اپنے بچوں کا بچپن بچائیں
ممتازملک۔ پیرس

کل تک ہم لوگ سنا کرتے تھے کہ لڑکیوں کی عزت بہت نازک ہے اس کی حفاظت کریں . لڑکیاں گھر سے اکیلی نہ جائیں . دیر تک گھر سے باہر نہ رہیں . لڑکیاں یہ نہ کریں وہ نہ کریں . زیادہ دوست نہ بنائیں وغیرہ وغیرہ لیکن کیا آج آپ جانتے ہیں کہ لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی اتنے ہی زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں. ان کی بھی عزت ہوتی ہے. ان کا بچپن بھی اتنا ہی معصوم اور اہم ہوتا ہے جتنا کہ کسی بھی لڑکی کا . والدین نے اپنی آسانی یا مجبوری کی بنا پر کہیں بچوں کو گھروں میں ملازمین کے حوالے کر دیا . تو کہیں گھر میں آئے ٹیوٹر اور مولوی صاحب کے حوالے کر دیا . اور اس کے بعد ہمیں لگتا ہے کہ بس ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا . بچہ اگر کسی کی شکایت کرتا ہے یا ایک جگہ جانے ،کسی سے ملنے یا کسی کے پاس بیٹھنے یا پڑھنے سے انکار کرتا ہے تو اسے بچوں کا روز کا بہانہ یا معمول سمجھ کر خود کو اور اپنے بچے کی جان اور عزت کو خطرے میں مت ڈالیں . ایسی صورت میں بچے کو مارپیٹ کر زور زبردستی سے سکول ،ٹیوشن سینٹر یا کسی اور جگہ جانے پر مجبور مت کریں . بلکہ اس کی بات پر کان دھریں اور اس کی شکایت کی تحقیق کریں . اسے اکیلے کسی کے پاس مت چھوڑیں . چاہے وہ آپ کا اپنا گھر ہی کیوں نہ ہو . یا جس کے پاس چھوڑ رہے ہیں
وہ آپ کا سگا بھائی یا بہن کیوں نہ ہو . بچے کے بِدکنے کو اپنے لیئے خطرے کی گھنٹی سمجھیں . اپنے گھریلو ملازمین اور ڈرائیوروں پر کبھی اندھا اعتبار مت کریں . بلکہ بچوں کو سکول لیجانے یا لانے کی ذمہ داری خاتون خانہ کو خود ادا کرنی چاہیئے یا بصورت دیگر باپ کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول میں نہ صرف لائے لیجائے بلکہ انہیں سکول کے اندر جانے تک وہاں رکے . ان کی سکول رپورٹس میں ہونے والی ان کی اچھی بری کارکردگی پر نظر رکھیں اور اساتذہ کو بھی چاہیئے کہ بچوں کے رویئے اور پڑھائی کے معمول میں آنے والی ہر تبدیلی سے نہ صرف خود باخبر رہے بلکہ ان کے والدین کو بھی باقاعدہ اس سے خبردار کرتے رہیں .اور ہر مہینے میں کم از کم ایک بار ضرور ان کی ملاقات بچوں کے والدین سے ہوتی رہیں چاہیئے. یہ معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے .انہیں ایسے شیطانوں سے بچانے کے لیئے آپ کی تھوڑی سی توجہ اور تھوڑی سی باخبری آپ کو آنے والے کسی بھی طوفان سے بچا سکتی ہے .خاص طور پر کمرے کا دروازہ بند کروانے والے استاد کی خبر لیں . بچے کی پڑھائی کے دوران اس کے کمرے میں وقتا فوقتا جھانکتے رہیں اور اس کمرے کے ہی ایک کونے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں . اکثر گھروں میں بچوں کے دوست آ جائیں تو والدین انہیں ان کے بیڈ روم میں بھیج دیتے ہیں جہاں ایک بیماری ٹی وی کی صورت بھی موجود ہوتی ہے . بچوں کو کبھی کسے بڑے کی موجودگی کے بغیر اکھٹے ہونے کا موقع مت دیں . بچے کی عمر سے زیادہ عمر کے دوست بنانے کی اجازت مت دیں . اس کے دوستوں کی آمد پر انہیں بیڈ رومز میں جانے کی یا ہاتھ میں یا بیگز لے کر جانے کی کبھی اجازت مت دیں . بچوں کو کسی ذمہ دار بڑے کی موجودگی کے بغیر کبھی بھی ٹی وی دیکھنے کے لیئے اکھٹے ہونے کی اجازت مت دیں . ٹی وی کو بیڈ رومز میں کبھی مت رکھیں . ایسی خواتین پر بھی خصوصی نظر رکھیں جن سے آپ کا بچہ گھبراتا یا کتراتا ہے . یاد رکھیں بچپن میں ملے ہوئے صدمات یا دکھ ساری عمر بھلائے نہیں جا سکتے . اس لیئے ان کے معصوم بچپن کی حفاظت کرنا آپ کی ذمہ دای ہے . اور آپ اس بات کے لیئے خدا کو جواب دہ ہیں . اپنے کنبے اور گھر کا سائز اتنا ہی رکھیں جس میں آپ فردََا فردََا سب کا خیال رکھھ سکیں . اس کی ہر خوشی اور پریشانی کے احساس سے باخبر رہ سکیں . اور اس کی ضروریات کو پورا کر سکیں .ورنہ کئی بار بچے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی لالچ میں اپنی معصومیت اور اپنا بچپن قربان کر بیٹھتے ہیں . اور کئی بار گھر جانے کس لالچ میں اتنے بڑے بنا لیئے جاتے ہیں کہ خود بھی ہر روز اپنے ہی گھر کا بھی پورا چکر نہیں لگایا جا سکتا . کیا فائدہ ایسے گھر کا کہ اس میں رہنے والے چار افراد بھی روز ایک دوسرے کا احوال نہ جان سکیں . اور تحفظ اور آسائش دینے کے فوبیا میں انجانے میں ہمارے بچے ہمارے ہی ہاتھوں اپنا بچپن اپنی معصومیّت کہیں کھو بیٹھے تو۔۔۔.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حصہ