سماجیات

چھوٹی عید یا چھوٹی سی قیامت . تحریر محمد راشد عمران

ایک دیھاڑی دار جو روز رزق کی تلاش میں نکلتا ہے اور اندھیرا ہونے سے پہلے لوٹنے کی فکر کرتا ہے۔ وہ دن میں کئی چھوٹی چھوٹی آزمائیشوں سے سر ٹکراتا ہو ا د ن کے سخت اوقات کو چیرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اسکے اعصاب کئی بار بغاوت کرتے ہوئے آپے سے باہر ہوتے ہیں پھر ذہن کے بہکاوے میں آجاتے ہیں کہ اس نے گھر جانا ہے اور اپنی چھوٹی سی کائنات کا پیٹ بھرنا ہےان کی پرورش کی فکر میں وہ نجنانے کتنے عذاب روز کے سہتا ہے۔ کبھی رویوں کا شکار ہوتا ہے کبھی طعنے سنتا ہے کبھی گولیوں جیسی گالیوں کی برس پہ اپنی روح چھلنی کرتا ہے۔ یہ روزی کا متلاشی کردار ہمارے معاشرے کی بہت بڑی حقیقت ہے۔ جب بھی رمضان کریم کی سعادتوں کے لمحات آتے ہین خود اس دیھاڑی دار کے ہم مرتب ہم شکل اور ہم زات جونک بن کر چمٹ جاتے ہیں اور پورا مہینہ خوں چوسنے کی رسم ہوتی ہے۔ خیر و برکت والے اس ماہ مقدس میں بے ضمیر ی اور خود سری بے لگام ہو کر ان دیھاڑی داروں کو “نرخ” تلے روند ڈالتی ہیں۔ روز شام کی افطاری تک کے لیئے انہیں جینا ہے اور پھر اگلے دن کی مشقتوں تک کے لیئے مر جانا ہے۔ ان کا تحفظ کس کے ذمہ ہے؟ کون ان کے درد کی شدت کو کم کرسکتا ہے؟ کیا مخیر حضرات پورا دن ان کے پسینے کی خیرات بنا کر پھر ان میں ہی تقسیم کریں گے؟ کیا انہیں پورے پسینے کی خیرات ملتی ہے؟ یا شام کو پسینے کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور پیٹ کا ایندھن مہنگا ہو جاتا ہے۔اس مہینے میں وہ خدا واحد کی نعمتوں کو خود اپنے ہاتھوں سے ادھر ادھر منتقل کرتےہیں طرح طرح کے پیکٹوںمیں اور تھیلوں میں بند کرتے ہیں مگر ان پہ حق نہیں رکھتے ان کی قیمت ادا کرنے کے وہ متحمل ہی نہیں ہوتے۔ وہ ثواب کی خاطر تقسیم ہونے والی افطاری پہ ہی اکتفا کر سکتےہیں جس میں پھلوں کی کئی اقسام قلیل مقدار میں شامل ہوتی ہے اس پہ بھی انکے بچے لڑتے ہیں کیونکہ وہ سب میں یکسان تقسیم نہیں ہو سکتی ۔ اس صورت میں بھی جو تگڑا ہے اس کے حصے میں زیادہ آئے گا جو زیادہ جھپٹ سکتا ہے وہی زیادہ کھا سکتا ہے۔ دنیا اتنی مہذب ہو کر بھی ابھی چھینا جھپٹی کی اس بنیاد سے آگے چھلانگ نہ لگا سکی۔ کوئی نظم و ضبط اس حرکت کو نہیں بدل سکا۔

ہمارے جیسے معاشروں میں اقدار اور اخلاقیات کا خوب چرچا اور کافی دعوی ہے مگر یہاں بے رحمی اور سفاکی اپنی انتہائی شکل میں موجود ہے۔ اتنے با برکت اور پر فضیلت ماہ میں بھی ہم اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو بڑھاوا دینے کے لیئے بازار سے غائب کر دیتے ہیں پھر جب ان کی قلت ہوتی ہے تو خوب دام وصول کرتے ہیں اور لوگ بے بس ہو کر جیب خالی کرتے ہیں۔ آزمایشوں کے اس مہینے کی انتہا عید کے ایام ہیں جو دیھاڑی داروں کے لیئے ایک چھوٹی سی قیامت کی نوید لے کے آتے ہیں۔ اس خوشی کے موقع پہ وہ چھٹیاں کر تے ہیں اور ان چھٹیوں میں لیا گیا قرض وہ اکثر مہینوں تک اتارتےہیں۔ ان کی یہ تلخیاں اس تہوار کو قیامت جیسا بنا دیتی ہیں۔ خالی جیب اور خالی پیٹ کو جب اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہے تو وہ خاموش رہ کے سر ہلا دیتے ہیں جب انہیں صبر کی تلقین کی جائے تو وہ اس پہ راضی معلوم ہوتے ہیں لیکن انکے اندار جو آگ جل رہی ہوتی ہے وہ ان کی خاموشی میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی عید کی خوشیاں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ان کےبچے جب اپنے ہم عمر بچوں کو قیمتی لباس زیب تن کیئے دیکھتےہیں خوشنما لباس اور پر کشش پہناوے جب انکی نظر سے گزرتے ہیں تو ان میں موازنے کی قابلیت خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ کئی لا جواب کرنے والے سوال ابھرتے ہیں اور زبان تک آنے سے پہلے ہی اندر جلتی آگ میں بھسم ہو جاتے ہیں۔ یہ بے اختیار لوگ اور انکے بے الفاظ سوال یوں ہی پیدا ہوتے ہیں اور جلتے ہیں۔ خالی پیٹ کو اخلاقیات کے جتنے درس دیئے جائیں، دو مختلف زندگیوں کے ان تضادات کو جتنا بھی بھائی چارے کا رنگ دیا جائے یہ سب کشمکش کے نتیجے پہ ہی پہنچتے ہیں یہاں عید کی رونقوں اور مسرتوں کے تمام رنگ پھیکے ہیں اگر یوں بڑی اکثریت اس حق سے محروم رہے۔ ہمیں عید کے چند دنوں میں زندگیان باٹنی پڑیں گی ہمیں شاید اپنی زندگیوں کے حصے کرنے پڑین گے اور ان حصوں میں اوروں کو شامل کرنا پڑے گا۔ ہم انسان اگرمسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو ہمیں بھائی چارے کی وہی رسم ادا کرنی پڑے گی جو ہجرت مدینہ کے وقت ہوئی۔ ان دیھاڑی داروں کو ان خوشیون سے متعارف کرانا پڑے گا جن کو دیکھ دیکھ یہ اپنی حسرتون اور ارمانوں کی آگ میں اپنےخواب سلگاتے ہیں۔ نفرتوں کی بجائے محبت کے پیغام کو پھیلانے کانادر موقع یہی تہوار ہوتےہیں۔ ایسے موقعون پہ اپنی زاتیات کا دائیرہ وسیع کیا جاسکتا ہے اور اس کے اندار انہیں بھی شامل کیا جا سکتا ہے جن کی طرف ہماری نگاہیں بس پل بھر کے لیئے اٹھتی ہین اور پھر گویا فریضہ ادا کر کے پلٹ آتی ہین۔ محبت کی آبیاری ہو گی تو اس درخت کا سایہ ہمارے آنے والی نسلوں کو نصیب ہو گا۔ مفاد پرستی اور خودغرضی کی ترغیبات کو رد کر کے ہی ہم انسانیت جیسے عا لمگیرموضوع کی حمایت کر سکتے ہیں۔ ہمارے آس پاس جہاں جہاں خوشیوں کی طلب ہے ہمیں وسیع دل سے بانٹنی ہیں۔ ہم نے بٹورنے کی ریت کو بانٹنے میں تبدیل کرنا ہے۔ وہ تمام افراد جوعید جیسے تہوار ایک قیامت کی طرح جھلیتے ہین اس بار کوشش کرنی ہے کہ ان کو ایک تبدیل شدہ تصور ملے وہ بچے جو کئی طرح کی محرومیوں کو بھگت رہے ہیں انکا ہاتھ تھام کے برابر کے شہریوں کا احساس دینا ہے۔ بیگانگی جیسے آفریت سے خود کو بچانے کا یہی طریقہ شاید اس موقع کے لیئے موزوں ہے۔ ہمارے خطے کی مٹی کی زرخیزی پہ شک نہیں ہے بس ہمیں ان ان چھوٹی چھوٹی قیامتون کو برپا نہیں کرنا۔ ماہ مقدس اور اس کے اختتام پہ عید کی خوشی کو سب کے لیئے “ہم سب” نے ممکن بنانا ہے۔

Back to top button