neelab mianwali picture

ہریش چند نکڑہ میانوالی کی ان نابغہ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں جو تقسیم ہند کے وقت میانوالی سے ہجرت کر کے بھارت چلے گئے تھے ۔ بھارت میں قیام کے دوران انہوں نے اپنے آبائی وطن میانوالی کے حوالے سے اپنی یادوں کو ’’ وچھڑا وطن ‘‘ کے نام سے ایک کتاب کی صورت میں قلمبند کیا ہے ۔ جس کا اردو ترجمہ انجینئر شہزاد اسلم خان نے کیا ہے ۔ نیلاب ڈاٹ کام ہریش چند نکڑہ کی ان یاداشتوں کو اقساط کی صورت میں اپنے قارئین کی نظر کر رہی ہے ۔ ا س سلسلہ کی دوسری قسط پیشِ نظر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( نیلاب ڈاٹ کام )
میانوالی
جس میانوالی کے بارے میں میں لکھنے جارہا ہوں۔وہ ہندوستان کی آزادی سے پہلے کا میانوالی ہے ار اس آزادی کے ساتھ ہی یہ ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا بھارت اور پاکستان، ملک کی تقسیم کا متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی زندگیوں پراتنا گہرا اثر ہے کہ تقسیم کی اصطلاح نے اس دور کو بھی دوحصوں میں بانٹ دیا۔تقسیم سے پہلے کا دور اور تقسیم کے بعد کا دور ۔وہ لوگ جو اس علاقے کے آس پاس رہا کرتے تھے جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی لکیر کھینچی گئی، تقسیم اپنے ساتھ لانے والے تمام تر فسادات،وسیع پیمانے پر نقل مکانی اور مصائب کے ساتھ ان کے ذہنوں پر گہرا نقش چھوڑ کر گئی اور انہیں اس آزادی سے بھی زیادہ تقسیم یاد ہے جس کیلئے وہ خواہش بھی رکھتے تھے اور انہوں نے اس کیلئے کوشش بھی کی۔
میانوالی اب پاکستان میں ہے۔ اُس دور میں یہ صوبہ پنجاب جو کہ برطانوی ہند کا ایک صوبہ تھا کے پندرہ اضلاع میں سے ایک تھا۔
تقسیم کے وقت صوبہ پنجاب جس کو آج ہم غیر منقسم پنجاب کہہ سکتے ہیں ۔کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا جس میں سے ایک آج بھارت میں ہے اور ایک پاکستان میں۔ بھارتی صوبہ پنجاب بعد میں کی گئی بہت سی رد وبدل کے بعد ریاست پنجاب،ہماچل پردیش، ہریانہ کی ریاستوں اور چندی گڑھ کے علاقے پر مشتمل ہے۔وہ حصہ جو پاکستان کو ملا اس کو بھی پنجاب کہا جاتا ہے۔غیر منقسم پنجاب جن علاقوں پر مشتمل تھا وہ پانچ دریاؤں کے آس پاس واقع تھے۔ ستلج بیاس ، راوی،چناب اور جہلم۔پنج اردو میں پانچ کو اور آب پانی کوکہا جاتا ہے۔چنانچہ یہ سارا علاقہ جس کے مشرق میں جمنا اور مغرب میں سندھ بہتا ہے پنجاب کہلاتا تھا۔
شہر لاہور جو دریائے راوی کے کنارے واقع ہے،پنجاب کا دل تھا۔لاہور مغلیہ سلطنت کا دارالخلافہ تھا اور برطانوی راج میں بھی پنجاب کا دارالحکومت ٹھہرا۔لاہور دہلی سے زیادہ وسیع، بمبئی سے زیادہ شان وشوکت والا اور کلکتہ سے زیادہ پرانا تھا۔ انگریزوں نے اس کی ترقی کی طرف توجہ دینے کا فیصلہ کیا اور اسے کئی تعلیمی ادارے دیئے جو کہ پورے ہندوستان میں جانے اور مانے جاتے تھے۔
میانوالی اس قصبے کا نام تھا جہاں ہم رہتے تھے۔میانوالی ایک تحصیل کا بھی یہی نام تھا۔جو ان تحصیلوں میں ایک تھی جو اس ضلع میں شامل تھیں اس کا بھی نام میانوالی اس کے علاوہ ایک تحصیل عیسیٰ خیل مغرب میں تھی جبکہ دوسری تحصیل بھکرجو جنوب میں واقع تھی یہ ضلع پنجاب کی راولپنڈی کمشنری میں شامل تھا۔
ضلع میانوالی کا علاقہ پشاور سے150 میل جنوب میں شروع ہوتا تھا۔پشاور ایک بڑا شہر تھا اور مشہور درہ خیبر کے ساتھ واقع تھا۔جہاں سے افغان دارالحکومت کابل کو رستہ جاتا تھا۔ضلع میانوالی کا شمالی حصہ کالاباغ کے پہاڑی علاقے پر مشتمل تھا جو دریائے سندھ کے ساتھ واقع تھا۔یہی وہ جگہ ہے جہاں دریائے سندھ ہندوکش سے میدانی علاقے میں داخل ہوتا ہے۔ضلع میانوالی کاپھیلاؤ شمالاً جنوباً تقریباً 180 میل اور شرقاًغرباً 50 سے70 میل کے درمیان تھا۔ ضلع کا زیادہ تر حصہ دریائے سندھ کے مشرق میں اور دریا کے ساتھ ساتھ واقع تھا۔ یہاں آکر دریائے سندھ ایک میدانی دریا کا روپ دھار لیتا تھا۔جس کا پھیلاؤ وسیع ہوتا ہے۔ دریاکے درمیان کئی تیلے جزیرے بھی تھے جن کو کچہ کہا جاتا تھا۔مشرق کے بڑے علاقے کو تھل کہتے تھے جو زیادہ تر ریتلے ٹیلوں(ٹبے) پر مشتمل صحرا تھا۔
میانوالی کے مغرب میں ضلع بنوں اور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان تھے ۔جو کہ شمال مغربی سرحدی صوبہ کے حصہ تھے(صوبہ سرحد)۔ جس کو این ڈبلیو ایف پی کہا جاتا تھا۔اور افغانی سرحد پر واقع تھا۔شمال میں ضلع اٹک اور کوہاٹ ،مشرق میں جھنگ اور شاہپور جبکہ جنوبی سرحد پر ضلع لیہ واقع تھا۔
دو بڑے برساتی نالے ’’یارو‘‘ اور ’’سوان‘‘ دریائے سندھ میں اٹک کے بعد شامل ہوجاتے تھے جس سے دریامیں طغیانی آجاتی اور اکثر سیلاب آیا کرتے تھے ۔معظم نگرجو کہ ایک اہم قصبہ تھا 1870ء میں دریا برد ہوگیا اس کے بعد علاقے میں وبا پھوٹ پڑی جس کی وجہ سے بہت سی تباہی ہوئی اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ………..
سکندراعظم سے احمدشاہ ابدالی تک
اگرچہ میانوالی کانام قدیم تاریخ دستاویزات وغیرہ میں نہیں ملتا مگرماہر لسانیات گریئرسن(Grierson) نے اس علاقے کچھ قصبوں کا اہمیت کے حامل چند قدیم حکایات سے تعلق جوڑا ہے۔اس کے بقول رامائن کی داستان میں بادشاہ دسارتھ کی تیسری بیوی کیکائی،جس نے بادشاہ کے سب سے بڑے اور پسندیدہ ترین بیٹے راما کو چودہ سال تک جنگل میں بے دخل کئے رکھا اسی علاقے سے تعلق رکھتی تھی وہ کیکیہ(Kaikayya) خاندان سے تھی۔
اسی مؤرخ کے مطابق’’مہابھارت‘‘ میں کو روؤ ں کے اندھے بادشان دھرت راشترا کی بیوی گندھاری کا تعلق بھی اسی علاقے کی گندھارا
خا ندان سے ہوسکتا ہے۔ گرئیرسن کا خیال ہے کہ کو روؤ ں اورپا نڈو کے درمیان ہونے والے جوئے کا بدنام زمانہ مقابلہ ماڑی انڈس کے مقا م پر ہوا تھا جبکہپا نڈو نے کو روؤ ں سے چھپنے کیلئے کالاباغ کی غاروں میں پناہ لی تھی۔
یوں تو اوپر بیان کئے گئے معروضات کا کوئی دستاویزی ثبوت ملنا بہت مشکل ہے، تاہم روکھڑی میں دریافت شدہ بدھ مت کے مجسموں اور تعمیرات کی باقیات اور پالی رسم الخط کے نقوش والے سکے اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دو ہزار سال پہلے کشا ن با دشاہکنشک کے دورِ حکو مت میں اس علاقے میں کافی سرگرمی تھی۔قبیلہ سمرہ نے سندھ اور اس علاقے پر حکومت کی۔انہوں نے اہمیت کے حامل مقامات پر دو منزلہ عمارات تعمیر کیں جن کو ماڑی کہا جاتا تھا۔اس کی بدولت سندھ میں روپا ماڑی، ملتان میں شیتل ماڑی اور میانوالی میں ماڑی انڈس کے نام ابھرے۔
مغرب کی طرف سے آنے والے حملہ آووروں مثلاً سکندراعظم،محمودغزنوی،بابر اور احمدشاہ ابدالی نے پنجاب اور دہلی پر حملہ کرنے کیلئے کالاباغ کے شمال سے گزرنے والا رستہ اختیار کیا۔اپنے لگاتار حملوں کے دوران فاتح افواج راستے میں آنے والی ہر چیز پر حملہ کرتے اور لوٹ مار کرتے۔جنوب کا ریتلہ علاقہ کبھی بھی ان کیلئے دلچسپی کا باعث نہ بنا کیونکہ یہ زیادہ آباد اور ترقی یافتہ نہ تھا۔
اس وسیع علاقے پر معلیہ دور سے پہلے تک کسی بھی قبیلے یا نسل نے لمبے عرصے کیلئے حکومت نہ کی۔حتیٰ کہ مغلیہ دور کی تن صدیوں میں بھی اس علاقے کو صرف جزوی توجہ ملی جس کی وجہ سے اس کی آبادی بہت کم رہی۔
میانوالی قصبے کا سب سے قدیم حوالہ 1584ء میں گگھڑوں کے دورکا ملتا ہے جب بغداد ے آنے والے ایک صوفی شیخ جلال الدین نے اپنے بیٹے حضرت میاں علی کے ساتھ مل کر دریاُ سندھ کے کنارے کے قریب کچے کے علاقے میں ایک بہت بڑا کنواں کھودا جو کہ اب میا نوالی قصبے کے مغربی سرے پر واقع ہے۔شیخ جلال الدین جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ نواسۂ رسول حضرت امام حسینؑ کی ستائیسویں پشت میں سے تھے۔بغداد واپس چلے گئے ۔جب کہ ان کے بیٹے میاں علی یہیں آباد ہوگئے وہ ایک محترم نیک شخصیت تھے۔ان سے زیادہ ان کے بیٹے سلطان زکریا کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ ان کے پاس کراماتی طاقت ہے۔اس کنوئیں کو’’میانہ دا کھوہ‘‘کہا جانے لگا۔ دراصل میانوالی کا نام حضرت میاں علی کے نام پر ہے اور آپ کو میانوالی کا بانی تصورکیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے اس علاقے کو’’ کچھی ‘‘کہا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ زمین دریائے سندھ کے پیچھے ہٹ جانے سے برآمد ہوئی تھی۔
اگلی اڑھائی صدیوں تک کنوئیں کے آس پاس بستی میں کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا۔مگر دوسری طرف گکھڑ اور نیازی قبائل کے درمیان قوت اور اقتدار کی کشمکش چل رہی تھی۔نیازیوں نے گگھوں کو شکست دے دی اور بعد میں انیسویں صدی کے آغازمیں راجہ رنجیت سنگھ کی سکھ افواع کے ساتھ مقابلہ کیا۔ نیازیوں سے شکست کھانے کے بعد رنجیت سنگھ کی پسپا ہوتی افواج نے قصبہ بلوخیل کلاں پر حملہ کرکے اسے جلا کر راکھ کردیا۔یہ قصبہ بعد میں ضلع بنوں کا حکومتی مرکز بنا۔جب انگریزوں نے سارے علاقے پر قبضہ کیا۔(جاری ہے )

حصہ