دیوار پہ دستک
پل لرز رہا ہے
منصور آفاق
پاکستان پیپلز پارٹی ایک شاندار ماضی رکھتی ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادتوں نے اس پارٹی کو لازوال بنا دیا مگر آصف علی زرداری کے گذشتہ پانچ سالہ دورِ اقتدار کے سبب یہ پارٹی مسلسل زوال پذیر چلی آرہی ہے۔ بلاول بھٹو نے اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی اورکسی حد تک اس کے بے حال حال میں امید کی ایک شمع روشن ہوئی ۔پیپلز پارٹی کےوہ ورکر جو مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے تھے ان کی آنکھوں میں چمک سی آئی ۔پھر جب آصف علی زرداری پس ِ پشت پرچلے گئے تو کارکن خوشی سے واپسی کے لئے پر تولنے لگے تھے اور اپنے نئے چیئرمین کے قول و فعل کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک آصف علی زرداری واپس آ گئے اورکارکنوں کی ساری امیدیں راکھ کے ڈھیر میں بدلتی چلی گئیں۔پیپلز پارٹی کی سیاست پھر انہی لوگوں کے ہاتھ میں آگئی جس کا واحد مقصد اپنی کرپشن کو بچانا ہے ۔وہ بے داغ لوگ جو کچھ دن پہلے تک بلاول بھٹو کے ارد گرد نظر آرہے تھے وہ پھر منظر نامے سے ہٹا دئیے گئے ہیں ۔آصف زرداری کی خوشخبریاں پھرپیپلز پارٹی کےلئے بد خبریاں بننےجارہی ہیں ۔۔پیپلز پارٹی پھر وہیں جاکھڑی ہوئی ہے جہاں بلاول بھٹو کی آمد سے پہلے کھڑی تھی ۔لوگوں کا خیال ہے کہ اگرآصف زرداری کے زیر سایہ اگر فاظمہ بھٹواور ذوالفقار جوئنیر بھی پیپلز پارٹی کےلئے کام کرنا شروع کردیں تو ان کا مستقبل بھی تاریک ہو جائے گا۔
سچ یہی ہے کہ اس وقت پنجاب میں پیپلز پارٹی زمین پر نہیں میڈیا پر موجود ہے۔ بلوچستان میں تومیڈیا پر بھی نظر نہیں آتی ۔ پختون خواہ میں اُس کی حالت تھوڑی سی بہتر ہے ۔اس کا سبب شایدفیصل کریم کنڈی ہے ۔آزادکشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی تقریباً تقریباً فارغ ہو چکی ہے ۔کہیں ہے اگر تو صوبہ سندھ میں ہے ۔مگر وہاں جب سید مراد علی شاہ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو 168کے ایوان میں صرف88 ووٹ حاصل کئے اوراگلے انتخابات میں تو اتنی نشستیں بھی ملنی مشکل نظر آرہی ہیں ۔ اس کی دو اہم وجوہات ہیں ۔ایک سندھ میں حکومت کی دس سالہ کارکردگی اور دوسری مردم شماری کے بعد اس بات کے امکانات کہ کراچی اور حیدر آبادکی آبادی اندرون سندھ کہیں زیادہ قرار پائے گی ۔
ایسے حالات آصف زرداری ،چوہدری شجاعت کے ساتھ مل کر جو گرینڈ اپوزیشن الائنس بنا رہے ہیں۔اس میں شامل باقی پارٹیاں توتقریباًٹانگے کی سواریاں ہیں بجز تحریک انصاف کے ۔تحریک انصاف کے بغیر اس اتحاد کی حالت اس چونٹی سے زیادہ نہیں جس نے کہا تھاکہ جب میں اورہاتھی پل سے گزرتے ہیں تو پل لرزنےلگتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کوپیپلز پارٹی کے اس اتحاد میں شامل ہونے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔کچھ بھی نہیں ۔البتہ پیپلز پارٹی کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے ۔پیپلز پارٹی پنجاب میں دوبارہ اپنی عزت بنا سکتی ہے۔اس کےلئے کوئی بڑا جلسہ کرنا ممکن ہو سکتا ہے ۔حکومت کے خلاف کسی طرح کی احتجاجی تحریک میں اس کا وجود بھی دکھائی دے سکتا ہے ۔یہ طے ہے اس اتحاد شریک ہونے سے تحریک انصاف کو فائدے سےنقصان زیادہ ہو گا۔ ایک توآصف علی زرداری سے ہاتھ ملا نے پرہزاروں ہاتھ عمران خان کے ہاتھ کو چھوڑ سکتے ہیں۔خودعمران خا ن بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی نون لیگ کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ۔نہ ہی نون لیگ نے کبھی اس کوکوئی نقصان دیا ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی نے کبھی نون لیگ کو ۔پیپلز پارٹی کو جتنا بھی نقصان ہوا ہے ۔وہ تحریک انصاف کی وجہ سے ہواہے ۔کل تک ہر جگہ نون لیگ کے مقابلہ پیپلز پارٹی کھڑی تھی آج اس کی جگہ تحریک انصاف نے لے لی ہے ۔اس وقت پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں کی ہر ممکن کوشش یہی ہے کہ کسی طرح تحریک انصاف کی جگہ دوبارہ پیپلز پارٹی لے لے تاکہ کرپشن کو فروغ دینے والے نظام کو کوئی خطرہ نہ رہے ۔(چلتے چلتے ایک بات یہ بھی سن لیجئے کہ کرپشن کے اس نظام کونئے چیف جسٹس سے بھی بہت سخت خطرہ ہے ۔میرادل کہہ رہا ہے کہ اگر انہیں وقت مل گا تو وہ پاکستان میں انصاف کی ایک نئی تاریخ ضرور رقم کریں گے ۔)
اس وقت نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والی نورا کشتی ایک نئے موڑ داخل ہوئی ہے۔نون لیگ پیپلز پارٹی کو آخری لائف لائن دینے کی پوری کوشش کررہی ہے ۔اس کا اندازہ اِسی بات سے لگالیں کہ بلاول بھٹو نے جو چار مطالبات پیش کئے تھے ۔ان میں کوئی ایسا نہیں تھا کہ جو حکومت کےلئے ذرا سا بھی مشکل ہوتا ۔حکومت بڑی آسانی سے وہ مان سکتی تھی مگر حکومت نے کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا صرف اس لئے کہ بلاول بھٹو حکومت کے خلاف دم دم مست قلندر کرے اور پیپلز پارٹی کے مردہ جسم میں روح آئے ۔پتہ نہیں شاہ محمود قریشی کیوں چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ،حکومت کے خلاف ،تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کا حصہ بنے ۔ماضی میں تحریک انصاف کی یہی کوشش ناکام رہی ہے ۔پیپلز پارٹی دراصل کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتی جس کی کمان عمران خان کر رہے ہوں ۔ آصف علی زرداری نے اس لئے گرینڈ الائنس کا اعلان کیا ہےاس کی کمان خود ان کے اپنے ہاتھ میں ہوگی اور تحریک انصاف اس کا ایک حصہ ہوگا۔وہ ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی اس گرینڈ الائنس کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے ۔امید تو نہیں ہے کہ وہ پھر ان کے چکر میں آئیں کیونکہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس گرینڈ الائنس کا بناتے بناتے پیپلز پارٹی خود اُس خوبصورت جال میں پھنس جائے جووہ دوسری اہم اپوزیشن کی پارٹیوں کے لئے بچھایا جارہا ہےمگر اس کا امکان بہت کم ہے ۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ آصف زرداری اور وزیر اعظم نواز شریف یہ بات طے ہو گئی ہو کہ آئندہ انتخابات دوہزار اٹھارہ بجائے دوہزار سترہ کے آخر میں کرائے جائیں گے ۔باقی باتیں تو ایک تمثیلی کہانی ہیں ۔جس میں عوام کا کردار اہم ترین ہوتا ہے ۔

حصہ