیس نیشنل ہائی ویز، موٹر ویز ذوالفقار احمد چیمہ اور سابق ہوم سیکرٹری کے پی کے سید مظہر علی شاہ شامل ہیں۔ 532187_116584108486148_1538101677_nچیمہ صاحب ڈیرہ اسماعیل خان میں دو دفعہ بطور ڈی آئی جی جبکہ شاہ صاحب بطور ڈپٹی کمشنر اور کمشنر تعینات رہے۔ آج کاکالم ذوالفقار احمد چیمہ کی نظر ہے جن کی 8سال کے بعد ڈیرہ آمدہوئی۔ آجکل وہ (NAVTTC) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ میں Zonal Skill Competition 2016 کی تقسیم انعامات کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی اور ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے حصہ لیا۔ ان کے یہاں پرانے دوست جن میں میں بھی شامل ہوں ، کو ان کے آنے پر دلی خوشی ہوئی اور ملاقات کا موقع ملا۔ ذوالفقار احمد چیمہ جب ڈیرہ میں DIG تھے تو انہوں نے ہی یہاں پر مصالحتی کمیٹی کا سلسلہ تھانوں کی سطح پر شروع کیا ان کیلئے الگ دفتر، فرنیچر کااہتمام کیا تھانوں کے SHOs کا قبلہ درست کیا۔ انہیں اخلاقیات کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ جرائم کے خاتمہ کیلئے تمام تر وسائل استعمال کرنے پرزور دیا۔ ان کی شروع کی ہوئی مصالحتی کمیٹیوں کا نظام آج صوبہ KPKمیں DRCکی صور ت میں پھل پھول چکاہے۔ انہوں نے 2008ء کے زلزلہ کے دوران ڈیرہ سے زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے 25لاکھ کا سامان اپنی نگرانی میں متاثرہ علاقوں میں تقسیم کرایا۔ اس سامان رقم کو جمع کرنے والی 3رکنی کمیٹی کا میں بھی رکن تھا۔ ڈیرہ سے رخصت ہونے کے بعد ذوالفقار احمد چیمہ کی جہاں بھی تعیناتی ہوئی انہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں اور کچھ کر گزرنے کی عادت کے باعث جرائم او ر پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کا قلع قمع جاری رکھا۔ بعد میں انہوں نے نادرا کا قبلہ درست کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی اور اسے راہ راست پر لاکر موٹرویز ، نیشنل ہائی ویز میں انقلابی اقدامات اٹھائے ۔ ان کے بارے میں اگر یہ لکھا جائے کہ وہ جہاں بھی گئے اپنے اخلاص اور کچھ کرنے کی جستجو کے باعث لوگوں کو اپنا گرویدہ بنادیا۔ ان کی حال ہی میں ڈیرہ آمد National Vocational Technical Training Commission کے ایگزیکٹو کی حیثیت سے ہوئی۔ انہوں نے اپنے ادارے اور پاکستان میں موجود ہنر مندی کے کام کے فقدان اور اس کی طرف اپنے موجودہ انقلابی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جو کافی حوصلہ افزاء ہیں اور تاحال ہمیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کیلئے اور لوگوں کو ہاتھ کاکام سکھانے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کے دوران انکشاف کیا کہ 20کروڑ کی آبادی والے ملک کا 65فیصد کے قریب نوجوان ہیں جن میں سے 10کروڑ کے قریب بے روزگار ہیں، سرکاری نوکریاں چند ہزار افراد کو میسر ہوتی ہیں جسکے باعث نوجوان طبقہ جو ملک کی ترقی و خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے۔ تذبذب او رپریشانی کا شکار ہے۔ ان کے غلط راستوں پہ جانے کے مکمل خدشات موجود ہیں۔ ہم نے انہیں غلط راستوں پر جانے سے روکناہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی طرح صرف اچھے نمبروں والے ، یونیورسٹیوں، کالجوں میں جائیں باقی کو ہم ہنر مند بنائیں گے۔ موجودہ سال میں 50ہزار نوجوانوں اور اگلے سال ایک لاکھ کو ہنر مند بنایاجائیگا۔ 6ماہ کے کورس کیلئے نوجوانوں کو 3ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیاجاتاہے بعد ازاں ان کیلئے اندرون و بیرون ملک روزگار کیلئے بھی ہم کوشش کرتے ہیں۔ ذوالفقار احمد چیمہ نے بتایا کہ مڈل ایسٹ میں Manualکام صرف کے پی کے کے پٹھان کرتاہے لیکن دیگر ممالک کے لوگ جن میں انڈیاء، فلپائن، بنگلہ دیش، سری لنکا قابل ذکر ہیں ہم سے زیادہ معاوضہ صرف اور صرف پلمبر ، الیکٹریشن، سلائی کڑھائی، ویلڈنگ، کمپیوٹر مکینک، کوکنگ و دیگر ہاتھ کاکام جاننے کے باعث لیتے ہیں۔ ملائیشیاء، جرمنی، ترکی وغیرہ نے اپنے ممالک میں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے پرکام کیا۔ سنگاپور جو کہ صرف ایک کروڑ کی آبادی کا ملک ہے ا سنے بھی یہی کیا آج ہماری سالانہ ایکسپورٹ صرف 22ارب ڈالر ہے جبکہ انکی 570ارب ڈالر ہے۔ ممالک نے اپنی افرادی قوت ، ٹیکنیکل ٹریننگ، اعلی اور عملی مہارت، مخلص قیادت اور ایمانداری کے باعث ترقی کی لیکن ہمارے ملک میں ہاتھ سے کام کرنے والوں کو کم تر سمجھاجاتاہے۔ حالانکہ ہمارے نبی کریم ؐ کے مفہوم کے مطابق ہاتھ سے کام کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ کون اللہ تعالی کے دوست کو گھٹیا کہہ سکتاہے۔ چیمہ صاحب کے وژن کے مطابق ہم اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بناکر ملک سے بے روزگاری، غربت دونوں کو ختم کرسکتے ہیں۔ NAVTTC میں چیمہ صاحب کی قیادت کا عزم ہے کہ ہم لاکھوں نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں ان کے درمیان مقابلے کے پروگرام کرکے بہترین ہنرمندوں کو بیرون ممالک دوروں کے علاوہ انہیں نقد کیش انعامات دئیے جارہے ہیں جو کہ 25ہزار سے لیکر ایک لاکھ تک ہیں۔ ہوٹل ، مالکان، صنعتکار انہیں ملازمتیں دے رہے ہیں جو کہ ایک نیک شگون کے علاوہ حوصلہ افزاء خبر ہے۔ نیو ٹیک کے سربراہ کے عزم، جرات، اخلاص اور ان کی ماضی میں دیگر اداروں میں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ Skill Work میں ہم ترقی کریں گے۔ کیونکہ ہماری حکومتوں کے پاس بے روزگاری کو ختم کرنے کاکوئی وژن موجود نہیں ہے اب ہمارے پاس متبادل کے طورپر ہنرمندی ہی ایک ایسا کام ہے جو ملک کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کرسکتاہے۔ اس سلسلے میں بہتری اعداد و شما رسے دیکھی جاسکتی ہے۔ صوبہ کے پی کے میں2007ء میں ہنر مند افراد کی تعداد سینکڑوں میں تھی جو اب ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔ اب نیوٹیک کی سند کے حامل نوجوانوں کو دنیا بھر میں روزگار ملنے کی توقعات ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے پولی ٹیکنیکل اداروں میں نقل کے رحجان کی طرف بھی تو جہ دینے کی ضرور ہے۔ جہاں پریکٹیکل کام دن بدن سکڑتا جبکہ نقل کا رحجان پروان چڑھ رہاہے۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام نقل اور بوٹی مافیا کے سدباب کیلئے بہت ضروری ہے۔ ذوالفقار احمد چیمہ کی ڈیرہ سے اسلام آباد واپسی کے دوران ہی انہیں چترال سے اسلام آباد آنے والے طیارے کے حادثے کی اطلاع ان کی بہن کے ذریعے ملی ۔طیارے میں ان کا بھانجا ڈی سی چترال اسامہ وڑائچ ، انکی اہلیہ اور بیٹی بھی شہید ہوگئے۔ اسامہ وڑائچ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں اپنے ماموں کے نقش و قدم پر چل کر عوام کی خدمت میں مصروف تھا اور بے پناہ صلاحیتوں کا ملک سو ل سروس کا چمکتا دمکتا ستارہ تھا۔ جس کی ناگہانی موت نے تمام خاندان کو غمگین کرنے کے علاوہ چیمہ صاحب کے تمام دوستوں کو بھی مغموم کردیاہے۔ بہرحال آئی ہوئی موت کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر و جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

حصہ