میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن
تحریر :. عالیہ جمشید خاکوانی

جب ہم چھوٹے تھے تب ٹرانسسٹرریڈیو کا بڑا رواج ہوا کرتا تھا چھوٹے بڑے ہر سائز کے ریڈیو ہوتے ہمارے ایک بابا جی یہ ریڈیو سینے پر دھرے بڑے شوق سے بی بی سی اور ریڈیو جموں کشمیر سنا کرتے اکثر آدھی رات کو میری آنکھ اس نغمے پر کھل جاتی تھی شائد کچھ الفاظ مختلف ہوں لیکن میری یاداشت کے مطابق نغمے کے بول کچھ یوں تھے ،میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن،،ستم جرار سے تجھ کو چھڑائیں گے ایک دن ۔۔۔بڑے ہونے پر پتہ چلا یہ کشمیر ہے جس پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں کے لوگ آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں یہ ہی سنتے سنتے ہم جوان ہوئے کہ کشمیر آزاد کروائیں گے لیکن کشمیر کا مسلہ آج بھی وہیں کھڑا ہے اس مسلے پر پاکستان اور بھارت میں تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں ۔کشمیر سے بزور طاقت انڈیا اب تک کم از کم پندرہ لاکھ کشمیریوں کو علاقہ بدر کر چکا ہے اس کے علاوہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں میں پچھلے کئی سالوں سے بڑی تیزی سے ہندووں کی آبادکاری کر رہا ہے جس کے بعد انڈین اعداد و شمار کے مطابق لداخ،جموں و کشمیر میں ہندووں کو مسلمانوں پر اکثریت حاصل ہو گئی ہے اب اگر وہ صرف اپنے زیر قبضہ علاقوں میں رائے شماری کرائے تو انڈیا کشمیر جیت سکتا ہے لیکن اس پر ہماری جمہوری حکومت کوئی آواز نہیں اٹھا رہی پاکستان کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق انڈیا اب تک مقبوضہ کشمیر میں 92651کو شہید 105657مکانات تباہ 107208بچے یتیم 22670عورتیں بیوہ9843عورتوں کی بے حرمتی کے واقعات ہو چکے ہیں لیکن اس ظلم عظیم کے باوجود وہاں کے مسلمانوں میں جزبہ آزادی پہلے دن کی طرح تازہ ہے اس کا ایک ثبوت کشمیر کے موجودہ حالات ہیں جو پاکستان پوری طاقت سے دنیا کے سامنے پیش کر کے یہ ظلم بند کروا سکتا ہے پاکستان کے موجودہ سپہ سالار جنرل راحیل شریف اپنے خطابات میں کئی بار اس عزم کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وہ مظلوم کشمیریوں کی اخلاقی مدد جاری رکھیں گے لیکن ہماری جمہوری حکومت اس معاملے میں آواز تک اٹھانے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم ہے چیئر مین جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ یسین ملک اس کی تازہ مثال ہیں جنھوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کی تو ظالموں نے ان پر پانی بھی بند کر دیا جس کی وجہ سے پانچویں دن یسین ملک لڑکھڑا کر گر پڑے تب انہیں غلط انجکشن لگا دیا گیا جس کی وجہ سے انکی حالت بگڑ گئی اور شریان پھٹ جانے کی وجہ سے ایک بازو بھی ناکارہ ہو گیا ابھی تک ان کی طرف سے حالت تشویشناک ہی بتائی جا رہی ہے یسین ملک کی جوان بیوی مشعال ملک یہ خبر سن کر خود بھی ہوش کھو بیٹھیں وہ نرم و نازک لڑکی جو ایک کانفرنس میں یسین ملک کو سن کر انہیں دل دے بیٹھی تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ یسین ملک کس کٹھن راستے کے مسافر ہیں انہیں ہمسفر چن لیا اور وہ خود بھی اس راہ کی مسافر ہو گئی ہیں اسی طرح کی ایک مسافر محترمہ آسیہ اندرابی بھی ہیں جن کو پاکستانی قوم اس حوالے سے جانتی ہے کہ وہ ہر سال چودہ اگست کو جموں وکشمیر کے شہر سرینگر میں پاکستانی پرچم لہراتی ہیں آسیہ اور عاشق حسین فاکتو کی شادی 1990میں ہوئی جب آسیہ اندرابی کا بچہ چھ ماہ کا تھاتب ان کے شوہر کو قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ان کی بیوی اور چھ ماہ کے بچے کو بھی ساتھ ہی گرفتار کیا گیا جنھیں 1995میں چھوڑ دیا گیا لیکن عاشق حسین فاکتو جنھیں چودہ سال عمر قید کی سزا ہوئی تھی ہنو زچوبیس سال سے جیل میں ہیں فاکتو جموں و کشمیر بلکہ جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی جیل کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں آسیہ اندرابی بھی گاہے گاہے گرفتار اور رہا ہوتی رہتی ہیں لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے دار بھارت نے عاشق حسین فاکتو کو رہا نہیں کیا عاشق حسین فاکتو نے جیل میں رہتے ہوئے اسلامک سٹڈیز میں نہ صرف پی ایچ ڈی کر لی ہے بلکہ 125قیدیوں کو گریجویشن بھی کروائی ہے کشمیری ایک باشعور قوم ہیں جو برسوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں حال ہی میں وانی شہید کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کو ایک نئی طاقت ملی ہے کشمیر کی موجودہ نسل بھی آزادی کے لیے اتنی ہی پرجوش ہے جتنی پرانی نسل تھی کشمیریوں نے محاورۃ نہیں حقیقتاً خون کے آنسو بہائے ہیں پیلیٹ گن کے چھروں نے تقریبا ایک ہزار کشمیریوں کی بینائی چھین لی ہے ان کشمیریوں کے خوبصورت چہروں پر پڑنے والے چھروں کے نشانات پر پوری دنیا چیخ اٹھی اگر اثر نہ ہوا تو ہمارے حکمرانوں پر جنھوں نے جانے کس مصلحت کے تحت لب سی لیے ہیں بلکہ پاکستان میں سب سے زیادہ بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف نے کارگل جنگ کو بھارت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا تھا جو حقیقتا کشمیر کی آزادی کی جنگ تھی جہاں بھارت کی دو لاکھ فوج کو مٹھی بھر پاک فوج اور مجاہدین نے بے بس کر دیا تھا پاکستان اس جنگ میں کس قدر حاوی تھا اس کا اندازا اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ کارگل کی چھ چوٹیوں میں سے صرف ایک چوٹی پر جنگ لڑی جا رہی تھی اگر یہ جنگ مزید کچھ عرصہ جاری رہتی تو کشمیر میں موجود بھارت کی کئی لاکھ فوج کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا پاکستان کارگل کی چھ چوٹیوں پر قبضہ کر چکا تھا پاکستان نے بے عین وہی حکمت عملی اپنائی جو انڈیا نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاچن پہ آزمائی تھی کارگل کی جنگ سیاچن پہ انڈیا کے ناجائز قبضے کا جواب تھی جس طرح انڈیا نے سیاچن پہ سردیوں میں پاکستان کے خالی کیے گئے مورچوں پر قبضہ جمایا تھا پاکستان نے بے عین اسی طرح انڈین کے خالی کیے گئے مورچوں پر قبضہ جما لیا جس پر بھارت پوری دنیا کے سامنے چیخ پڑا اور نواز شریف نے کارگل جنگ میں مجاہدین اور پاک فوج کو غیر مشروط طور پر پہاڑوں کی چوٹیوں سے واپس بلا کر ایک جیتی ہوئی جنگ کو ہار میں بدل دیا ۔کشمیر کاز کو پہلا بڑا نقصان بھٹو نے شملہ معاہدے میں پہنچایا جس میں سیز فائر لائن کو نہ صرف لائن آف کنٹرول تسلیم کر لیا بلکہ یہ بھی مان لیا کہ مسلہ کشمیر کو ہمیں کسی تیسرے فریق کو ملوث کیے بغیر حل کرنا چاہیے بھٹو کی یہ شق تسلیم کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ کی کشمیر کے مسلے میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ گئی اس سے پہلے اقوام متحدہ کشمیر کے مسلے پر کم از کم ڈیڈھ درجن قرار دادیں پاس کر چکا تھا بے نظیر نے خالصتان تحریک تباہ کر کے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا مولانا فضل الرحمن نے 2002کے اپنے انڈیا کے دورے کے موقع پر نہ صرف کشمیر کو علاقائی تنازع قرار دیا بلکہ وہاں مجاہدین کی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دے دیا انہی مولانا کو کشمیر کمیٹی کا چیئر مین بنایا گیا تو کشمیر پر پاکستان کی آواز خاموش ہو گئی جس کے بعد نومبر 2010 میں اقوام متحدہ نے کشمیر کو اپنے متنازع علاقوں کی فہرست سے نکال دیا اس پر مولانا اور اس وقت کی جمہوری حکومت بالکل خاموش رہیں
حتی کہ پاکستان میں بھی اکثر لوگوں کو پتہ تک نہ چلا کہ کتنا بڑا نقصان ہو چکا ہے مشرف نے اپنے دور میں انڈیا کو لائن آف کمٹرول پر باڑھ لگانے کی اجازت دی جو کہ ایک غلط فیصلہ تھا حالانک مشرف کشمیر کو آزاد کرانے کی ایک کوشش کارگل جنگ کی صورت میں کر چکے تھے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت خصوصی حیثیت دی ہوئی ہے لیکن یاد رکھیے کشمیر کو اقوام متحدہ نے آج بھی انڈیا کا حصہ تسلیم نہیں کیا نہ ہی پاکستان نے اور نہ ہی کشمیری عوام نے ۔کشمیر پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے صرف اسی کو دیکھا جائے تو کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اور حساس تنازع ہے جو ہمارے جمہوری حکمرانوں کی بے حسی کی نظر ہو رہا ہے

حصہ