سکندر آباد میانوالی میں شریف اکیڈمی کی ساتویں سالگرہ کی پُر وقار تقریب
پروگرام کی صدارت ڈاکٹرلبنی آصف نے کی
پروگرام کے پہلے حصے کی چیف گیسٹ محترمہ ڈاکٹر عالیہ قیصرجبکہ مسزعامر فیروز،مسزفوزیہ ریحان مہمانِ اعزاز تھیں
مشاعرے کی مہمان خصوصی محترہ پروفیسر رابعہ بتول اورمہمان اعزاز محترمہ بلقیس خان اورمسز فرزانہ یاسمین تھیں
نظامت کے فرائض محترمہ عفت برجیس نے ادا کئے
علم کی شمع روشن کی گئی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور اسناد حسن کارکردگی پیش کی گئیں
ڈاکٹر آصف مغل نے تقریب کا اہتمام کیا
شفیق مرادچیف ایگزیکٹو شریف اکیڈمی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا
(ڈائریکٹرمیڈیا میانوالی )میانوالی سکندر آباد میں شریف اکیڈمی جرمنی کی تقریب 29مارچ 2016کی پُر وقار تقریب منعقد ہوئی ۔تقریب کی پہلی نشست میں سالگرہ کی تقریب اور دوسرے حصے میں مشاعرہ منعقد ہو ا۔پروگرام کا آغازباقاعدہ تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا ۔محترمہ عفت برجیس( لکچرار اردو)نے محترمہ رخسانہ بی بی کو تلاوت کلامِ پاک کی دعوت دی ۔جنہوں نے محفل کو کلام الہی سے معطر کیا ،بارگاہِ رسالت ﷺمیں نذرانہ عقیدت پیش کرنے کی سعادت محترمہ صفیہ گُل کو نصیب ہوئی ۔جنکی پُر سوز مترنم آواز نے سماعتوں میں رس گھولا۔اسکے بعد شریف اکیڈمی کی روایت کے مطابق دنیا بھر میں فروغِ علم و ادب کے عزم کے اظہار کے طور پرمحترمہ ڈاکٹر لبنی آصف صدر محفل نے اپنے دستِ مبارک سے علم کی شمع روشن کی ۔تمام حاضرین مجلس نے کھڑے ہو کر بھر پور تالیوں سے علم و ادب کے فروغ کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر لبنی آصف نے فروغ علم کی اہمیت و افادیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قوم کی ذہنی ترقی ،معاشی استحکام اور معاشرتی اصلاح کے لیے علم اور حصولِ تعلیم بے حد ضروری ہے ۔علم کی روشنی دل کو معطر اور ذہن کو کشادہ کرتی ہے ،زیورِ تعلیم سے ہی انسان ،علم ، شعور اور تہذیب اخلاق سے آراستہ ہوتا ہے ۔شریف اکیڈمی کی روایت کے مطابق پروگرام کے آغاز میں علم کے نور سے دنیا کو منور کرنے کے اظہار کے طور پر شمع روشن کی گئی ۔ یہ علم کی شمع جو آج ہم نے روشن کی ہے ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ یہ شمع پاکستان کے پاکستان کے چپے چپے میں روشن ہو۔اور ہمارا ملک اور ہماری قوم علم کی روشنی سے اپنی تقدیر سنوار سکے ۔تمام اہل قلم اور اہل بصیرت احباب کو چاہئے کہ علم و ادب کے اس قافلے میں ہمارے شانہ بشانہ چلیں ۔تاکہ ہم علم کی اہمیت سے اپنی قوم کو آگاہ کریں ۔اورعملی طور پر یہ ثابت کریں کہ قوموں کی تقدیراسی وقت سنورتی ہے جب قومیں خود ،ہمت و استقلال کے ساتھ اپنی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کرتی ہیں ۔
اسکے بعد سٹیج سیکریٹری محترمہ عفت برجیس نے تقریب کی مہمانِ خصوصی محترمہ ڈاکٹر عالیہ قیصر (چائلڈ سرجن، مدیر اعلی ماہنامہ سوجھلا،ڈائریکٹر شریف اکیڈمی میانوالی)مسزعامر فیروز(بیگم چیئر مین میپل لیف فیکٹری اسکندر آباد )اور محترمہ فوزیہ ریحان (پرنسیپل ’’دی ایجوکیٹر ‘‘سکندر آباد کیمپس )کو سٹیج پر آنے کے دعوت دی جنہوں صدر مجلس کے ساتھ ملکر سالگرہ کا کیک کاٹا ۔پسِ منظر میں سٹیج سیکڑیٹری عفت برجیس نے دعائیہ نظم پڑھی
؂نئے دوست نئی زندگی مبارک ہو
تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو
شریف اکیڈمی کے اغراض و مقاصد بیان کرنے کے لئے محترمہ عابدہ فیض کو دعوت دی گئی نجہوں نے انتہائی مؤثر طریقے سے بیان کئے اور صدر محفل محترمہ ڈاکٹر لبنی آصف کا شکریہ ادا کیا ۔اکیڈمی کی سالانہ رپورٹ محترمہ سعدیہ بخاری نے پیش کی ۔بعد ازاں محترمہ ڈاکٹر عالیہ قیصر دعوت دی گئی ۔انہوں نے اپنے دستِ مبارک سے اکیڈمی کے نئے ممبران کو اعزازی اسناد پیش کیں جبکہ مسز عامر فیروزنے شریکِ محفل خواتین کو شمولیت کے سرٹیفیکیٹ پیش کیے ۔ صدر محفل محترمہ لبنی آصف نے اپنے دست مبارک سے مہمان خصوصی اور مہمانانِ اعزاز کو اکیڈمی کی جانب سے سرٹیفیکیٹ آف آنر پیش کیے ۔پروگرام کی پہلی نشست کے آخر میں مہمانانِ خصوصی اور صدر محفل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نیک تمناوں کا اظہار کیا ۔
پروگرام کا دوسرا حصہ مشاعرے پر مشتمل تھا ۔اس نشست کے آغاز میں سانحۂ گلشن اقبال پارک لاہور کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کروائی گئی۔سٹیج سیکریٹری محترمہ عفت برجیس نے اپنی غزل سے مشاعرے کا آغاز کیا ۔
؂اندھی نگری میں اب عفتؔ
سچ کی جوت جگاوں کیسے
اس کے بعد ڈاکٹر عالیہ قیصر نے سانحۂ گلشن اقبال لاہور کے حوالے سے پُر سوز نظم پیش کی ۔ اور ایک نظم خواتین کے حوالے سے بھی ناظرین کی نذر سماعت کی ۔اس کے بعد موضوعاتی شاعری پر دسترس رکھنے والی شاعرہ محترمہ منتہی فاطمہ نے سانحۂ لاہور کے موضوع پر نظم’’تماشا‘‘ پیش کی ۔فوزیہ رشید نے نعتیہ کلام پیش کر کے محفل کو معطر کیا ۔سیائسیاانٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ آرٹس کے انٹر کالجیٹ اور انٹر یورنیورسٹیز مشاعروں میں شرکت کرنے اور غزل میں اول انعام حاصل کرنے والی طالبعلم شاعرہ عزیزہ مناہل آصف کو دعوت کلام دی گئی اس شعر کو سامعین نے بہت پسند کیا
؂ اس تعلق کو محبت تو نہیں کہہ سکتے
ایک دیوار کھڑی ہے کسی دیوار کے ساتھ
۔اس کے بعد محترمہ بشیراں ریاض نے اپنا منظوم کلام پیش کر کے محفل کو زعفران زار بنا دیا ۔سعدیہ صاحبہ ، رخسانہ صاحبہ ،راحیلہ صاحبہ اور زینب صاحبہ نے اپنا کلام پیش کیا ۔ طاہرہ جمیل نے اپنے مخصوص رومانوی انداز میں عورت کے موضوع پر نظم پیش کی ۔اسماء یاسین نے کے اس شعر کو بہت پسند کیا گیا ۔
؂کیا کسی کو برا بھلا کہنا
بات ساری مقدروں کی ہے
محترمہ فرزانہ یاسمین مہمان اعزاز نے وطن کی محبت کے حوالے سے انگریزی زبان میں اپنا کلام پیش کیا ۔پروفیسر رابعہ بتول (گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میانوالی)جو مشاعرہ کی مہمان خصوصی بھی تھیں دعوت سخن دی گئی جنہوں اپنے مخصوص انداز میں اپنا کلام پیش کر کے داد و تحسین حاصل کی ۔صدر مشاعرہ ڈاکٹر لبنی آصف نے کلام پیش کر کے محفل میں قوس قزح کے رنگ بکھیر دیئے۔
تقریب کے آخر میں محترم ڈاکٹر آصف مغل ریجنل ڈائریکٹر شریف اکیڈمی جرمنی جنہوں نے انتہائی خلوص اور محبت کے ساتھ اس قدر پُر وقار تقریب کا اہتمام کیا ۔جو قادرالکلام شاعر بھی ہیں ۔تشریف لائے اور تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔اور مہمانوں کے اصرار پر اپنی معروف غزل پیش کی
؂خاک بس خاک ہے اور خاک سے آگے کیا ہے
کوزہ گر کچھ تو بتا چاک سے آگے کیا ہے
ڈاکٹر آصف صاحب کی جانب سے تمام شرکاء کی پُر تکلف ہائی ٹی سے تواضع کی گئی ۔اس طرح یہ بارونق تقریب اپنے اختتام کو پہنچی جس میں اسکندر آباد کے علاوہ میانوالی،کالا باغ اور داؤد خیل سے خواتین کی بھاری تعداد نے شرکت کی ۔

علم کی شمع سے شمع جلائیں اور دنیا کو علم کے نور سے منور کرتے چلے جائیں
شریف اکیڈمی ۔جرمنی
شعورِ ذات وراثت میں چھوڑ جاؤں گا
کمالِ ذات کی تشجیر کر کے دیکھوں گا

حصہ