خوش ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ( ملک صائم )
تیری خوشی خوش ہوں میں اپنے غم کے باوجود
بکھری پڑی ہے زندگی چار سو اُلفتوں کے باوجود
کس قدر ٹوٹ کر میں ریزہ ریزہ ہو گیا
اپنے خواب آنکھوں میں چھُپا لینے کے باوجود
میرے لبوں کو سی دیا ہے تیرے لبوں کی مسکان نے
کس قدر تنہا ہوں میں محفلوں کے باوجود
تو نہیں تو کیا تیری یاد کا ادیب تو ہے
تری ذات سے ہے رابطہ تیری لا تعلقی کے باوجود
سُن کر تجھے زندہ ہوں حیرت زدہ ہونا پڑے گا
کہ چل رہی ہیں سانیں میری بے جان جسم کے باوجود
میں شکست پہ ہوں تو کیا ہوا تُجھے شکست میرا نصیب تھا
تیری جیت میرا وقار ہے میرے ہارنے کے باوجود
یہ ندا نہیں کہ تو لوٹ آ مجھے تجھ سے کوئی گلا نہیں
تو یاد رہے گا ہم کو سدا ہمیں بھولنے کے باوجود
( ملک واسم صائم اسلام آباد )

حصہ