افضل عاجز کا اعجاز
(بفرمائش میانوالی میانوالین )
افضل عاجز کا فن اور شجصیت موسیقی جاننے والوں کیلئے اس لحاظ سے حیرت کا باعث ھے کہ موسیقی کے کسی گھرانے سے تعلق یا موسیقی کی باقاعدہ تعلیم کے بغیر علاقائی موسیقی میں کچھ شاہکار لافانی دهنیں اور نغمے اس نے کیسے تخلیق کئے – مجھے 90 کی دہائی یاد ھے ، اس وقت اسلام آباد ریڈیو سے میرے روزانہ کے پروگرام سوغات میں پروگرام کا آخری نغمہ عطااللہ خان عیسی خیلوی کا ھوتا تھا اور محسوس ھونے لگا تھا کہ لالہ کے پاس ناولٹی اور نغمات کی تازگی ختم ھو رھی ھے – انہی دنوں میں اوپر تلے افضل عاجز کی کچھ میوزک کمپوزیشنز سامنے آئیں جن سے عطااللہ خان عیسی خیلوی کی گائیکی کو نئی توانائی ملی اور لالہ کے ان گیتوں کی دھوم بالی وڈ تک مچ گئی – آج بھی بالی وڈ کے کئی گیتوں میں ان دنوں کے چربے سننے کو ملتے ہیں – میں پہلی بار اس موقع پر افضل عاجز کے فن سے متاثر هوا اور میں نے افضل عاجز کو ایک ملاقات پر اپنی رائے دیتے ھوئے بتایا تھا کہ لالہ کی اس دور کی موسیقی نے جو خوبصورت انگڑائی لی ھے ، وہ عاجز کے دهنوں کی مرہون منت ھے – بڑے گلو کاروں کے عظمت کے دئیے میوزک کمپوزر کے خون جگر سے جلتے ہیں اور لالہ کی ان دنوں کی کامیابی میں افضل عاجز کے کردار کو بھلایا نہیں جا سکے گا —
کمال شاعر اور میوزک کمپوزر ھونے کے علاوہ افضل عاجز انسانی سطح پر بہت پیار کرنے اور تعلقات کو نبھانے والا انسان ھے – میں اکثر اسے افضل عاجز کی بجائے افضل اعجاز کہتا هوں ، کیونکہ مزاج میں عاجزی اور فن میں دسترس نے اس کو شخصیت کو اعجاز عطا کر دیا ھے –
میں اس کی مزید کامیابیوں کیلئے دعا گو هوں – اس کی ترقی اور کامیابی میانوالی کے فن اور لوک رس کی کامیابی کی داستان ھے —
(یہ چند کلمات میانوالی میانوالین کی فرمائش پر ان کی ویب سائٹ کیلئے لکھے گئے – جی چاہا کہ ان تعارفی کلمات میں آپ کو بھی گواہ بنا لوں – بہت شکریہ ) —

حصہ