حدِ ادب
انوار حسین حقی
بدیسی پرندوں کا شکار اور عرب شیوخ
______________
خطہ عرب سے عالم اسلام اور پاکستان کی محبت اور عقیدت میں کسی کو کلام نہیں ہے ۔ لیکن عرب ممالک کے متمول حکمرانوں کا معاملہ الگ سے ہے ۔ ان کی دولت کی فراوانی نے بہت سے ترقی پذیر ممالک پر اپنا بے پناہ اثر و رسوخ قائم کر رکھا ہے ۔اسلامی دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کے اکثر حکمران اپنے ممالک میں عرب حکمرانوں اور ان کے خاندان کے افراد سے تعلقات نبھاتے وقت اپنے ممالک کے قوانین کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ عرب شہزادے اور مالدار شیوخ پاکستان کی سیاست اور معاشرت پر بھر پور انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں ۔ صحرا کے ان شیخوں کی سرشت بڑی عجیب ہے ان میں سے بعض اپنے ملک میں چوروں کے ہاتھ کاٹتے ہیں لیکن دوسرے ملکوں کے ’’من پسند وں‘‘ کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔
ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ پانچ عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے شاہی خاندان کے افراد کو تلور سمیت سائبیریا سے آنے والے آبی پرندوں کے شکار کے اجازت نامے جاری کر دیئے گئے ہیں ‘‘
اب ہوگا یہ کہ عرب شاہی خاندان کے قافلے سی ون طیاروں کے ذریعے بھاری سامان جن میں ایئر کنڈیشنز خیموں ، گاڑیوں اور آلات سمیت سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے الاٹ کردہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہو جائیں گے ۔ جہاں وہ نومبر سے مارچ تک ان پروندوں کا شکار کریں گے ۔پاکستان میں جہاں انسانی خون کی ارزانی کا دور دورہ ہے وہاں ان دنوں شدید ترین سردی کے باعث خوراک اور پناہ کی تلاش میں پاکستان آنے والے آبی پرندوں کے بے دریغ شکار کی اطلاعات عام ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’تلور‘‘ بین الاقوامی قوانین کے مطابق نایاب پرندوں کی اُس ریٖڈ لسٹ میں شامل ہے جن کی نسل کو معدومیت کا خطرہ ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق 60 سینٹی میٹر لمبے اور 140 سینٹی میٹر پروں کے پھیلاو والے اس پرندے کی دنیا بھر میں کل تعداد ایک لاکھ سے بھی کم رہ گئی ہے ۔ پاکستان میں اس پرندے کی دو فیصد آبادی ایک سیزن میں شکار ہو جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں 1992 ء سے 2004 ء تک مخلتف عدالتیں اس کے شکار پر پابندی عائد کرتی رہی ہیں اور اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کے بعد یہ پابندی ختم ہوتی رہی ہے ۔
ماضی قریب میں جب اس پرندے کے شکار پر مکمل پابندی عائد تھی تو عرب شیوخ نے پاکستان میں ایک ادارے کے ذریعے اس پابندی کے مقامی آبادی کے روزگار پر پڑنے والے مضر اثرات کی بھاری سرمائے کی لاگت سے دستاویز ی فلم بھی تیار کر وائی تھی ۔
تلور منگولیا ، سایبیریا اور سینٹر ل ایشیاء کے سرد ترین علاقوں سے سخت ترین سردی کے موسم میں پانچ سے سات دنوں کے مختصر عرصے میں ساڑے پانچ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ٹھٹھہ ، دھابیجی ، جنگ شاہی ، جامشورو، جھمپر ، خیر پور، نواب شاہ ، ننگر پارکر ، مچھ، چاغی ، ڈیرہ بگٹی ، قلعہ سیف اللہ ، چشمہ بیراج ، چولستان ، ڈیرہ غازی خان ، ڈیرہ اسماعیل خان اور بہاولپور کے علاقوں میں پہنچتے ہیں ۔
پنجاب کے شمال مغربی ضلع میانوالی سے موسم سرما کے چار مہینوں اکتوبر سے جنوری تک آبی پرندے بڑی تعداد میں شکار کےئے جاتے ہیں۔ روایتی شکاریوں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بیوروکریٹ اور سیاستدان بھی اس ممنوعہ شکار میں دلچسپی لیتے ہیں ۔قدرت نے ہمارے ملک کو موسموں کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ فطرت کی تمام ترخوبصورتیوں سے نوازا ہے۔ موسم سرما کی شدت کے ساتھ ہی روس کے برفانی علاقوں سے ہجرت کرنے والے مختلف اقسام کے خوبصورت پرندوں کی بڑی تعداد ہماری جھیلوں کا رُخ کرتی ہے۔ ان میں مرغابی، نیل سر اور سائبرین کرین( سفید کونج ) شامل ہیں۔ جس بڑی تعداد میں یہ خوبصورت پرندے پاکستان کا رُخ کرتے ہیں اُسی بے دردی کے ساتھ یہ شکاریوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ہجرتوں کے موسموں اور بے دریغ شکار نے فطرت کے شاہکار ان خوبصورت پرندوں میں سے تلور کے ساتھ ساتھ سفید کونج (Siberian Crane ) کی نسل کی بقاء کو شدید ترین خطرات سے دو چار کر رکھا ہے۔
سائبیر یا کے دریائے ’’ اوب‘‘ کے کنارے چھوٹی بڑی آبگاہوں کے پھیلے ہوئے طویل سلسلہ میں پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والی سفید کونج موسمِ سرما کے آغاز میں اس وقت نسبتاً گرم علاقوں کا رخ کرتی ہے جب سردی اور برف جمنے کی وجہ سے دریاؤں اور جھیلوں کی مچھلیاں پانی کی تہ میں چلی جاتی ہیں۔سفید کونج کا چہرہ چونچ سے لے کر آنکھوں سے کچھ اوپر تک سرخ رنگ کے نقاب سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے۔جو اس سفید بُراق رنگ کے آبی پرندے کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔سفید کونج کو انگریزی میں سائبیرین کرین (Siberian Crane )اور سائنسی اصطلاح میں اس کی نسل کو Leucogeranus Gurs کہتے ہیں۔اس کا قد ایک اعشاریہ چار میٹر تک بلند ہوتا ہے۔سفید کونج کے پروں کی لمبائی 2.1 سے 2.3 ،میٹر تک ہوتی ہے جبکہ وزن 4.9 سے 8.6 کلو گرام تک ہوتا ہے۔نر اور مادہ کونج تقریباً ایک جیسی ہی جسامت اور رنگ و روپ رکھتی ہیں۔تاہم نر کونج کا قد ذرا نکلتا ہوا ہوتا ہے۔سائبیریامیں اس کونج کی تین بڑی آبادیاں ہیں۔ کونجوں کی دوسری بڑی آبادی ’’ مرکزی‘‘جو کہ مغربی سائبیریا میں ہے سے ہر سال سفید کونجوں کی بڑی تعداد 3700 میل کا فاصلہ طے کرکے افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے پرواز کرتے ہوئے بھارت کے علاقے راجھستان میں واقع کیولا نیشنل پارک اور بھرت پور تک پہنچتی ہے۔مئی اور جولائی کا وسط سائبیرین کونج کے انڈے دینے کا موسم ہوتا ہے۔یہ صرف دو انڈے دیتی ہے جن میں سے صرف ایک بچہ نکلتا ہے۔ اس لئے اس کی افزائشِ نسل بہت ہی محدود ہے۔ماحول پر کام کرنے والے کہتے ہیں کہ سائبیریا سے ہجرت، سرمائی ٹھکانوں کی ترقیاتی سرگرمیوں اور بے دریغ شکار نے سفید کونج کی نسل کی بقاء کو سنگین خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ہمارے علاقوں میں جاری تلور، سرخاب ، سایبیرئن کرین ،مرغابیوں اور دیگر آبی پرندوں کے بے دریغ شکار نے ان نایاب پرندوں کی نسل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ سائبیرین کرین کی نسل کی بقاء کے لئے 1970 ء سے کوششیں کی جارہی ہیں۔لیکن اس کے باوجود اس کی اس کی نسل میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ تلور کی طرح یہ خوبصورت پرندہ بھی ماحول کی عالمی انجمن ’’ آئی یو سی این‘‘ کی بقاء کے خطرات سے دو چار جانوروں اور طیور( پرندوں) کی سرخ فہرست2002 (Red list ) میں شامل ہے۔اور اسے شدیدخطرات سے دوچار پرندے کا درجہ دیا گیا ہے۔سائبیرین کرین کو خطرات سے دوچار جانوروں اور پودوں کی عالمی تجارت سے متعلق معاہدے CITES اور ہجرت کرنے والے پرندوں سے متعلق عالمی معاہدے جسے ’’ بون کنونشن‘‘ بھی کہتے ہیں کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
چاروں صوبوں میں وائلڈ لائف کے تحفظ کے لئے محکمے قائم ہیں۔ اربوں روپئے کے فنڈز ان محکموں پر خرچ کئے جارہے ہیں۔ لیکن یہ محکمے جنگلی حیات کے تحفظ میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔
ہمارے ملک میں قتل و غارت گری اس قد ر بڑھ گئی ہے انسان کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے برابر قرار دینے کے دین والے ملک میں انسانی جان کی قیمت اس قدر ارزاں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ایسے ماحول میں ہمار ی توجہ فطرت کی دیگر نعمتوں کے تشکر اور تحفط کی جانب کم ہی پڑتی ہے۔ ملک بھر میں جھیلوں کے کنارے بدیسی پرندوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ لیکن ہم میں سے کوئی بھی اس جانب متوجہ ہیں ہو رہا ہے۔
پاکستان نے ’’ ریو کانفرنس‘‘ میں حیاتیاتی تنوع کے معاہدے کو تسلیم کرنے اور اس عمل پیرا ہونے کا وعدہ بھی کیا تھا اور اس معاہدے پر دستخط بھی کئے تھے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں ماحول اور حیاتیاتی تنوع خطرات سے دو چار ہے۔ تمام جانداربشمول انسان خالقِ کائنات کی زمین کے ماحولیاتی نظام میں ایک دوسرے میں پیوست کڑیاں ہیں لیکن اگر تلور اور سفید کونج کی نسل بے درئغ شکار کی وجہ سے ختم ہو گئی تو زمین کے ماحولیاتی نظام کی اس کڑی کے نقصان کی انسان کیسے تلافی کرے گا۔

حصہ