ماہ مقدس میں لوڈشیڈنگ ، بجٹ اور بنیادی مسائل تحریر: سہیل احمد اعظمی
ماہ رمضان ، شدید گرمی اور حکومتی دعوؤں کے باجود لوڈشیڈنگ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ میں اضافہ ساتھ ساتھ شروع ہوچکے ہیں۔ بجٹ کا اعلان بھی ہوچکا ، وہی اعداد و شمار کا ہیر پھیر۔ رمضان کا مہینہ برکتوں، رحمتوں، عفو و درگزر ، صلہ رحمی کا مہینہ ہے لیکن اللہ کی رحمت تو ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے لیکن ہم اپنی بداعمالیوں ، کرپشن، جھوٹ او رمفاد پرستی پر مبنی سیاست کے باعث گھر آئی رحمتو ں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ماہ رمضان میں ایک حدیث پاک ؐ کے مفہوم کے مطابق اللہ تمام گناہ گاروں کے گناہوں کو معاف کرکے ان کی بخشش کردیتاہے لیکن ایک والدین کے نافرمان، شرابی اور قطع رحمی کرنے والوں کی نہیں کرتا۔ ایک اور حدیث پاکؐ کے مطابق صحابہ کرامؓ نے حضور ؐ سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ مسلمان زانی ہوسکتاہے، آپ نے فرمایا ہاں، شرابی ہوسکتاہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں، جھوٹا ہوسکتاہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ مسلمان کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں ، عوام کا وطیرہ بن چکاہے جھوٹ بولنا، قدم قدم پہ جھوٹ اب ہماری رگ رگ میں پیوست ہوچکاہے۔ ہمارے حکمران اور سیاستدان اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگ جھوٹ کو سچ سمجھنے لگیں۔ موجودہ حکمرانوں کی گذشتہ چار سالوں کی تمام تر برائیاں اور اچھائیں ایک طرف لیکن توانائی ، بحران، خاص کر لوڈشیڈنگ، واپڈا کے ظلم و ستم نے ان کی تمام تر اچھائیوں پہ پانی پھیردیاہے۔ آج اگر ملک میں ناپسندیدہ ترین کوئی حکمرانوں میں سے سیاستدان ہے تو خواجہ آصف او رعابد شیر علی ہیں دنوں حضرات مسلم لیگ(ن) کیلئے سوتیلی ماں والا کردار ادا کررہے ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے نواز شریف کو کسی قسم کی اپوزیشن اور مخالفت کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ یہ کردار وہ بخوبی نبھارہے ہیں۔ بڑی ڈھٹائی سے 50ڈگری سنٹی گریڈ کی شدید گرمی ماہ رمضان کے دن میں جھوٹ بولتے ہیں کہ شہروں میں 6گھنٹے اور دیہاتوں میں 8گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ شاید پنجاب میں ایسا ہورہاہو لیکن دیگر تینوں صوبوں بالخصوص کے پی کے میں ایسا نہیں ہورہا۔ جبکہ اسلے الٹ یعنی صرف چار سے آٹھ گھنٹے بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ ماہ مقدس میں لوگ ہاتھ اٹھا اٹھاکر دونوں وزراء اور ان کے حکمرانوں ، واپڈا کے کرپٹ افسران و عملے کوبددعائیں دینے میں مصروف ہیں۔ ہماری بدقستی ہے کہ ہمارے ذمہ دار وزراء اصل حقائق سے یا تو لاعلم ہیں یا وہ جاننا نہیں چاہتے ان کے کرپشن سے لبریز سسٹم جس میں ناقص بوسیدہ تاریں اور لوڈ ٹرانسفارمرز ، بھتہ خوری، چوری، نااہل افسران وعملے کی تقرریاں، سیاسی عمل دخل، اربوں روپوں کے بقایا جات اور دیگر خرابیوں کی سزا کب تک عوام بھگتتے رہیں گے۔ عوام کو یہ بڑی آسانی سے چور کہہ دیتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داریوں کو کیا یہ وزراء ، حکمران اور ان کی حلیف جماعتیں ایمانداری سے پورا کررہے ہیں۔ ہرگز نہیں انہیں نہ تو اپنی ذمہ داریوں کا پتہ ہے اور نہ ہی احساس ۔ یہ بے مروت بے حسن حکمران طبقہ یہ سمجھتاہے کہ ہم ہمیشہ پیسوں کی چمک دمک اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو بہلا پھسلا کر ووٹ لے لیں گے لیکن آجکل کا دور الیکٹرانک چینل او رسوشل میڈیا کا دور ہے انہیں پل پل کی خبریں مل رہی ہوتی ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ ہم نے گذشتہ الیکشن مہم میں کشکول توڑ کر ملک کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے اور بجلی کے بحران سے عوام کو 6ماہ میں نجات دلوانے کا وعدہ کیا برسر اقتدار آنے کے بعد بالکل الٹ ہوگئے۔ انہوں نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ گذشتہ چار سالوں میں وصول کرکے 21کروڑ عوام کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی بینک کے پاس گروی رکھ دیا۔ اس پر بھی بس نہ کی اپنے اداروں کو بھی گروی رکھ کر قرض پہ قرض لے کر اپنی من پسند ترجیحات پر ضائع کیا عوام کے بنیادی مسائل جن میں بجلی، پانی، گیس، صحت، تعلیم، روزگار قابل ذکر ہیں جو ں کے توں ہیں۔ 21کروڑ کی آبادی والے ملک میں جب تعلیم کا بجٹ صرف 2ارب 96کروڑ روپے ، صحت کا 55ارب 40کروڑ روپے ساتھ ہی 120ارب روپے کے نئے ٹیکسز بھی لگادیئے جائیں تو 15ہزار کی اجرت بھی اگر مزدور کو مل جائے تواسکا چولہا ٹھنڈا ہی رہیگا۔ کیونکہ اسکے آدھے پیسے تو بجلی، گیس، تعلیم، صحت پر خرچ ہوجاتے ہیں کھائے گا وہ کدھر سے؟ ملک میں گذشتہ چار سالوں میں مہنگائی جس تناسب سے بڑھی ہے ۔ اس تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ نہ ہوا۔ ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی بھرمار نے ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کردیا خاص کر بجلی، ادویات، اشیائے خوردنی کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ چار سال قبل زرداری دور کا موازانہ اگر نواز شریف دور سے کیا جائے تو کئی سو فیصد اضافہ ہوا ہے حالانکہ پیٹرول ، ڈیزل، مٹی کے تیل کے نرخوں میں کئی گناہ کمی ہوئی ہے لیکن اسکا فائدہ عام صارف دینے کی بجائے حکومت فائدہ اٹھارہی ہے۔ قرضوں پہ قرضے بھی لے رہی ہے لیکن عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کا شاید اپنے دور حکومت کا آخری رمضان ہو انہیں چاہئے کہ وہ اللہ کا خوف کریں اپنے اداروں خاص کر واپڈا، گیس، صحت، تعلیم کی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ نااہل ، باتونی وزراء سے نجات حاصل کریں ۔ عوام کو بجلی چور، ٹیکس چور کہنے کی بجائے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ وہ خود کتنے چور ہیں؟ اگر عوام میں چور موجود بھی ہیں تو انکا پکڑنا کس کی ذمہ داری ہے۔ جب ہمارے حکمران خود اربوں کے اسکینڈلز میں ڈوبے ہوئے ہوں تو وہ چور چو رکی آواز بلند کرکے اپنی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹاکر دوسری طرف پھیرناچاہتے ہیں۔ رمضان کے مقدس ماہ میں لوڈشیڈنگ کم کرنے کا وعدہ بھی حکمران پورا نہ کرسکے، سحری و افطاری، تراویح کے دوران لوڈشیڈنگ ، ٹرپنگ ، کم لوڈ کا سلسلہ حسب معمول جاری ہے لوگ دل سے بددعاؤں میں مصروف ہیں دیکھیں ان کی دعاؤ ں کا اثر کب بے حس کرپٹ حکمرانوں سے عوام کو نجات دلواتاہے۔تنگ آمد بجنگ آمد عوام نے احتجاج، دھرنا ، عوامی نمائندوں کے ہمراہ گرڈ سٹیشن پر قبضہ، توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع کردیاہے۔ پشاور، مالاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان و دیگر علاقوں میں عوام کا سمندر، تاجر برادری، وکلاء، مزدور، کسان، ناظمین، کونسلرز، سیاسی کارکنان کے ہمراہ سڑکوں پر ہیں لیکن حکومت کی وہی پرانی رٹ کہ بجلی کے چور احتجاج کررہے ہیں۔ حکمرانوں کا یہ رویہ ملک کو انارکی کی طرف لے جارہاہے جس کی تمام تر ذمہ داری پانامہ زدہ حکمرانوں پہ ہوگی۔

حصہ