neelab mianwali picture

ہریش چند نکڑہ کی کتاب وچھڑا وطن ……… میانوالی
میانوالی کے بازارچھلو شاہ دا چوک اور دھاری شاہ پنساری… ( چوتھی قسط )
ریلوے اسٹیشن کے عین سامنے میانوالی کی تین اہم سڑکوں میں درمیا ن میں سڑک ایک تھی اسے مین بازار یا صرف بازار کہتے تھے ۔باقی دو میں شمالی جانب کچہری روڈ اور جنوب میں گروبازار شامل تھے۔جب آپ سواری پر یا پیدل بازار میں آگے جاتے تو دائیں طرف ریلوے سٹاف کوارٹر،غلہ منڈی اور سٹیشن چوک سے قریباً آدھا میل آگے شہر کا واحد برف کارخانہ تھا۔
عام طور پر لوگ پیدل چلتے اور سڑک پر ٹانگے،گھوڑے اور چند گدھوں کے علاوہ کچھ سائیکل سوار بھی نظر آتے تھے۔صبح کے وقت دکاندار اپنی دکانیں کھولتے دیکھے جاسکتے تھے جن کی دکانوں کے چبوترے (تھڑا) سڑک تک بڑھے ہوتے اور سائے کیلئے پٹ سن کا کپڑا (چھجا)تنا ہوتا۔بازار میں زیادہ تر مر د ہی نظر آتے کیونکہ عورتیں اکثر گھروں تک ہی محدود تھیں۔بازارمیں مختلف قسم کی دکانیں تھیں جن میں اکثر چھوٹی اور کم سامان والی تھیں اور چیزیں بہت غیر منظم انداز میں نمائش کے لئے رکھی ہوئی تھیں۔
میاں زکری کا احترام نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی کرتے تھے ان میں سے کچھ ہر جمعے درگاہ پر مفت کھانے(دیگ)میں بھی حصہ وصول کرتے تھے۔
میانوالی کے محلے
بازار کے ساتھ ساتھ دکانوں کے پیچھے دنوں طرف مختلف رہائشی علاقے، محلے تھے۔ زیادہ ترمحلوں کے نام خاندانوں یا ان ذاتوں کی وجہ سے پڑے تھے جو یہاں رہائش پذیر تھیں۔بہت سال پہلے جب لوگ یہاں نقل مکانی کرکے آئے،زمین بلکل مفت تھی اور سب نے اپنی ضرورت اور تعمیر کی استطاعت کیمطابق جگہ پر قبضہ کرلیا۔حفاظت کے پیش نظر وہ لوگ جو بعد میں نقل مکانی کرکے آئے انہوں نے اپنے انہی رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں کے ساتھ گھر بنانے کو ترجیح دی جن کے پاس فالتو جگہ پڑی تھی۔ایک ہی علاقے میں آباد خاندانوں کی وجہ سے اس خاندان یا ذات کا محلہ وجود میں آجاتا۔چنانچہ کا لڑا ں دا محلہ،مہندرثاں دا محلہ ،بازار کی شمالی طرف جبکہ خوشابیوں ، آہوجوں کے محلے بازار کی جنوبی طرف واقع تھے۔
مسلمان زیادہ تر مغرب میں شہر کے مضافات اورشمال میں میاناں دا کھوہ جسے ’’اینٹھے آلا کھوہ‘‘بھی کہتے تھے کے آس پاس کے علاقوں میں آباد تھے۔اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اگرچہ میانوالی قصبے کی بنیادمسلمانوں (میانڑاں)نے ڈالی۔ یہ ہندو تھے جنہوں نے یہاں نقل مکانی میں پہل کی اور ان علاقوں پر قبضہ کیا جو قصبے کا مرکز بنے۔ مسلمان بعد میں آئے اور مضافات میں آباد ہوئے۔
سٹیشن سے اپنے گھر آنے کیلئے پہلے مین بازارمیں بھولے دا چوک آتا جہاں پر بھولا پکوڑاں والا کی دکان تھی جو قصبے میں بلاشبہ سب سے بہترین پکوڑے بناتا تھا۔قریب ہی ’’ہیم راج دی مسیت‘‘ تھی۔ (ہیم راج کی مسجد)جس کا نام ہیم راج کے نام پر تھا۔ہیم راج ایک ہندو حکیم تھا جو مسلمان ہوگیا اور اپنی دکان مسلمانوں کو دے دی۔انہوں نے دکان گرا کر مسجد تعمیر کرلی۔اگرچہ اس کا گھر بالکل ہمارے گھر کیسامنے تھا لیکن مذہب کی تبدیلیکے بعد میں نے دوبارہ کبھی اس کو نہ دیکھا۔اس نے خود کو گھر تک محدود کرلیا اور کبھی باہر نہ نکلا۔ ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد وہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگیا تھا۔البتہ بہت سے کہتے تھے کہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد اتنا شرمندہ ہوا کہ وہ ہندولوگوں کا سامنا نہ کرسکتاتھا۔چنانچہ خود کو گھر میں محدود کردیا ۔مٹھائی کی دکان(حلوائی)کے بعد سنار(سناراں)کی دکان اور اس سے آگے منیاری یا کتاب فروش یا پھر ڈاکٹر کا کلینک ۔
صبح کے وقت بلدیہ کے ملازم جوڑیوں میں آتے،ایک صفائی والا اور ایک ما شکی جس نے کمرپر پانی سے بھری مشک لادی ہوتی جس سے وہ صفائی سے پہلے پانی کا چھڑکاؤ کرتا۔دن کے وقت بازار میں گہما گہمی ہوتی اور ہر چیز مٹی مٹی ہوجاتی۔سورج غروب ہونے کے بعد سڑکوں پر ویرانی کا سماں ہوتا۔البتہ حلوائیوں، سگریٹ کی دکانوں اورڈھا بو ں کے باہر لالٹین یا پرائمس کے گیس لیمپ لٹکے ہوئے دیکھے جاسکتے تھے۔بعض اوقات سینما جانے والوں کی ٹولیاں لیٹ نائٹ شو سے واپس آتی نظر آتیں۔
جیسے جیسے آپ بازار میں آگے چلتے جاتے آپ فلیکسFlex) شُو کمپنی کی ایجنسی اورٹھیکیدار جواہر مال اینڈ سنزکی فرم کے آگے سے گزرتے۔یہاں تک کہ آپ چھلو شاہ دا چوک پہنچ جاتے ۔اس چوک کا نام چھلو شاہ کی وجہ سے پڑا جو اپنے بٹیوں گنگا شاہ،دیال شاہ اور کشوری لال کے ساتھ میانوالی میں کپڑوں کا تھوک کا سب سے بڑا کاروبار کرتا تھا۔ وہ تقسیم کے بعد دہلی چلے آئے اور ان کے خاندان نے چیپ سلک سٹور کے نام سے کرول باغ دہلی میں کاروبار شروع کیا ۔بہت جلد یہاں پر بھی ان کا کاروبار خوب چمکا۔چھلوشاہ دا چوک سے آگے آکر دیگر قابل ذکر چیزوں میں تیرتھ سوڈا فیکٹری اور نہالا حلوائی شامل ہیں۔نہالا حلوائی اپنی دیسی گھی دی ریوڑیاں کیلئے مشہور تھا۔
مزید آگے چند مشہور اور بڑے تاجروں اور منیاریوں کی دکانیں تھیں جیسے ملکاں دی ہٹی، تھانہ رام منیاری آلاجوقصبے میں سب سے بڑا پرچون فروش تھا۔خواجہ جنرل سٹور جو میانوالی کے چند بڑے مسلمان تاجروں میں سے ایک تھا۔اور دھاری شاہ پنساری جو ایک مشہور دیسی ڈاکٹر(وید)بھی تھا اورساتھ ہی پنساری بھی۔
بازار تقریباً دو میل لمبا تھا۔جس کے اختتام پر سول ہسپتال تھا جو دریا کے کنارے سے ایک میل پہلے آتاتھا۔جیسے جیسے آپ بازار میں آگے چلتے جاتے ،کاروباری سرگرمی کم سے کم ہوتی چلی جاتی اور گھر اور دکانیں آپس میں گڈ مڈ ہونے لگتیں۔یہاں تک کہ آپ بھولے دا چوک سے آدھا میل آگے سول ہسپتال پہنچ جاتے۔ ہسپتال سے آگے سڑک مرگھٹ،جہاں ہندو مردے جلاتے اور سلطان میاں زکری کی درگاہ تک جاتی جو میاں علی کے دوسرے بیٹے تھے۔
نکڑاں دی گلی جانے کیلئے بازار سے دائیں طرف مڑکرجو پہلا تاثر حاصل ہوتا وہ رہائشی علاقے کی سنسان فضا کا تھا۔مرد حضرات صبح سویرے ہی گھروں سے کام پر چلے جاتے جبکہ عورتیں عام طور پر گھروں میں ہی رہتیں اور گھر کے کام کاج میں مصروف ہوجاتیں۔کچھ بچے مختلف کھیل مثلاً ہاکی،پھیتے یا گلی ڈنڈا کھیلتے نظر آتے۔یا پھر جودھا رام کو تنگ کرتے۔ جودھا رام ایک دماغی طور پر معذور ہمارا پڑوسی تھا جو اکثر ننگے پیر،مٹی سے بھرے کپڑوں میں اوربکھرے ہوئے لمبے بالوں کے ساتھ پھر رہا ہوتا وہ گلی میں یوں آگے پیچھے چکر لگارہا ہوتا جیسے گلی کی حفاظت کررہا ہو۔
شامیں اور راتیں میانوالی قصبے کو مکمل خاموشی اور سکوت میں لے جاتیں جس کی گلیاں ویران اور مدھم روشنی میں ڈوبی ہوتیں۔صرف بڑی سڑکوں پر سٹریٹ لائٹ کا بندوبست تھا جو کہ پرانے وقتوں میں مٹی کے تیل والے لیمپ تھے جو لکڑی کے کھمبوں پرلٹکا ئے جاتے۔
بلدیہ کے لوگ ہر شام شہر میں سیڑھیاں لے کر نکلتے اور لیمپوں کی صفائی کرکے انہیں جلاتے۔جب شام کو چاند نہیں نکلتا تھا لوگ خصوصاً بزرگ حضرات کہیں بھی جانے سے پہلے اپنے ساتھ لالٹین ضرر لے کر نکلتے روشن دانوں،دروازوں اور کھڑکیوں کی درزوں سے نکلنے والی مدھم روشنی یا گرمیوں میں چبوتروں سے آنے والی روشنی کے علاوہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا۔ایسا لگتا تھا جیسے قصبے کو جلد سونے کی عادت تھی۔

حصہ