پاک چائنہ راہداری منصوبہ ۔ میانوالی کی ایک لاکھ 13 ہزار 390 کنال اراضی حاصل کر لی گئی ۔
نوٹیفیکیشن جاری ۔۔ ڈسٹرکٹ کلکٹر نے اراضی کی نشاندہی کے لیئے محکمہ مال کو ہدایات جاری کردیں ۔ تفصیلات کے مطابق حکومتِ پاکستان کی ہدایت کے مطابق سروے کی تکمیل کے بعد میانوالی تحصیل کے مختلف مواضعات کی ایک لاکھ 13 ہزار 390 کنال اراضی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبے کے لیئے موضع مسان کا 45 ہزار565 کنال 15 مرلے ، موضع داؤد خیل پکہ کا 14 ہزار 129 کنال 10 مرلے ۔ داؤد خیل کچہ کا 13 ہزار 433 کنال 5 مرلے ، موضع پیر پہائی کا 8 ہزار 981 کنال ایک مرلہ ، موضع نکی کا 7 ہزار809 کنال 19 مرلے ، موضع پائی خیل کچہ کا 7 ہزار 415 کنال 6 مرلے ، موضع ڈھیر اُمید علی شاہ کا 6 ہزار 729 کنال 16 مرلے ، موضع بنی افغان کا 5 ہزار 208 کنال 19 مرلے، موضع ٹھٹھی شریف کا 4 ہزار 17 کنال 15 مرلے رقبہ مختص کیا گیا ہے ۔۔۔۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحصیل میانوالی کے مزید 5 موضع جات کا رقبہ بھی پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے کے لیئے مختص کیا جا رہا ہے جبکہ تحصیل عیسیٰ خیل کا رقبہ بھی حاصل کیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے کے لیئے ضلع میانوالی کے لوگ اپنی قیمتی اراضی اور سونا اُگلتی زرعی زمینیں حکومت کے حوالے کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ میانوالی کے لوگوں کا مجموعی مزاج ہے کہ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ قومی منصوبوں کے لیئے اپنی زمینوں کی ہمیشہ قربانی دی ہے ۔ چشمہ بیراج کے لیئے ضلع میانوالی کے 32 موضع جات حکومت کے حوالے کر دیئے گئے تھے ۔ اسی طرح پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے منصوبوں کے لئے ضلع میانوالی کے لوگوں نے انتہائی فراخدلی کے ساتھ اپنی زمینیں حکومت کے حوالے کی ہیں اب بھی موضع واں بھچراں میں لوگوں کی زمینیں اٹامک انرجی کمیشن کے پرجیکٹوں کے لیئے لی جارہی ہیں اور وہاں کے لوگ جذبہ حُب الوطنی کے تحت اپنی اراضی حکومت کو دے رہے ہیں اسی طرح پاک فضائیہ کے ایئر بیس کے لیئے بھی میانوالی کے لوگوں نے اپنی اراضی فراہم کی ۔ میانوالی شاید پاکستان کا واحد ضلع ہے جہاں دو بڑے بیراج قائم ہیں ۔ اس کے باوجود یہاں کے لوگ ہمیشہ کالاباغ ڈیم کے لیئے بھی اپنی زمینیں فراہم کرنے کے لیئے تیار ہیں ۔ لیکن ان قربانیوں کے بدلے میانوالی کے لوگوں کو خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا ۔ واپڈا اور چشمہ بیراج کے متائثرین کو جو متبادل زمینیں فراہم کی گئی تھیں ان سے متعلق بہت سے لوگوں کے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے ۔۔۔ضلع میانوالی کے لوگوں سے ایک مرتبہ پھر پاک چائنہ راہدار منصوبے کے حوالے سے قربانی مانگی جارہی ہے ۔۔۔ لیکن میانوالی کی تمام سیاسی قیادت عام لوگوں کے مسائل سے لاتعلق نظر آتی ہے ۔ ضلع کے بہت سے سیاستدان ایسے ہیں جنہیں اس عظیم منصوبے کے تفصیلات تو کیا روٹ سے بھی آ گاہی حاصل نہیں ہے ۔جن علاقوں سے یہ روٹ گذرہاہے وہاں کے سیاستدان اکٹھے ہو کر اپنے اپنے علاقوں کے لیئے انڈسٹریل زون اور انرجی کا انفراسٹرکچر حاصل کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں جس کی سب سے بڑی مثال مولانا فضل الرحمن نے اس روٹ کو اپنے گاؤں کو قریب سے گذار رلیا ہے ۔لیکن ضلع میانوالی کے لوگوں کی بدقسمتی ہے کہ ان کے سیاستدانوں نے ابھی تک کوئی مشترکہ موقف نہیں اپنایا ۔

حصہ