کیا پاکستان بوڑھا ہو چکا ہے؟؟؟

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر اکبر
کل اچانک طبیعت ناساز ہوئی تو ڈاکٹر نے آرام کا مشورہ دیا جو ہم نے قبول کرتے ہوے ایک دن گھر میں بچوں کے ساتھ گزارنے کا ارادہ کیا ۔کیونکہ گھر میں میں سے بڑا ہوں اس لیے تمام فیملی (جوائنٹ فیملی )کے بچے مجھے پاپا کہہ کر پکارتے ہیں اب بیگم بچے بھاتیجے الغرض گھر کے ہر فرد نے نہ صرف تیمارداری کی بلکہ اپنے طریقے سے میرے درد میں شریک ہوے ۔گھر میں کل ملا کر 14 افراد تھے جن کی محبت اور تیمارداری کی وجہ سے مجھے حوصلہ ہوا اور میں ایک ہی دن میں صحت مند ہو گیا ۔پوری فیملی کو لگتا ہے کہ پاپا ہمارے پالن ہار ہیں ہمارے لیے دن رات محبت کرتے ہیں اس لیے وہ ایک خاص قسم کا انس رکھتے ہیں ۔الغرض میرے گھر کے چودہ افراد نے مجھے ٹھیک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
اب بات کرتے ہیں پاکستان کی پاکستان ہمارا ملک ہے ۔ ہم کو آزادی کی نعمت کے ساتھ ساتھ عزت، دولت، شہرت ،سب کچھ پاکستان سے ملا ہے پاکستان ہی ہماری پہچان ہے پاکستان کی وجہ سے ہم پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں الغرض پاکستان ہمارا ان داتا ، ہے ہماری جنم بھومی ہے ہمارا باپ ہے اورہم سب پاکستانی اپنے ملک کے سپوت ہیں جس باپ کے بیس کروڑ بیٹے اور اولادیں ہوں اور ہر ایک شخص اپنی جگہ پر خوش ہو ظاہری اور باطنی طور پر متوازن ہو اس باپ کی حالت غیر ہو تو بچوں کا فرض کیا ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ یہ مجھے آج آپ سے پوچھنا ہے ؟
ستر سال کا بوڑھا پاکستان اب چلنے سے قاصر ہے اس کی بیس کروڑ سے زائد اولاد نے پاکستان کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جو خالص اللہ کے نام پر حاصل کی گئی ہے ۔ستر سال بعد بھی پاکستان ہم سب کو دولت عزت شہرت سب کچھ مہیا کرتا ہے مگر کسی بھی فرد اور پاکستان کے سپوت نے کبھی اس بوڑھے باپ سے نہیں پوچھا کی ہم اس کا حق کیسے ادا کریں ۔۔۔ ہم قرض کیسےاتاریں ؟ایک باپ ہونے کے ناطے پاکستان کو بھی ہم پر مان تھا کہ میرے اتنےبچے ہیں وہ مجھے سنبھال لیں گے ۔پوری دنیا میں میرا نام روشن کریں گے مگر یہ کیا پاکستان کے تمام بیٹے اپنی اپنی جیبیں بھرنے میں لگے ہوے ہیں کسی کو بھی اپنے بوڑھے باپ کی فکر نہیں کہ وہ کیا چاہتا ہے ۔سیاستدان اپنا مفاد نکالتے ہیں ۔ڈاکٹروں نے اپنی چھری تیز کر رکھی ہے اپنے ہی بہن بھا ئیوں کو کاٹ کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں ۔دکانداروں نے مہنگائی کا بے قابو جن آزاد کر رکھا ہے حکومت اپنے کالے کرتوت چھپانے میں مصروف عمل ہے اپوزیشن کو جلدی اقتدار میں آنے کی چاہت ہے سب ملک کے مفاد کو بالاطاق رکھتے ہوے اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔پاکستان کی دشمن سیاسی جماعت روز ہمارے ازلی دشمن انڈیا کے گن گاتی ہے اور پاکستان کے خلاف تقریر کرتی ہے مگر ہمارے قانون کے پاس ان کو سزا دینے کے لیے وقت ہی نہیں ہے ۔ہمارے ملک میں ہر سانحے کے بعد انصاف ملنے کی بجاے ایک جے آئی ٹی بنا دی جاتی ہے جس کی رپورٹ آتے آتے بہت دیر ہو جاتی ہے۔ ہمارے ملک کا دارومدار کرپشن کرنے والے لوگوں پر ہے جو اپنی خاندان اور عزیز واقرباء کو نوازنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑتے بے شک ستر سال کے بوڑھے باپ کی کمر ٹوٹ جاے ۔
ایک باپ کی طرح سوچیں تو آپ کو احساس ہو گا آپ اپنی اولاد کے لیے جان بھی قربان کرنے کو تیار ہو جاو گے مگر اگر وہ اولاد آپ کی نا فرمان ، بے ہودہ اور فحش گوئی پر ڈٹی رہے تو ایک باپ کا کتنا دل دکھتا ہے وہ چاہتا ہے میرا یہ بیٹا پتہ نہیں کس گناہ کی پداش میں مجھے عطا کیا گیا ہے ٹھیک اسی طرح پاکستان بھی اپنے بیس کروڑ بچوں سے سوال کر رہا ہے کہ کون سا ایسا گناہ کیا تھا جو مجھ بوڑھے پر الزام پر الزام لگواتے جاتے ہو۔ میں نے تو تم کو آزادی دی تم نے امریکہ کی غلامی کی ، میں نے انگریزوں سے آزاد کروایا اور تم آئی ایم ایف سے قرضے لے کر ملک کو نیلام کر رہے ہو سارا ملک گروی رکھ رہے ہو۔
کیسے بیٹے ہو ۔اپنے باپ کی ہر نشانی بیچ رہے ہو۔ہر ادارے میں کرپشن کا دور دورہ کر رکھا ہے ۔کیسی اولاد ہو باپ کو ایک گالی بنا کر رکھ دیا ہے میرے بچوں ابھی بھی وقت ہے سمبھل جاو ، ماضی سے سیکھ جاو ورنہ ماضی بن جاو گے ۔اپنے ستر سالا باپ (پاکستان ) کو مزید دکھ مت دو ورنہ باپ کا ترکہ تمھاری کرپشن کی نظر ہو جاے گا اور باقی بھائی آپ کے گریبان تک پہنچ جائیں

حصہ