ایک ادیب بانصیب
ڈاکٹر شاہدہؔ دلاور شاہ
’’نستعلیقیت یا تو میرے خون میں تھی یا اکتسابی جو بھی تھا میں سب کے سامنے تھا ۔ میرا ظاہر باطن کسی سے مخفی نہیں تھا۔اپنے آباو اجداد پر تو جھگی والے کو بھی فخر ہوتا ہے میں تو پھر’’ میں‘‘ تھا کہ جس کے آباء کا ایک زمانہ معترف ہوتا ہے پر یہ کیا پڑھے لکھے پرکھوں سے واسطے کے باوجودمجھے کیا ملا۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہ میں ان سے تعلق کی خیرات مانگتا ہوں ۔۔۔۔۔ارے بابا !میں خود بھی تو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں ۔۔۔۔اس سے بھی صرفِ نظر کیجیے۔۔۔۔۔۔صاحب! میں نے آٹھویں کلاس میں پہلا آرٹیکل لکھا تھا جو دتین چار صفحے کا تھا اور امروز میں چھپا تھا۔۔۔۔۔اسکو بھی رہنے دیجیے بھائی ! میری کوئی پچاس سے زیادہ تنقیدی تحقیقی ادب و شاعری افسانہ انشایہ وغیرہ پر کتب طبع ہو چکی ہیں ، غالباً ۱۹۸۳ میں حلقہ ارباب ذوق کا ممبر بنا تھا۔حلقہ اربابِ ذوق جو ادیبوں کی تربیت گاہ ہے۔یہیں سے منٹو،میرا جی،فیض،ناصر کاظمی،منیر نیازی،احمد ندیم قاسمی، انیس ناگی ،احمد عقیل روبی ،اسرار زیدی،مبارک احمد،انتظار حسین وغیرہ تربیت پاتے ہیں تو پاک ٹی ہاؤس کی دیواروں پر اپنی تصویروں کی آنکھوں سے نئے آنے والے تخلیق کاروں کا جائزہ لیتے ہیں، ان کی باتیں سنتے ہیں ان کے رجحانات اور امکانات پر نظر رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ میں کہاں پھر رہا تھا، ان سوچوں میں کہ میں کیا کروں گا، میرا مستقبل کیا ہو گا،میرے بچے کیسے پلیں گے ؟اس بات کا ایک ہی جواب ہے کہ اللہ رازق و مالک ہے۔یہ بات سچ ہو گی مگر اس کے ساتھ اگر آپ کی شریکہء مشکلات و حیات آپ کی ہم نوا ہو جائے تو زندگی جنت بن جاتی ہے۔میرے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا۔میں پڑھتا پڑھاتا لکھتا لکھاتا رہا۔ بڑے سالوں بعد ایک دن حلقہ اربابِ ذوق نے اپنی جانب پھر سے متوجہ کیا۔ بہت کم ایساہوتا ہے کہ جب بندہ اپنی ذات سے باہر ہو کے سوچتا ہے۔ یہ ایک خوبی ہے جو بہت کم لوگوں کو اورکبھی کبار ہی میسر آتی ہے۔میں کئی دنوں سے ریگولر حلقہ اربابِ ذوق میں پھر سے آنے لگا تھا۔ مجھے حلقہ اربابِ ذوق کے پرانے بھر پور اجلاس یاد آتے تھے۔ اب میری دلچسپی حلقے میں بڑھنے لگی۔میں اس ماحول کا عادی ہو تا جا رہا تھا جس کی یکسانیت ہی اس کی پرموشن کا سبب تھی۔میں اتوار کی شام چھ سات بجے جب حلقہ اربابِ ذوق کی حدودد میں داخل ہوتا،اجلاس شروع ہونے سے قبل وہی ادیبوں کی گہما گہمی،میزوں پر چائے کے برتنوں کا شور، کچھ ادیبوں کے ہاتھوں کی پوروں میں دم توڑتے ہوئے سیگرٹوں کے آخری کش سے پہلے کا دھواں جھوم کر اپنے ہونے کا احساس دلاتا،کچھ سینئر ادیبوں کی منڈلیوں میں جونیئرز سر جھکائے بیٹھے نظر آتے تو کہیں ویٹر اجلاس کے آغاز سے پہلے جلدی جلدی میزیں صاف کرتے نظر آتے۔تو جناب یہ تو تھا اجلاس شروع ہونے سے قبل کا منظر۔۔۔۔۔۔یوں سمجھیے کہ پردہ ہٹا اور سٹیج شروع ہوا ۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وہی سٹیج ہوجس کا ذکر شیکسپیئر نے کیا ہے۔۔۔۔۔۔خالی سٹیج پر تخلیق کاروں نے آنا تھا اور اجلاس شروع ہونا تھا ۔کسی نے صدارت کرنا تھی، کسی نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کرنا تھی، کسی نے مضمون ، کسی نے غزل ،کسی نے نظم پیش کرنا تھی۔کسی کی برسی منائی جانی تھی تو کسی ادیب کے جنم دم کا کیک کاٹا جانا تھا۔کسی کی کتاب کی رونمائی ہونا تھی تو کسی ایشو پر قرارداد مذمت پیش ہونے والی تھی ۔۔۔۔۔یہ سارا ایک ترتیب طلب معاملہ تھا جو ہونے جا رہا تھا۔نہ کوئی نقارہ بجا نہ شور اٹھا۔۔۔۔۔ سارے کا سارا جنگل کا منگل ترتیب پا چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
میں بات کر رہا ہوں حلقہ اربابِ ذوق کی ،کہ سب رائٹرز پاک ٹی ہاؤس میں آکر بیٹھ گئے۔۔۔۔۔ سب نے اپنی اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں۔ کسی نے اُٹھ کر پاک ٹی ہاؤس کی عقبی کھڑکی کھولی کہ اندر حبس بہت تھی۔یوں باہر سے گاڑیوں کے شور کے ساتھ تازہ ہوا کے جھونکے بھی آنے لگے جو ادیبوں کے سینوں میں پلنے والے احساس کو تراوت دینے لگے۔ادیب تو درد دل رکھنے والا حساس طبقہ ہوتا ہے اور غم دوراں ہی اس کا اوڑھنا بچھونا ہوتا ہے
حلقہ اربابِ ذوق پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ :
آج دیکھو کہ کس طرح ہم سے
غم زدہ لوگ پیار کرتے ہیں
اجی سرکار! اگلی کہانی سنیے۔۔۔۔۔۔۔:
حلقے کے سیکریٹری نے سب اراکین کوکام سونپ رکھے تھے۔ادیب آج کے اجلاس کا سفر شروع کرنے لگے۔ ایک ادیب نے حلقہ اربابِ ذوق کا بینر لگایا ۔ایک ادیب نے سپیکر لگانے کی ذمے واری اٹھائی۔ایک ادیب نے سپیکر کی بیٹری تبدیل کی۔سیکریٹری حلقہ ارباب ذوق نے آج کے اجلاس کی کاروائی شروع کرنے سے پہلے آج کے جنابِ صدر کو اپنی سیٹ سمبھالنے کی دعوت دی۔۔۔۔۔اجلاس میں ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا،مستنصر حسین تارڑ،ظفر اقبال،سجاد میر،عزرا اصغر،عطاء الرحمان، عبدالرشید،
نجیب احمد، ذکاء الرحمان،سرور سکھیرا ، ڈاکٹراختر شمار ،ڈاکٹر اجمل نیازی، ناصر زیدی،اسلم طارق،علی اصغر عباس،اسلم گورداسپوری، آصف بھلی، ڈاکٹر ناہید قاسمی، رخشندہ نوید، نعمان منظور، ڈاکٹر صغری صدف،ڈاکٹر فوزیہ تبسم، نیلم احمد بشیر، سعادت سعید، جمیل احمد عدیل ،عباس تابش اصغر ندیم سید، شفیق احمد خان، علی نواز شاہ،زاہد حسن،اعجاز رضوی،نوید صادق، ن زاہد مسعود، ڈاکٹر جواز جعفری، غلام حسین ساجد، فرحت پروین، ڈاکٹر ناہید شاہد، فرحت عباس شاہ،ناصر عباس نیر،اظہر غوری،سلیم طاہر،سلمان عابد اور بہت سے دیگر دانش ور موجود تھے۔ ادیبوں میں سے ایک ادیب آگے آکر پچھلے اجلاس کی کارروائی پڑھنے لگا۔یاد رہے کہ باقی سب ادیب خاموش ہیں۔ کسی نے کوئی ہنگامہ نہیں مچایا۔ سب اپنی باری پر اٹھتے ہیں اور اپنی زمے داری پوری کر کے اپنی سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں۔شاعری، فکشن، مضمون،سالگرہ ،برسی اور قراردادِ مذمت وغیرہ سب اپنے وقت پر ہوتا رہا۔ایک ادیب کارروائی لکھتا رہا، ایک تخلیق کار محفل میں بیٹھے ہوئے سارے ادیبوں کی تصاویریں بنانے لگا تاکہ کارروائی کے ساتھ اخباروں کو بھیجی جائیں۔ ایک ادیب محفل میں بار بار اُٹھ کر ادیبوں8 کے رجسٹر پران کی حاضری لگواتا رہا۔ ایک ادیب ہر آنے والے ممبر کو کرسی مہیا کرنے میں مصروف رہا ۔ایک ادیب ضرورت پڑنے پر گفتگو میں بھی شامل ہوتا۔ایک ادیب نے ویٹر کو آواز دی کہ ادیبوں کے لیے میزوں پر پانی مہیا کیاجائے۔ویٹر پانی لے کر آگیا اور اس ادیب کے کان میں کچھ کہہ کر رخصت ہوا، شائد وہ یہ پوچھ کر گیا ہو گا کہ چائے کتنی دیر بعد لاؤں ؟ اس کے بعد ا چانک لائٹ چلی گئی تو ایک ادیب جس کی ڈیوٹی روشنی کا انتظام کرنا تھی ،اس نے اپنی جیب سے ایک سیلوں والی بیٹری نکالی جس سے ادیبوں کو ایک دوسرے کے چہرے سجھائی دینے لگے۔جب صاحب صدارت اپنا خطبہ فرما رہے تھے اس دوران ایک ادیب اجلاس سے اٹھ کر کینٹین پر چائے کا آرڈر دینے چلا گیا۔جب صاحب صدارت نے اپنا خطبہ ختم کیا تو سپیکر سیکریٹری حلقہ ارباب ذوق کے حوالے کیا۔ سیکریٹری حلقہ اربابِ ذوق نے صدرِ محفل اور اراکین حلقہ کا شکریہ ادا کیا اور اگلے ہفتے کے اجلاس کے بارے میں تھوڑا بریف کیا۔جب رسمی کارروائی ختم ہوئی تو سب ادیب آپس میں گھل مل کر چائے نوش فرمانے لگے۔ایک ادیب اٹھ کر حلقے کا فلیکس تہہ کرنے لگا۔ایک ادیب حلقے کا ، سپیکر،بیٹری،رجسٹر کارروائی اور حلقے میں پڑھی جانے والی تحریریں اکھٹی کر کے ریکارڈ میں رکھنے کے لیے سمبھالنے لگا۔ جب سب ادیب اپنے اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے تو ایک ادیب نے اپنی جیب سے وائلٹ نکالا اور کینٹین پر جاکر موجودہ شام کی چائے پانی کا بل ادا کیا۔یاد رہے کہ اس دوران ایک ادیب نے حلقہ اربابِ ذوق پاک ٹی ہاؤس پر لگائے جانے والے الزامات کا کورٹ میں جا کر جواب بھی دیا،کیسیز بھی بھگتے ، حلقہ پر مخالفین کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو کورٹ سے خارج کروایااور یوں عزت آبرو کے ساتھ تمام کیسیز کی جیت حلقہ اربابِ ذوق کی جھولی میں ڈال دی۔جس دن عدالت سے کیسیز خارج ہوئے حلقہ اربابِ ذوق کے سیکریٹری نے نئے الیکشن کا اعلان کر دیا جو کہ ایک جمہوری طریقہ زندگی ہوتا ہے۔یہی سلیقہ حیات ہے جو میرے والد صاحب نے میرے دادا جی سے، داد جی نے اپنے بابا سید محمد حسین آزادؔ سے سیکھا۔ حلقہ اربابِ ذوق کے الیکشن کے اعلان کے بعد ایک ادیب نے حلقہ اربابِ ذو ق کی دو سالہ کارروایاں، اس میں ہونے والی گفتگو اور اس دورانیہ میں پیش کیے جانے والے منتخب شہ پاروں پر مبنی تین عدد کتابیں چھاپ دیں ۔ حلقے کی تاریخ میں اس نوعیت کا یہ پہلا بڑا پروجیکٹ تھا جس پر حلقہ اربابِ ذوق کے آج کے ممبران اور آنے والے ممبران فخر کریں گے۔۔۔۔۔۔۔کتنا عظیم کام اور اتنے مختصر وقت میں !!!!!!۔۔۔۔۔میں نے خود کلامی کی کہ ادب کو اپنی مرضی سے چلانے والوں نے اسے اپنے گھر کی لونڈی سمجھ رکھا ہے ۔۔۔۔میری نظر میں یہ خود کلامی نہیں تھی بلکہ ان ادیبوں کو یہ ایک گالی تھی جنہوں نے محمد حمید شاہد کی زبان میں ادب کو تخلیقی سر گرمی کی بجائے سماجی سر گرمی سے جوڑ دیا ہے جو کہ ادب اور ادیب کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ادبی تخلیقیت اعلیٰ درجے کی تخلیقیت ہوتی ہے جسے تیسرے درجے کے تخلیق کاروں نے تیسرے درجے کی تخلیق کے ساتھ جڑ دیا ہے۔اس سب کے باوجود بھی ’’ایک ادیب‘‘ نے اپنی تخلیقی، مثبت تنقیدی،تحقیقی اور ادبی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
میں ایک لمحے کے ذکر کے چکر میں ہوں جب کہ میری ساری دانش، ساری شاعری ،فکشن ، تنقید ،تحقیق اوروزڈم دم سادھے کھڑی ہیں۔میں وہاں گم صم بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ دنیا بہت آگے نکل چکی ۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ ہی لیا کہ حلقے میں بھی دنگل (جو کبھی کبھی ہو ہی جایا کرتا ہے ) کی بجائے تہذیب و تنوع آ چکا ہے اور یہ ’’ایک ادیب ‘‘کی ہی مشقت کا شاخسانہ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ !!!!!!!!‘‘
سننے والے نے جسارت کی کہ ڈاکٹر صاحب !یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ نے پورے واقعہ میں ’’ایک ادیب، ایک ادیب’’ کی تکرارجاری رکھی، کیا آپ ادیبوں کے نام سے نا آشنا ہیں؟میں نے یہ کہتے ہوئے تالیاں بجائیں تھیں کہ کہانی آگے چلے گی مگر آپ چپ کیوں ہو گئے آپ بولیے نا ہماری بات کا جواب دیجیے نا ، بتایے نا ’’ایک ادیب ایک ادیب‘‘ یہ کون ہے ’’ایک ادیب‘‘؟
اس اصرار پر ڈاکٹر آغا سلمان باقر نے ڈاکٹر غافر شہزاد کا نام لینے کی بجائے ممتاز احمد شیخ کے سہ ماہی پرچے ’ ’لوح‘‘میں پبلش ہونے والی ڈاکٹر جواز جعفری کی اس سال کی نمایاں نظم ’’پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ‘‘سنا دی۔جس کی چند سطریں یہ ہیں :
ٹی ہاؤس کی بالائی منزل میں
حلقہ اربابِ ذوق بسترِ مرگ پر پڑا
غافر شہزاد کا منتظر ہے
اتوار کے روز سرے شام
چند ڈرے سہمے ادیب
دم توڑتے حلقے کو
خون کا عطیہ دینے آتے ہیں‘‘

حصہ