ادبی دنیا

محمود جسم مرنا ہے مرنا نہیں مجھے۔۔۔( محترمہ ارم ہاشمی کی یادیں اور باتیں )

محمود جسم مرنا ہے مرنا نہیں مجھے۔۔۔
(یادیں‘باتیں)
تحریر:۔ ارم ہاشمی
_________________
’’ آج ڈنر میں کیا بن رہا ہے؟‘‘سیل کی اسکرین پر ہاشمی صاحب کامسیج نمودار ہوا۔
’’دال کی بریانی‘‘
’’گوبھی کا قورمہ‘‘
’’فرائیڈ بیگن‘‘میں نے ڈشز گنوانی شروع کیں۔
’’بس بس سیدہ ! مجھے اپنے ہاتھ کی روٹی کھلا دیں۔میں سبز مرچ کے ساتھ کھا لوں گا‘‘
روٹی ی ی ی ی ی ۔۔۔
روٹی تو مجھے بنانی نہیں آتی۔۔گول نہیں بنتی۔جل جاتی ہے۔سوراخ بھی ہو جاتے ہیں‘‘
’’خدا کی قسم! میری اماں بھی بالکل ایسی ہی روٹی بناتی تھی‘‘وہ بولے
یہ آج سے پانچ چھ سال قبل کی بات ہے جب محمد محمود احمد ہاشمی پہلی بار ہمارے ہاں کھانے پر آئے۔کاشف بھائی ان کے مداحوں میں شامل ہیں۔دونوں کی دوستی عروج پہ تھی۔شوخی و شرارت،چھیڑ چھاڑ،انحراف و بغاوت،لذت و انبساط،حسن پرستی ۔۔۔رفتہ فتہ وہ عیاں ہونے لگے۔ ان کی عملی دلچسپیوں کا دائرہ کافی وسیع تھا۔وہ نہ صرف زبان و ادب کو پڑھنے کے مشتاق رہتے۔بلکہ کہیں بھی کوئی ادیب دریافت ہوتا یا اخباروں کی سرخی بنتا۔ہاشمی صاحب اس کا کچہ چٹھا ڈھونڈ کے لے آتے۔
مجھے وہ لوگ زیادہ اچھے لگتے ہیں جن کی کمزوریاں خوبیوں سے زیادہ دلکش ہوں۔ہاشمی صاحب کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔جن کا سابقہ صرف ان کی خوبیوں سے رہا ،وہ لوگ ان کے زیادہ قریب نہ آسکے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ جوں جوں ان کی کمزوریاں منکشف ہوتیں۔فاصلے گھٹنے لگتے۔یہاں تک کہ یہ کمزوریاں زلفِ گرہ گیر بن جاتیں اور ان کے دام سے نکلنا ناممکن ہوجاتا۔
ایک شام فیس بک پہ انہوں نے اپنی ایک تصویر شیئر کی۔یہ ان دنوں کی یاد تھی جب تصاویر دیوان خانوں میں آویزاں کی جاتی تھیں۔ان دنوں اپنوں کو فیس بک پر ٹانگنے کا چلن نہ تھا۔
’’یہ جو پہلی صف ہے اس میں تیسرے نمبر والا میں ہوں‘‘۔وہ گویا ہوئے’’یہ گورنمنٹ کالج کا ایک مشاعرہ ہے ۔مشاعرے کے اختتام پہ جیسا کہ ان دنوں دستور تھا یادگار محفلوں کی تصویر لی جاتی تھی تو تصویر کے لئے صف بندی ہوئی۔حسب عمر و مراتب سب دو صفوں میں ہوئے۔میری قسمت کہ پہلی صف میں ، میں اور میرے پاؤں میں قینچی چپل ! میری اماں تاحیات اس تصویر کے قلق میں مبتلا رہیں کہ کاش محمود ڈھنگ کے جوتے پہن جاتا‘‘۔میں ہنستی رہی۔اس روز تا دیر اس تصویر پہ تبصرہ رہا۔وہ گورنمنٹ کالج کے دنوں کی یادیں تازہ کرتے رہے۔
محمد محمود احمد بڑے ہی خوش باش اور شاداں و فرحاں انسان تھے۔ان کی زندہ دلی و خوش مزاجی دیدنی تھی۔
ایام طالب علمی میں ان کے ایک دوست کے پاس پرانی سائیکل تھی جو اس نے ہاشمی صاحب کے شاعرانہ نظر التفات سے تنگ آکر بیچ ڈالی۔اسی طرح پڑوس میں ایک صاحب کے ٹیلی ویژن کی خراب حالت اور ناقص کارکردگی سے اتنے بیزار ہوئے کہ ایک طویل نظم
موزوں کر ڈالی۔ دورِ طالب علمی میں ہی ان کو ’’دیوتا‘‘ کے فرہاد علی تیمور کی داستان پڑھ پڑھ کے ہپنا ٹزم سیکھنے کا شوق پیدا ہو گیا ۔ٹیلی پیتھی نے دماغ کو اس بری طرح متاثر کیاکہ اس سے متعلق کتنی ہی کتابیں خرید ڈالیں۔سادہ کاغذ پر سیاہ دائرہ بنا کر باقاعدہ شمع بینی کی مشقیں کیا کرتے مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چلا۔
جب ان کا شعری مجموعہ ’’عورت،خوشبو اور نماز‘‘ چھپا تو وہ خود دینے آئے۔محمد محمود احمد نے اپنی اختراعی اور تنظیمی صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے محمود فاؤنڈیشن کو وسیع پیمانے پر منظم کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔اور دو سال کے مختصر عرصے میں اس کے تحت متعدد ادبی و ثقافتی تقریبات کا انعقاد کیا۔میانوالی میں مختلف شعبہ ہائے جات میں ایوارڈز دینے کا سلسلہ پہلی بار محمود فاؤنڈیشن نے ہی شروع کیا۔
محمد محمود احمد معاشرے کے مروجہ اخلاقی پیمانے پر کبھی پورا نہیں اترسکے تھے لیکن وہ خود بھی اس سے بے نیاز رہے کہ ان کی شہرت ’’ایک شاعرِ بدمست ‘‘کی ہے۔میرے لئے مقدم ان کی وہ خوبصورت شاعری رہی جس کے بل بوتے پر وہ سر اونچا کئے پھرا کرتے تھے۔
ایک غیر مقامی شاعرہ جن سے میری تعلق داری تو ہے لیکن میں ان کا کلام پسند نہیں کرتی ۔ہاشمی صاحب اس بات سے واقف تھے وہ اکثر موصوفہ کو کال کرتے اور کہتے’’ارم ہاشمی آپ کی بہت مداح ہیں‘‘۔وہ میری ممنون ہوتیں اور مجھے بار بار کال کرتیں۔بالا خر مجھے سیل نمبر تبدیل کرنا پڑا۔
مجھے جاتی گرمیوں کی ایک شام بھی نہیں بھولتی۔اس روز وہ بہت جارحانہ موڈ میں تھے۔
’’سنیں! آپ بہت ظالم بندہ ہیں۔کون کہتا ہے جنرل ضیاء مر گیا۔جنرل ضیاء زندہ ہے اور ابراہیم آباد میں رہتا ہے‘‘۔
’’ایسا کیا ظلم ہو گیا آپ پر؟‘‘۔
’’۔۔۔کی غزل تو آپ نہایت باریک بینی سے پڑھتی ہیں اور میری غزل کو آپ نظر بھر کے بھی نہیں دیکھتیں‘‘۔وہ فیس بک پہ ایک شاعر کی غزل پر میرے کمنٹس دیکھ کر شکوہ کناں تھے۔
اس کے بعد میں۔۔۔کی ہر غزل پر کمنٹس کرنے لگی۔وہ جلتے بھنتے رہے اور میں شرارتا لطف اندوز ہوتی رہی۔
شب و روز کا یہ پھیر نقش گر حادثات ہے۔ بہت دن ہوئے محمود ہاشمی صبح ،دوپہر اور شام کے کسی منظر میں نہیں ہیں۔ایک دنیا کو اپنے تہلکہ خیز خیالات سے چونکا دینے والا یہ پیارا شاعریوں اچانک راہِ عدم کو روانہ ہوا ہے کہ دل یقین سے عاری ہے۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے
جب تک دنیا باقی ہے لوحِ جہاں پر محمد محمود احمد ہاشمی کا عظیم الشان کام اور قابلِ صد احترام نام ثبت رہے گا۔ محمد محمود احمد ہاشمی نے خود کہا تھا
گم نامیوں کے بیچ اترنا نہیں مجھے
محمود جسم مرنا ہے مرنا نہیں مجھے

Back to top button