عابد ایوب اعوان

امریکہ کا سورج غروب جبکہ چین کا سورج طلوع ہونے جا رہا ہے۔ چین دنیا کی قیادت کے لئے تیار ہے، امریکی صدی کا خاتمہ ایک حقیقت بن گیا ہے اور بین الاقوامی آرڈر کی ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے، امریکہ جان بوجھ کر چین اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو خارج کرنے کے لئے بین الاقوامی اقتصادی قواعد کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر نا قابل قبول دکھائی دیتا ہے۔ چینی سرکاری اخبا گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بہت سے چینی اور غیر ملکی ماہرین کے مطابق امریکہ کو پیچھے دھکیلتے ہوئے چین دنیا کی قیادت کے لئے بالکل موزوں اور تیار ہے۔
چین کے صدر شی جن پھنگ نے ڈیوس کے ورلڈ اقتصادی فورم میں “تمام انسانیت کے لئے عام کمیونٹی کی رسائی کی تجویزدی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین ایک عالمی طاقت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
چین کی ترقی جاری ہے اور چین نے مکمل طور پر حصہ لینے اور عالمی حکمرانی کو فعال طور پر قیادت کرنے کے لئے کوشش شروع کردی ہے۔ چین کا رویہ اپنے ہمسائیوں اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ جس طرح دوستانہ ہے کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ چین کو عالمی سطح پر امریکہ پر برتری حاصل ہے۔
بے شک امریکہ اب بھی فوجی، اقتصادی اور بہت سے دوسرے پہلوؤں میں ایک سپر پاور ہے اور اس کی ہم آہنگی برقرار رکھتی ہے تاہم عالمی طاقت کے سیاسی، معاشی، نظریاتی اور ثقافتی پہلوؤں میں بڑی تبدیلیوں کے باعث چین عالمی سطح پر امریکہ پر برتری حاصل کر رہا ہے ۔ نئی ابھرتی ہوئی معیشت اور چین کی ترقی پذیر ممالک کی طرف سے نمائندگی کرنا چین کے عالمی سطح پر اثرو رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا اجتماعی، تعاون اور مشترکہ سلامتی کی طرف ترقی کر نا چاہتی ہے تو اسے چین کا ساتھ لینا ہو گا ۔ چین دنیا کے بہت سے ممالک کے ساتھ ایسے مراسم استوار کر چکا ہے جو کسی حد تک برابری پر ہیں اور چین آئیندہ بھی ایسا ہی کرے گا تا کہ اسے زیادہ سے زیادہ ممالک کی سپورٹ حاصل ہو۔
یہ عالمی طور پر شراکت داری کی مثال اور آج کی آواز ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکہ نے بہت سے دو طرفہ اور کثیر المقاصد تعاون قائم کیے ہیں اور عالمی سلامتی کے نظام کو قائم رکھے کی کوشش میں اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہی جس میں کسی حد تک وہ کامیاب بھی رہا اور اسی ہم آہنگی اور عالمی مفادات کی توسیع کی خاطر وہ کام کرتا رہا لیکن چین کی معشت اور دیگر ممالک کے ساتھ روابط کو دیکھتے ہوئے یہ سچ لگتا ہے کہ امریکہ کا سورج غروب اور چین کا طلوع ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے نئی افغان پالیسی جاری کر دی گئی ہے جس کے تحت امریکہ افغانستان میں مزید فوج بھیجے گا جبکہ اسی نئی پالیسی میں صدر ٹرمپ نے پاکستان پر دباو بڑھاتے ہوئے مشہور زمانہ الفاظ ڈو مور کا تقاضا کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی پناہیں ابھی بھی موجود ہیں اور امریکہ کی طرف سے پابندی لگائے جانے والی بیس دہشتگرد تنظیموں کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ سے اربوں ڈالر کی امداد لے رہا ہے لہذا پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان امریکہ کا مکمل ساتھ دے ورنہ پاکستان کو اس کے برے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسکے ساتھ ہی نئی افغان پالیسی میں صدر ٹرمپ نے ہندوستان سے افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف مدد مانگ لی ہے اور ہندوستان سے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان شراکت دار بنے۔ صدر ٹرمپ کو ہندوستان سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مدد مانگنے اور ہندوستان کو دہشتگردی کی جنگ کے خاتمے میں شراکت دار بنانا انتہائی افسوس ناک عمل ہے کہ ہندوستان نے پچھلے 70 برسوں سے کشمیر میں ریاستی دہشتگردی پھیلائی ہوئی ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی کاروائیوں میں ہندوستان ملوث ہے۔
گزشتہ روز پاکستان کی طرف سے آئی ایس پی آر نے پہلے ہی اپنی میڈیا بریفنگ میں یہ کہہ دیا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کامیاب آپریشن کیئے ہیں جس کے نتیجے میں اب پاکستان کی سرزمین پر کسی دہشتگرد تنظیم کا کوئی نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ پاکستان نے بلاشبہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی بن کر نہ صرف اپنی عوام کی قربانیاں دی ہیں بلکہ پاکستانی فوج نے بھی اپنے جوان اور افسر دہشت گردی کی بھینٹ چڑھائے ہیں۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنے سب سے ذیادہ افسران کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ چینی وزارت داخلہ کے ترجمان نے صدر ٹرمپ کی طرف سے جاری کی گئی نئی افغان پالیسی پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے ہیں کہ دنیا کو پاکستان کی عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کا سراہ کر اعتراف کرنا چاہیئے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے بعد ایک واضح حکمت عملی اپنا کر امریکہ کو یہ جواب دے کہ “جناب اب ڈو مور نہیں بلکہ نو مور ڈکٹیشن”۔ پاکستان کو اب امریکہ کے مزید دباو والی پوزیشن سے باہر نکلنا ہوگا اور امریکہ کے لیئے اپنی خارجہ پالیسی کو ازسر نو ترتیب دینا ہوگا کہ پاکستان اب امریکہ میں رونما ہونے والے نائن الیون کے واقعہ کے بعد والے حالات نہیں رکھتا۔ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشتگردی کی کاروائیوں کے خاتمے کے لیئے اپنی فوج کی بے انتہا قربانیاں دے کر امن حاصل کر چکا ہے۔ پاکستانی فوج دہشتگردوں کے خلاف کامیاب ضرب عضب جیسے آپریشن کر کے ملک میں امن لا چکی ہے اور ابھی بھی پاک فوج کی طرف سے آپریشن ردالفساد جاری ہے۔ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پاکستان میں اس کے دیرینہ دشمن ہندوستان کی طرف سے دہشتگردی کی کاروائیوں کو بے نقاب کر کے ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹوں کو پکڑ رکھا ہے۔ جس کے بعد سے پاکستان میں کراچی اور بلوچستان میں امن قائم ہوچکاہے۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم اور دونوں دیسوں کی دوستی مزید گہری ہوئی ہے۔ چین اور پاکستان مل کر سی پیک کے منصوبے کو تکمیل کی طرف بڑھا رہے ہیں۔ سی پیک کے بعد سے پاکستان میں چین کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوچکا ہے۔ پاکستان کے ادارے مظبوط کرنے میں پاک فوج مکمل حمایت کر رہی ہے اور اب پاکستان کی فوج سیاسی معاملات سے خود کو دور رکھ کر غیر جانبداری دکھا رہی ہے اس لیئے فوج ملک میں مارشل لاء لگانے والے راستے سے اس وقت تک بچنا چاہتی ہے جب تک سیاستدان خود ہی ایسے حالات نہ بنا دیں کہ فوج کو مجبورا سیاسی مداخلت کرنا پڑے۔
سی پیک کی تکمیل اور پاک چین تعلقات امریکہ اور مغربی طاقتوں کی آنکھوں میں کھنکتے ہیں اسی لیئے امریکہ اور کچھ مغربی قوتیں اس ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں کہ پاکستان میں عدم استحکام اور غیر یقینی کی صورت حال پیدا کر کے اپنے مقاصد حاصل کیئے جائیں کیونکہ یہ قوتیں جانتی ہیں کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے ہی ان کے مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں موجودہ سیاسی انتشار اور سیاسی تناو ہی ایک ایسا راستہ ہوگا جو ان قوتوں کے مذموم مقاصد کی کامیابی کی طرف جاسکتا ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیئے اور ان پاکستان مخالف قوتوں کو ایک واضح پیغام دینا چاہیئے کہ موجودہ سیاسی حالات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہیں انہیں پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے، تمام سیاسی جماعتیں ، فوج اور تمام ادارے پاکستان کے لیئے ہر بیرونی خطرے اور بیرونی دباو پر ایک پیج پر ہیں۔ وطن عزیز کی بقا اور استحکام اسی میں ہے اور تب ہی پاکستان دنیا کے سامنے سر اٹھا کے چل سکتا ہے۔ خدا کرے پاکستانی پرچم دنیا میں کبھی سرنگوں نہ ہو اور پاکستانی قوم دنیا کے سامنے ہمیشہ سر اٹھا کر جیئے۔

حصہ