ماروی اور شیریں۔۔۔ گندی عورتیں . تحریر . مصطفیٰ آفریدی
گو کہ سپیکر صاحب نےخواجہ آصف کی بازاری جگت کے لاشے کو حذف کا کفن پہنا کرکلمہ لکھی قومی اسمبلی کے قبرستان میں خاموشی سے دفنا دیا ہے لیکن اس لاشے کی بدبو ابھی تک نتھنوں سے ٹکرا رہی ہے۔ جس دن اس لاش کے گرنے کی خبر عام ہوئی تو دل سے آواز آئی “کاش شیریں مزاری کی جگہ ماروی سرمد ہوتی تو خواجہ صاحب کی جگت کا ایسا کرارا جواب دیتی کہ وہ اگلی بار اسمبلی آنے سے پہلے دروازے کی اوٹ سے چھپ کر دیکھتے کہ ماروی سرمد تو نہیں بیٹھی کہیں۔ بیٹھی ہوتی تو ہمارے انتہائی طاقتور وزیر دفاع اپنا دفاع کرتے ہوۓ خاموشی سے سٹک لیتے”
لیکن ابھی ابھی فیس بک پر ماروی کی ایک پوسٹ پڑھ کر اس خوش گمانی کے سارے بت ٹوٹ گئے۔ ان کے بقول کسی ٹاک شو میں کسی بات کے جواب میں حافظ حمد اللہ نام کے کسی سینیٹر صاحب غصے میں آ کر فرمانے لگے کہ وہ نہ صرف ماروی کی بلکہ انکی والدہ کی بھی شلوار اتار دیں گے۔
واہ حافظ صاحب واہ کیا کہنے دل کر رہا ہے آپ کے محرابی ماتھے کا بوسہ لے لوں جس زبان سے یہ لفظ نکلے ہیں اس زبان کو لاکھوں سلام۔
ماروی نے لکھا حافظ جی اتنے بھڑک اٹھے کہ وہاں موجود فیض چوہان انہیں قابو نہ کرتے تو انہوں نے ماروی کو ایک دو کھڑکا بھی دینی تھی۔
ارے حافظ جی کیا ہو گیا اتنا غصہ کیوں۔۔
چلیں انسان ہے کبھی کبھی غصہ کر جاتا ہے خصوصا عورت پر غصہ کرنا تو واجب ہے لیکن حضور آپ تو اپنے شیرانی صاحب سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے وہ تو ہلکے پھلکے تشدد کے حامی ہیں آپ تو شلواروں پر ہاتھ ڈالنے لگے۔ ایسی بھی کیا وحشت آن پڑی۔ بدقسمتی سے ٹاک شو کے پروڈیوسر بھی سپیکر صاحب کی طرح حذف کی کارروائی ڈال کے ملک و قوم کو ان زریں جملوں کی بھنک بھی نہیں پڑنے دیں گے اور حافظ جی کے لاکھوں چاہنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا وہ سینہ ٹھوک کر نہیں کہہ پائیں گے کہ دیکھا ہمارے حافظ حمد اللہ کیسے الله کی حمد و ثنا پڑھ کر ایک بے پردہ بے ادب گستاخ عورت پر چڑھ دوڑے۔ جس طرح خواجہ صاحب کے متوالے قہقہے لگاتے پھرتے ہیں کہ ان کے رہنما نے کیسے پیشہ ور بھانڈوں کی مزدوری پر لات ماری۔
میں تب سے اب تک یہی سوچے جا رہا ہوں کہ وزیر دفاع ہو یا بندہ خدا، ان کی نظر کرم عورت پر ہی کیوں پڑتی ہے۔ ان کی زبان اور ہاتھ عورت کے لئے کیوں چلتے ہیں چاہے وہ ان کے گھر میں بیٹھی ہو ان کے ساتھ اسمبلی یا کسی ٹاک شو میں میں بات کر رہی ہو۔ ہم اور آپ یوں ہی سینہ تانے پھرتے ہیں کہ آج کل پاکستانی عورت بولنے لگی ہے اسے اپنے حقوق کی بھوک لگنے لگی ہے وہ سوال کرتی ہے جواب مانگتی ہے۔ ارے صاحب ایسا کچھ نہیں ہے پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل خواجہ آصف کے لیے ڈاکٹر شیریں مزاری آج بھی ٹریکٹر ٹرالی ہے اور بلوچستان کے کسی مدرسے سے آنے والےصاحب دستار کا ہاتھ آج بھی ماروی سرمدکی شلوار اتارنے کو بےچین ہے تا کہ اس کو احساس دلایا جا سکے کہ وہ جس کام کے لئے بنی ہے اسی تک محدود رہے۔ ذرا آنکھ دکھانے کی کوشش کی تو شلوار اتار کے آنکھیں ہمیشہ کے لیے جھکا دی جائیں گی۔
لہٰذا اے پاک دیس کے پاک باسیو، خوش گمانیوں کے جنگل سے باہر آؤ۔ آنکھیں ملتے ملتے دیکھو تمہیں پارلیمنٹ اور ٹاک شوز میں اپنی شلوار بچانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ لاہور میں چارپائی سے بندھی کوئی ماروی جلتی نظر آئے گی۔ مری میں بھی کسی لاوارث گاڑی میں کوئی شیریں کوئلہ بنی دکھائی دے گی۔

حصہ