محسن
تحریر :۔ جویریہ خان
( اپنی ہر دلعزیز اتالیقہ محترمہ پروفیسر سُمیرا حبیب کے نام )
وہ ایک غریب گھرانے سے تھا اُس کا پھٹا لباس اُس کی غربت کی گواہی دے رہا تھا ۔باپ کی موت اور ماں کی بیماری اس کے اچھے دنوں کے جانے کا پیغام دے رہے تھے۔ ایسے میں اُس نے ایک دروازہ کھٹکٹھایا ۔یہاں سے اُسے اُمید تھی کہ سہارا مل سکتا ہے ۔
دروازہ کھُلا اور ایک پُر سکون چہرے والے شخص نے اُس کا استقبال کیا۔۔۔ اور پھر یہ دروازہ کبھی بند نہ ہوا ۔
اس کے ساتھ ہی اُس پر کامیابیوں کے دریچے وا ہوتے چلے گئے ۔ اور وہ کبھی نہ رُکا یہاں سے اس کی خوشحالی کا آغاز ہوا ۔۔۔
اسے جہاں جہاں مدد کی ضرورت پڑی ۔ اس شخص نے اسے کبھی تنہا نہ چھوڑا ۔ دنیا بس اس کے حالات بدلتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔
کوئی نہ جانتا تھا کہ اس کے ہاتھ ایسا کیا جادوئی چراغ لگا کہ اس کی قسمت یوں پلٹنے لگی ہے ۔ مگر یہ صرف وہی جانتا تھا کہ رات کی تاریکی میں کون اس کی قسمت کے پتے لے کر آتا ہے ۔۔۔
پھر وہ دن بھی آگیا جب اس کی محنت کا صلہ ملنے لگا ۔ ایک دنیا اس کے قدموں میں تھی ، اچھی اور پُر کشش ملازمت ۔۔۔ اس کے اعزاز میں ملک بھر میں تقریبات منعقد ہونے لگیں ۔ اس طرح کی ایک شامِ اعتراف اس کے اپنے شہر میں بھی منائی گئی ۔
جس میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس کے تجربات کو اس کی زبان سے سننا چاہا ۔۔الیکٹرونک میڈیا کے نمائندوں کے رنگ برنگے لوگو والے مایئکوں اور کیمروں کے چمکتے دمکتے فلیشوں میں جب اُس نے سجے سجائے اسٹیج پر قدم رکھا ۔ تو کامیابی کے متلاشی ہزاروں دل دھڑک اُٹھے ۔ لوگوں کی اس بھیڑ میں ایک وہ چہرہ بھی شامل تھا ۔ خاموش کامیابی کے اس سفر میں ہر لمحہ اس کے ساتھ رہا تھا ۔ وقت نے بڑھتی عمر کے ساتھ اِس کے چہرے پر وقت کی جھریاں بڑھا دی تھیں ۔۔۔۔۔
قارئینِ محترم ۔۔۔۔
پیار اور چاہے جانے کی خواہش آخر کس انسان میں نہیں ہوتی ۔؟مدتوں کی اس خاموشی میں جانے کیوں آج اس بوڑھے دل میں یہ خواہش بیدار ہونے لگی تھی ۔اس طرف اسٹیج پر وہ کامیاب نوجوان اپنی محنت کی کہانی سُنا رہا تھا ۔ ۔۔۔ مگر یہ کیا ۔۔۔؟؟؟؟
اس کے الفاظ تو کچھ اور ہی کہانی سُنارہے تھے ۔ ۔۔۔۔۔ بوڑھے کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔ ۔اُدھر مائک کے مقابل وہ اپنی ترنگ زبان میں بولتا رہا ۔ اُس کے جملے ہال میں گونجدار سی آواز پیدا کر رہے تھے ۔
’’ میری محنت کی کہانی ایک خاموش کہانی ہے ۔۔۔ یہ اس کمرے کی خاموش کہانی ہے ۔ جہاں میں تنہا بیٹھ کے پڑھا کرتا تھا ۔ ‘‘
ہال میں زیادہ تعداد نوجوان اسٹوڈنٹس کی تھی ۔ جن کی تالیوں کے شور میں اُس کی آواز خودبخود بند سی ہو رہی تھی ۔
’’ نوجوانوں تمہاری محنت تمہاری بہترین ساتھی ہے ‘‘
ہال سے ایک بوڑھا نڈھال قدموں کے ساتھ باہر جاتا دکھائی دیا ۔ ۔۔ اسے کب خواہش تھی اس کی دولت کی ؟؟؟ اس نے کب چاہا تھا کہ اسے ملنے والے لاکھوں کے کیش انعامات میں اس کا بھی شیئر رکھا جائے ۔ ؟؟؟اسے تو اس تقریب کا دعوت نامہ بھی نہیں دیا گیا تھا ۔وہ تو ہال میں بھی صرف اس جذبے کے ساتھ پہنچا تھا کہ اپنے اس شاگرد( جسے اس نے اپنے بیٹوں سے بڑھ کر چاہا تھا)کی کامیابی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کر سکے ۔ اور اس کی پشت پر ہاتھ پھیر کر کہ سکے کہ
’’ بیٹا میں آئندہ بھی تمہارے ساتھ ہوں اسی طاقت کے ساتھ ‘‘
مگر صد افسوس کہ اس قابل بھی نہ سمجھا گیا ۔اس نادان نوجوان نے اپنے اس خوبصورت محسن کو فراموش کر دیا تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔

حصہ