Neelab writer

تحریر : حیا غزل

آج میں ایک بہت اہم اور ملکی سیکورٹی کے حامل مسلے کی طرف عوام اور حکومت کی توجہ دلانا چاہتی ہوں.جسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے جبکہ اسکے پس منظر سے کچھ ایسے حقائق بھی جڑے ہیں جو یقیننا آپکا دل دہلادیں.
غیر قانونی سمز کی فروخت ایک پرانا لیکن حل طلب مسلہ ہے.اس مسلے کو 2008میں نوٹس لیا گیا جب اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک کے نام سم نکلنے اور اسکے استعمال ہونے کی اطلاع ملی.میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ کی ذاتی معلومات فراہم کرنے اور سم کے اجراء پر نادرا،سی ایل پی سی اور متعلقہ سم کے فرنچائز اسٹاف سمیت دو درجن ست زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا.جسکے بعد فرنچائز مالکان کی طرف سے اعلی حکومتی عہدیداران کو ایک کھلا خط بھی لکھا گیا جس میں انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ وہ غیر قانونی طور ہر سمز کی فروخت میں ملوث ہیں مگر ساتھ ہی انھوں نے متعلقہ سمز کمپنیوں کو بھی نامزد کیا کہ ہمیں سیلز ٹارگٹ کے تحت پریشرائز کیا جاتا ہے کہ اگر وہ یہ کام نہیں کریں گے تو انھیں انکے کمیشن سے محروم کردیا جائے گا.
اس دوران 2013تک لاتعداد سمز ایکٹیو کی گئیں.اور پی ٹی اے کے قوانین کی کھلے عام دھجیاں اڑائیں گئیں. کراچی میں مختلف سیلولرز کمپنیوں کی سمز گھر گھر جا کر50 روپے میں فروخت ہوئیں۔ ان سموں کو فروخت کرنے والے کسی قائدے قانون کے بغیر سمز فروخت کرکے عوام کو مشکلات میں پھنسا رہے تھے. شہر کی گلیوں میں سمیں فروخت کرنے والے یہ افراد یومیہ سینکڑوں سمیں فروخت کرکے ہزاروں روپے بٹورتے. جعل سازی کے اس کاروبار کو روکنے کیلئے پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے اس وقت خاموشی اختیار کی گئ. واضح رہے کہ ایک شناختی کارڈ پر 5 سمز کے اجراء کے قانون کے بر خلاف اس غیر قانونی کاروبار کے ذریعے لوگوں کے پاس کئی درجن سمز موجود تھیں اور پی ٹی اے گھر گھر فروخت ہونے والی ان سمز کو ایکٹیو بھی کر رہا تھا.اسکے بعد حکومت کی جانب سے اس معاملے کا فوری نوٹس لیا گیا
حکومت کی جانب سے موبائل ٹیلی کام اداروں کو ایک حک نامہ جاری کیا گیا جسکے مطابق فرنچائز اور دکانوں پر موجود تمام سمز کی فروخت ۳۰ نومبر سے بند کرنے کی ہدایت جاری کی گئی . جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ یکم دسمبر ۲۰۱۲ء سے نئی سم صارفین کے شناختی کارڈ پر موجود پتہ پر ارسال کی جائے .
اس کے علاوہ حکم نامے کے مطابق سال ۲۰۰۷ء میں متعارف کروائی جانے والی سروس 146146موبائل نمبر پورٹ ایبلیٹی145145 پر بھی پابندی عائد کی گئ. جس کے ذریعے موبائل فون صارفین اپنا نمبر اور کوڈ تبدیل کئے بغیر کسی بھی دوسرے موبائل نیٹ ورک پر منتقل ہوسکتے تھے، جبکہ ڈھائ کروڑ ریکارڈ کی گئ.2013 میں
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پشاور ہائی کورٹ نے چیف جسٹس دوست محمد خان کی سر براہی میں اس صورتحال کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو موبائل فون کے غیر قانونی سمز فوری طور پر بند کرنے اور حکومت سےاس بارے میں دوبارہ قانون سازی کرنے کا کہا.160
چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ ملک میں جاری ہشت گردی کے واقعات میں غیر قانونی سمز( سبسکرائبرز آیڈنٹٹی ماڈیولز) استعمال ہو رہے ہیں، پی ٹی اے کو چاہیے کہ غیر قانونی سمز فوری کو فوری طور پر بند کردیں.یہی نہیں بلکہ اس دوران دس لاکھ سے اوپر ایکٹیو افغان سمز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا.
چیف جسٹس نے اس بارے میں کہا کہ نادرا خود مشکل میں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ غیر قانونی سمز کے خلاف قانون سازی ہونی چاہیے اور اگر اس بارے میں کوئی کارروائی نہ ہوئی تو انھیں اس بات پر مجبور نہ کیا جائے کہ وہ سیلولر کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرا دیں۔کیونکہ160
پاکستان میں غیر تصدیق شدہ سمز مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں
16 دسمبر کو وزارت داخلہ نے پشاور کے ایک اسکول پر حملے میں دہشت گردوں کی جانب سے رابطہ کے لیے 146بائیو میٹرک تصدیق شدہ145 سمز استعمال ہونے کے بعد یہ 28 روزہ ڈیڈ لائن مقرر کی اور موبائل آپریٹرز کے نمائندوں نے اس کم وقت میں رجسٹریشن کے اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر مملکت برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام انوشہ رحمان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل شاہ سے ایک ملاقات بھی کی تھی جس کے بعد فیصلہ ہوا تھا کہ دوبارہ تصدیق کے عمل کے لیے تین ماہ کی مہلت دی جائے گی۔
پی ٹی اے نے غیر قانونی سمز کے مجرمانہ استعمال کے بعد ماضی میں فروخت شدہ سمز کی تصدیق کے علاوہ نئے کنکشنز کی فروخت کے لیے جو بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا تھا۔اسکی بھی دھجیاں اڑائ جارہیں تھیں.گو کہ موبائل کمپنیوں کو کثیر تعداد میں کنکشن اور سبکرپشنز ختم ہونے پر جو تحفظات تھے وہ بھی کلیئر کیئے گئے تھے.اور جو سمز کسی وجہ سے ایکٹیو نہیں ہو سکیں تھیں اور مقررہ مدت میں بلاک ہوگئیں تھیں انکے لیئے بھی صارفین کو ایک موقع مزید دیا گیا تھا.یہی نہیں بلکہ نادرا سے تصدیقی عمل کی یہ فیس 35 سے گھٹا کر 10 سے 15کردی گئ تھی.
اس سے پہلے ایک آدمی کے نام پر کئ کئ سمز رجسٹرڈ تھیں.جبکہ یوز میں دو سمز ہی آتیں تھیں بلکہ ایسے شواہد بھی سامنے آئے کہ ایک کسٹمر کو اسکے شناختی کارڈ پر ایک سم کا ہی اجراء کیا جاتا ہے دوسری طرف اسی شناختی کارڈ پر اسی کے تھمب کے ذریعے مزید سمز ایکٹیو کرالی جاتیں ہیں اور دوسرے لوگوں کو فروخت کردی جاتیں ہیں.جنکا علم متعلقہ صارف کو بھی بعض اوقات نہیں ہوتا بلکہ عوامی سطح پر ضروری معلومات کے فقدان کا فرنچائز مالکان بے اندازہ فائدہ اٹھاتے ہیں.
پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (PTA) کو سال 2014-15ء کے دوران مقامی ٹیلی کام آپریٹرز جن میں انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز، موبائل آپریٹرز، ایل ڈی آئی (LDI) ڈبلیو ایل ایل (WLL) اور دیگر شامل کے خلاف مجموعی طور پر 40,445 عوامی شکایات موصول ہوئیں۔ پی ٹی اے کو موصول ہونے والی شکایات میں پی ٹی سی ایل (PTCL) کے خلاف سب سے زیادہ 15,593 شکایات موصول ہوئیں جبکہ موبائل آپریٹنگ کمپنی ٹیلی نار کے خلاف 6,862 شکایات ملیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے جانب سے جاری کئے جانیوالے ڈیٹا کے مطابق سال 2014-15ء میں گزشتہ سال کے مقابلے میں عوامی شکایات میں دس فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال کے دوران پی ٹی اے کو 36,092 وصول ہوئیں تھیں۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ شکایات موبائل سمز کی بائیو میٹرک تصدیق کے ضمن میں موصول ہوئیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ان میں سے 99 فیصد شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔ مجموعی طور پر موصول ہونے والی شکایات میں سب سے زیادہ یعنی 66 فیصد پی ٹی سی ایل کے خلاف تھیں اور یہ زیادہ تر اوور بلنگ، لائنز کی خرابی اور محکمانہ سروس کیخلاف تھیں۔ جبکہ 24فیصد شکایات موبائل کمپنیوں کے خلاف تھیں جن میں سے پی ٹی اے کے مطابق 98.7 فیصد شکایات کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ موبائل کمپنیوں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات میں سے 45.3 فیصد سروس کے غلط استعمال کے بارے تھیں جن میں دھوکہ دہی پر مبنی ایس ایم ایس اور غیر ضروری پیغامات کی وصولی کی شکایات کی گئیں تھیں۔ دیگر شکایات سمز کی تصدیق میں مشکلات کے حوالے سے تھیں۔ موبائل کمپنیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ شکایات ٹیلی نار کے خلاف موصول ہوئیں جو مجموعی شکایات کا 28 فیصد ہیں، دوسرے نمبر میں موبی لنک کے خلاف شکایات موصول ہوئیں جنکا تناسب 22 فیصد رہا، اسی طرح یو فون اور وارد کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کا تناسب 17 اور 11 فیصد رہا۔اس صورتحال کے بعد حالیہ رواں سال میں
160پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) نے نئی موبائل سم کی فروخت کیلئے کم از کم قیمت 200 روپے مقرر کر دی اور یہ نئی قیمت 99 دسمبر 2016ءسے تمام موبائل کمپنیوں کی سمیں فروخت کرنے پر لاگو ہو گی اور کوئی بھی کمپنی اس سے کم قیمت میں سم فروخت نہیں کرپائے گی۔اس ماہ کے اختتام پر شاید کروڑوں موبائل فونز پر واٹس ایپ کام کرنا بند کر دے اس سے پہلے سمیں کم قیمت پر یا بعض اوقات بالکل مفت بھی دی جاتیں تھیں.
160یہی نہیں بلکہ اس کیساتھ ساتھ مفت منٹس اور ایس ایم ایس وغیرہ بھی دئیے جاتے تھے۔ ایسی سمیں حاصل کرنے والے صارفین مفت حاصل ہونے والے منٹس اور ایس ایم ایس استعمال کرنے کے بعد انہیں پھینک دیتے تھے اور اس کے باعث بند سموں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا تھا۔160
پی ٹی اے کی نئی ہدایات کے مطابق اب موبائل آپریٹرز نئی سم 200 روپے کے عوض فروخت کریں گے۔ یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ صارفین کو لبھانے کیلئے کمپنیاں نئی سم میں مہیا کئے جانے والے مفت منٹس اور ایس ایم ایس کی تعداد میں اضافہ کر دیں گی۔واضح رہے کہ تمام سمیں بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ہی فروخت کی جاتی ہیں جبکہ ایک شناختی کارڈ پر ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 55 سمیں رجسٹرڈ کی جا سکتی ہیں۔اتنی لمبی چوڑی تمہید کا مقصد آپ کو اس سیریس مسلے سے مکمل طور پر آگاہی دینا تھا.کہ سمز کی غیر قانونی فروخت کے کیا نتائج مرتب ہورہے تھے اور اب تک حکومتی اداروں کی طرف سے اس ضمن میں کیا اور کہاں تک کاروائ روبہ ء عمل میں لائ جاچکی ہے.اب میں جو حقیقت آپ کے سامنے لارہی ہوں شاید اس سے حکومتی ادارے بھی لاعلم ہوں.اور شاید اس آرٹیکل کے پبلش ہونے کے بعد خود میری ذات بھی ان سیکور ہوجائے پر ہمارا کام اپنے قلم سے دیانت کرنے کا ہے معاشرے کی ناہمواریوں اور جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کے لیئے نشاندہی کا ہے سو ہم اپنا کام پوری سچائ سے اور دیانت داری سے انجام دیں گے. اسکے بعد کی ذمہ داری ملکی سیکورٹی عہدے داران پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس تمام صورتحال کا فوری نوٹس لیں.
ان تمام کاروائیوں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ادارے کی مستعدی کے باوجود ملک کے اندر نجی فرنچائز کی طرف سے غیر قانونی سمز کا اجراء تاحال جاری ہے.وہ بھی باقاعدہ طور پر بائیو میٹرک سمز ،جو کراچی میں بھی دھڑلے سے جاری کی جارہی ہیں. جنکی سرپرستی ملک کا ایک اہم قانونی ادارہ محکمہء پولیس کررہا ہے. یہ فرنچائز اپنے عملے میں ایسے نوجوانوں کو شامل کرتیں ہیں جو بے روزگاری سے تنگ آچکے ہوں.انکو اچھی تنخواہ کا جھانسہ دے کر اپنے ساتھ شریک کرلیا جاتا ہے. یہی نہیں بلکہ ان سے سادے پیپر پر حلف نامہ اور شورٹی کے بلینک چیکس بھی سائن کرائے جاتے ہیں.جسکے بعد انھیں ان غیر قانونی سمز کی فروخت کا پابند کیا جاتا ہے یہ سمز جو 600روپے مالیت کی نیٹ سمز،نارمل سم،اور3000 سے 3500تک کی MBBسمز پر مشتمل ہیں بشمول نیٹ ڈیوائس کو مہینے کے آخری دنوں میں مطلوبہ ٹارگٹ ایچیو کرنے کے لیئے کمپنی کے ان نوجوانوں کو جن میں بالترتیب RSO,DSOبشمول آفس کا نچلا عملہ شامل ہےتقریبا 25,25 سموں کی صورت تقسیم کردیا جاتا ہے.ان مالکان کے محکمہء پولیس میں بھی اعلی افسران سے روابط ہیں جنکے بل پر عملے کو ہراساں کرکے ان سے اپنا کام کروایا جاتا ہے روز اتنی تعداد میں سمز کی فروخت وہ بھی جنکی قیمت اور بیلنس پیکجز عام قوت خرید سے باہر ہو ناممکن ہے.اسلیئے انھیں کسی بھی ایسے علاقے میں جہاں کے لوگ اس معاملے کی نزاکت سے لاعلم ہوں جاکر ایک چھ سو والی مفت سم کا لالچ دے کر ایک NICکارڈ پر ایک سے زیادہ سمز نکال لی جاتیں ہیں.جنھیں بعد میں مختلف شاپس پر فروخت کے لیئے رکھوادیا جاتا ہے.جو اگر مہینہ پورا ہونے پر فروخت نہیں ہو پاتیں تو آگے یہ دوسرے لوگوں میں مفت تقسیم بھی کردی جاتیں ہیں اور انکا استعمال شدہ اور انکا ضائع شدہ بیلنس اور انکی قیمت خرید ورکرز کی بیلنس شیٹ پر پلس کردی جاتی ہے یعنہ انکے کھاتے میں جوڑ دی جاتی ہے یہی نہیں اسکے علاوہ اگر وہ دوکانوں سے کیش اٹھاتے وقت لوٹ مار کرنے والے عناصر کا شکار ہوجائیں اور وہ اماؤنٹ ایک مخصوص حد سے تجاوز ہو تو وہ بھی اس غریب پر واجب الادا ہوجاتا ہے.اسطرح وہ نہ صرف غیر قانونی طریقے سے سمز کی فروخت میں منافع حاصل کرتے ہیں بلکہ ورکرز کو بھی ہراسمنٹ کرکے ان سے یہ بلاوجہ کے ڈیوز وصول کیئے جاتے ہیں جو انھوں نے کبھی اپنے خوابوں میں بھی خرچ نہیں کیئے ہوں گے بہت سے نوجوان اس صورتحال سے تنگ آکر جان چھڑانے کے لیئے اپنا تمام اثاثہ بھی داؤ پر لگادیتے ہیں چاہے وہ گھر کے پیپرز ہوں یا زیورات جو نجی فرنچائز اپنے پاس گروی رکھ لیتی ہیں اور بعد ازاں فروخت بھی کردیتی ہیں.جو شرعی اور قانونی لحاظ سے بذات خود ایک ناقابل تلافی جرم ہے سادے کاغذ پر لیئے گئے حلف نامے پرانے اسٹیمپ پیپر ز پر کنورٹ کردیئے جاتے ہیں.اور شورٹی کے چیکس بھی آگےازخود سسپیکٹ کو انفارم کیئے بغیرکیش کرائے جاتے ہیں.واضح رہے کہ اسٹمیپ پیپر ایک دو دن سے زیادہ پرانا استعمال کرنے کی ممانعت ہے اور ایسے پرانے پیپرز یوز کرنے پر متعلقہ اسٹیمپ ونڈر اور ایڈوکیٹ کے خلاف قانونی چارہ جوئ حکومت کرنے کی مجاز ہے بلکہ ا نکے ورک پرمٹ بھی کورٹ کی کاروائ کے ساتھ ہی کینسل کیئے جاسکتے ہیں.سزا الگ اور شورٹی چیکس سیکورٹی کلیئرنس کے لیئے دیئے جاتے ہیں انھیں کیش کرانا بھی کسی جرم سے کم نہیں.اور پھر اس بیس پر ورکرز کو ہراساں کرکے انھین کام پر مجبور کرنا اور اریسٹ کروانے کی دھمکی دینا وہ بھی اپنے مقررہ تھانوں میں جبکہ ہر تھانہ اپنی مجوزہ مقررہ حدود کے اندر کاروائ کا ہی مجاز ہے بذات خود قانونی ادارے کے اختیارات سے کھلواڑ کے مترادف ہے اور پھر ملک کے ہر باعزت شہری کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ اسکی شخصی عزت پر اگر کوئ جھوٹا کرمنل ریکارڈ بنایا جائے تو وہ عدالت سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے اور پھر یہ سمز کوئ بھی استعمال کرسکتا ہے اور تحقیقات ہونے کے نتیجے میں اسکا شکار عام شہری بنتے ہیں جنکے وہم و گمان میں بھی نہین ہوتا کہ انکے نام پر نکلی سم کسی دہشت گرد نیٹ ورک میں بھی رابطے کے لیئے استعمال ہوسکتی ہے .ذرا سوچیئےملک کے اندر ملازمتوں کے مواقع کم ہونے کے کیا نتائج مرتب ہورہے ہیں ہمارے نوجوان ملک سے باہر جاب تلاش کرنے کے چکر میں اکثر انسانی اسمگلرز کا شکار ہوجاتے ہیں.جو ملک کے اندر رہ کر کوشش کرتے ہیں وہ ایسے کرمیلنز عناصر کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتے ہیں. یہ مسلہ بہت سیریس ہے اور حل طلب بھی ایک طرف یہ غیر قانونی اقدام سرکاری پشت پناہی میں سرانجام دیا جارہا ہے دوسری طرف ایسی سمز اور نیٹ ورک دہشت گردی میں سول ڈیفینس کے خلاف استعمال ہورہے ہیں صرف نفع کے حصول کے لیئے ملکی سیکورٹی کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ہمارا ملکی سرمایہ ء افتخار غیر یقینی کا شکار ہورہا ہے اور شرپسند عناصر کا مجبوراً آلہ ء کار بن رہا ہے.میری MOC,ISI،ڈیفینس فورس، منسٹری آف کمیونیکشن، وفاقی محتسب اور پاکستان ٹیلی کمیونیکشن PTA160
سے درد مندانہ اپیل ہے کہ مہربانی کرکے اس سارے معاملے کی قانونی جانچ کی جائے اورایسی تمام فرنچائز کی ملک بھر سے خصوصا کراچی میں سے نشاندہی کے بعد انکے خلاف صاف اور شفاف بنیادوں پر قانونی کاروائ کی جائے.اور زیر ہراسمنٹ عملے کو تحفظ بھی فراہم کیا جائے.اور موبائل کمپنیوں کو فرنچائز کے قیام اور سمز کی فروخت کے لیئے نئے قوانین کا اجراء کیا جائے عوام کو میڈیا کے ذریعے باخبر کیا جائے کہ وہ ایسی سمز کے اجراء میں معاون ثابت ہوئے تو اسکے لیئے حکومت سخت قانونی کاروائ کی مجاز ہوگی بلکہ اسکو جرم قرار دے کر اس پر سزا اور جرمانہ بھی رکھاجائے.یاد رہے سخت قوانین تب ہی بنائے جاتے ہیں جب وہ ناگزیر ہوجائیں.اور ملکی سیکورٹی کو خدشات لاحق ہوجائیں ورنہ نہ ہم اپنی یوتھ کو کنٹرول کرسکیں گے اور نہ ہی ان دہشت گردوں کو جو بڑے آرام سے سارے وسائل استعمال کرکے آئے دن کہیں نہ کہیں انسانی جانوں کے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتے ہیں.ہمیں اپنی جڑوں سےان عناصر کو بھی پہنچان کر باہر نکال پھینکنا ہوگا جو ہمارے اہم ملکی اداروں کو کھوکھلا کررہے ہیں.میں امید کرتی ہوں کہ ہمارا میڈیا اور ایم ملکی سربراہان اس بات کا ازخود نوٹس لیں گے.

حصہ