…..**** یہ تو صرف ٹریلر تھا …**

صوبہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی طرف سے خدا پاک کی سچی کتاب قرآن مجید سر پر اٹھا کر متحدہ قومی موومنٹ کے حوالے سے لگائے گئے سنگین الزامات اور صولت مرزا کا اعترافی ویڈیو بیان حکومتی اداروں کی طرف سے وہ توجہ حاصل نہ کر سکے جو مصطفی کمال کا کمال پروگرام حاصل کر چکا ہے اور تین مارچ کو اچانک پاکستان آنے والے سابق ناظم کراچی و ایم کیو ایم کے اہم اور الطاف حسین کے قریبی رفیق مصطفیٰ کمال چند ہی روز میں ایم کیو ایم کے خلاف میڈیا کے ذریعے بیانات دینے پر حکومتی و عوامی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں، مصطفی کمال جو کچھ عرصہ قبل اچانک قوم کو کچھ بتائے بغير ہی سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہو کر بیرون ملک چلے گئے تھے لیکن تین مارچ سے اب تک چند ہی روز میں وطن واپسی کے بعد ایم کیو ایم پر ” را ” سے فنڈنگ لینے سمیت الطاف حسین پر متعدد سنگین الزامات عائد کر چکے ہیں۔ مصطفی کمال کی طرف سے اس اعلان بغاوت نے بھرپور عوامی پذیرائی کے سبب کراچی اور سندھ کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پورے ملک کی سیاست پر اس صورتحال کے گہرے اثرات کے مرتب ہو رہے ہیں. مصطفی کمال کے ” اعلان کمال ” کے بعد کراچی میں عوامی پذیرائی اور ایم کیو ایم میں جماعتی آمریت نے ایم کیو ایم کو مشکل ترین صورتحال سے دوچار کر دیا ہے. ایم کیو ایم اس صورتحال کو 1992 کے آپریشن کی طرح آپریشن قرار دے رہی ہے. کراچی آپریشن کے نتیجے میں رینجرز کی طرف سے ایم کیو ایم کے کالے کرتوتوں سے پردہ چاک کرنے کے بعد اب ایم کیو ایم کے ہی ایک سابق اور نام کمانے والے مصطفی کمال کا اعلان کمال کراچی کی عوام کو امید کی کرن محسوس ہونے لگا ہے اور بڑھتی عوامی پذیرائی ایم کیو ایم اور الطاف حسین مخالف تحریک کو آئے روز مضبوط کرتی نظر آتی ہے. اعلان کمال کے بعد ایم کیو ایم کے اہم ساتھی انیس قائم خانی, وسیم آفتاب, ڈاکٹر صغیر احمد کے بعد اب رضا ہارون کی طرف سے مصطفیٰ کمال کے کمال پروگرام کا حصہ بننے اور کراچی میں بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت اور جناح گراونڈ میں جلسے کے اعلان کے بعد اسے ایم کیو ایم کی اندرونی سیاست ہلچل کا شکار ہو چکی ہے. ایم کیو ایم کی قیادت کی طرف سے اراکین رابطہ کمیٹی و ممبران اسمبلیوں سے وفاداری کے حلف لیے جا رہے ہیں اور صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی یے کہ خوشبخت شجاعت سمیت ایم کیو ایم کی متعدد اہم شخصیات پراسرار طور پر جلا وطنی کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان سے کوچ کر گئے ہیں۔ ایک طرف اعلان کمال نے ایم کیو ایم کے اندر بھونچالی کیفیت پیدا کر دی ہے تو دوسری طرف مصطفی کمال کے اعلان کمال کو پورے پاکستان میں خوب سراہا جا رہا ہے اور صوبہ بلوچستان کے علاقے کوئٹہ سمیت متعدد شہروں میں مصطفی کمال کی حمایت میں پوسٹر آویزاں ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا یے. سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قرآن پاک سر پر رکھ کر لگائے گئے سنگین الزامات اور صولت مرزا کے حیرت انگیز انکشافات پر مصلحت کا شکار حکومتی ادارے خاموش رہے اور معاملات کو نظر انداز کرتے رہے لیکن اعلان کمال اور کمال پروگرام کا حصہ بننے والی ایم کیو ایم کی سابقہ اہم شخصیات کی طرف سنگین الزامات عائد کرنے کے بعد اب حکومتی ادارے متحرک ہو چکے ہیں اور ایف آئی اے کی طرف سے کمال پروگرام کے ظاہری روح رواں مصطفی کمال, انیس قائم خانی, سرفراز مرچنٹ سے رابطہ کیا گیاہے اور ان سے ایم کیو ایم پر لگائے جانے والے سنگین الزامات پر انکوائری میں مدد کی اپیل کی جا رہی یے.. مزکورہ سنگین الزامات پر کس حد تک تفتیش ہو گی اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن موجودہ صورتحال میں ایم کیو ایم کے لیے اپنی بقاء ایک مسئلہ نظر آتی ہے. قائدایم کیو ایم الطاف حسین کے بے ہودہ انداز میں جاہلانہ خطابات اور متحدہ قومی موومنٹ میں قائم آمریت اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کی سامنے آنے والی جےآئی ٹی کی روپورٹ اور رینجرز کی طرف سے پردے فاش کرنے کا عمل اس بات کی نشاندہی کمال پروگرام شروع ہونے سے قبل ہی کر رہا تھا کہ کسی بھی وقت لاوا پھٹ سکتا ہے. میڈیا اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کے ایک درجن سے زائد اہم رہنما اگلے دنوں میں اعلان کمال پر لبیک کہنے والے ہیں اور آئندہ عام انتخابات تک کراچی کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوتا محسوس ہو رہا ہے .. کراچی اور سندھ میں سابق سیاسی شخصیات کی طرف سے اپنی ہی جماعت اور قیادت کے خلاف سنگین الزامات پر حکومتی دلچسپی اور تفتیش کا عمل شروع ہونے پر جہاں اسے عوامی سطح پر حکومت کا بہت دیر سے کیا جانے والا اچھا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے وہیں حکومتی جماعت سے یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیے جانے والے رہنما ذوالفقار کھوسہ کے انکشافات کی تفتیش کب ہو گی ؟ .پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کو اپنی ہی جماعت کے اہم رہنماؤں کی طرف سے قاتل قرار دیے جانے پر کب حکومت وطن دوستی کا اظہار کرے گی؟. ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کو ملکی مفاد میں قرار دینے والی تحریک انصاف کی قیادت کب اپنی ہی جماعت کے وزیر ضیاء اللہ آفریدی و دیگر قیادت کی طرف سے وزیراعلی پرویز خٹک پر لگائے گئے سنگین الزامات اور سابق وزیر قانون اسرار اللہ خان گنڈہ پور سانحہ کے حوالے سے ان کے لواحقین کی طرف سے اہم رہنما پر لگائے جانے والے سنگین نوعیت کے الزامات کا نوٹس لے گی ؟ کیا ایم کیوایم کے خلاف مصطفی کمال کے کمال پروگرام کی طرح ن لیگ اور تحریک انصاف بھی اپنی ہی قیادت کی طرف سے کمال پروگرام کے آغاز تک سنگین الزامات پر توجہ نہیں دے گی.کیا ضروری ہے کہ ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر جماعت سے وطن و قانون دوست شخصیات اپنی ہی جماعتوں کے خلاف کمال پروگرام پر کام شروع کر دیں.. ایسی گھمبھیر صورتحال میں حکومت وقت اور سیاسی جماعتوں کو نوشتہ دیوار پڑھنا چاہئے بصورت دیگر………. ویسے خبر دینے والے یہ بھی انکشاف کر رہے ہیں کہ مصطفی کمال کی طرف سے ایم کیو ایم کے خلاف تحریک تو صرف ٹریلر ہے اور قوی امکان ہے کہ فلم پاکستان ک چاروں صوبوں میں چلائی جانی ہے. اللہ پاک اپنے محبوب کے صدقے پاک وطن کو تمام اندرونی و بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھے. آمین.

حصہ