امریکی فوجی نےصدام حسین کی کھوج کیسےلگائی؟تاریخی رازبےنقاب ہوگیا

187

آج سے 13سال قبل جب امریکی فوج نے معزول عراقی صدر صدام حسین کو اس کے آبائی علاقے تکریت میں زیر زمین پناہ گاہ سے جاپکڑا تو یہ عالمی میڈیا کیلئے سب سے بڑی خبر تھی۔ سابق عراقی صدر کے وفادار تکریت کے چپے چپے پر موجود تھے اور ان کی پناہ گاہ کو خفیہ رکھنے کیلئے ہر ممکن انتظام کیا گیا تھا۔ لیکن پھر بھی امریکی تحقیق کار ان تک کیسے جاپہنچے اس دلچسپ حقیقت کا انکشاف صدام حسین کا سراغ لگانے والے امریکی انٹیلی جنس اہلکار نے پہلی بار کیا ہے ایرک میڈوکس نامی انٹیلی جنس اہلکار امریکی فوج کے تفتیشی ماہر تھے صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد جب وہ روپوش ہوگئے تھے تو ایرک کی ذمہ داری لگائی گئی کہ وہ ان کا سراغ لگائیں۔ ایرک کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2003کے وسط میں صدام حسین کے ایک باورچی سے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ ان کی پسندیدہ ترین ڈش بھنی ہوئی مچھلی ہے جسے وہ نمک مرچ چھڑک کر کھاتے تھے یہ بات سن کر ان کے دل میں خیال پیدا ہوا ہے کہ صدام حسین کو جہاں کہیں بھی چھپے ہوں وہ مچھلی کھانے کا شوق ضرور پورا کرتے ہوں گے ان کا کہنا ہے کہ یہ سوچ کر انہوں نے صدام حسین کے آبائی علاقے تکریت میں ایک نئے زاویے کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات جمع کرنا شروع کیں۔ ایک اور ذریعے سے انہیں یہ اہم خبر ملی کہ صدام حسین کے ایک قریبی ساتھی نے تکریت میں ایک چھوٹا سامچھلی فارم بنا رکھا تھا۔ ایرک نے اس فارم کی نگرانی کی اور وہاں موجود ایک ملازم سے معلومات حاصل کی اس شخص سے صدام حسین کے ایک باڈی گارڈ کی قیام گاہ کے بارے میں پتہ چلا اور جب باڈی گارڈ کو پکڑ کر تفتیش کی گئی تو بالاخر صدام حسین کی زیر زمین پناہ گاہ کا راز فاش ہوگیا ۔ان کی دی گئی معلومات پر ہی امریکی فوج نے بتائی گئی جگہ پر چھاپہ مارا اور صدام حسین کو زمین کے نیچے موجود سوراخ میں سے باہر نکال لیا

حصہ