” پانیوں سے الگ ” …………….. تبصرہ . رضی الدین رضی
شمشیر حیدرکا شعری مجموعہ ’’پانیوں سے الگ‘‘مجھے اپریل کے اوائل میں موصول ہوا۔قمررضا شہزاد نے کتاب میرے حوالے کرتے ہوئے کہا۔بہت اچھی شاعری ہے ،پڑھوگے تو لطف آئے گا۔یہ وہ دن تھے جب قمررضا شہزاد ایک حادثے کے بعد اپنے گھر پر آرام کررہے تھے ۔شمشیر حیدر کی کتاب میں نے اس نیت سے الگ رکھ دی کہ اسے تسلی سے پڑھوں گا۔اس دوران انہیں کتاب موصول ہونے کی رسید بھی نہ دے سکا۔اب کم وبیش دو ماہ بعدجب کتاب کا مطالعہ کیا تو قمررضا شہزادکی بات درست ثابت ہوئی۔’’پانیوں سے الگ ‘‘ شمشیر حیدر کا دوسراشعری مجموعہ ہے۔چند برس قبل ’’دشتِ خواب ‘‘ کے نام سے ان کی شاعری کاپہلا مجموعہ منظرعام پر آیاتھا۔’’دشتِ خواب‘‘ کے چند اشعاربھی اسی کتاب کی معرفت پڑھنے کو ملے ۔
بنارہا تھا پرندہ میں ایک کاغذ پر
کہ خود بھی اڑنے لگا اس کے پربناتے ہوئے
’’دشتِ خواب‘‘نے بھی ناقدین شعر کو حیران کردیاتھا اور اب ’’پانیوں سے الگ‘‘ میں ان کی حیرت کااور بہت سا سامان موجودہے۔’’پانیوں سے الگ‘‘محرومیوں اور پیاس کی وہ کہانی ہے جو شمشیر حیدر کے ساتھ ہی وابستہ نہیں بلکہ یہ اس عہد کے ہرفرد کاالمیہ ہے۔شمشیر حیدر نے اپنے عہد کے دکھوں کو بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنی غزلوں کاحصہ بنایا۔ان کے اشعار میں زندگی دھڑکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور یہی بات انہیں ان کے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے ۔آیئے ان کی کتاب سے چند منتخب اشعار کا مطالعہ کرتے ہیں۔

سمٹ گیا ہوں تو نکتہ دکھائی دیتا ہوں
کبھی تو مٹھی میں لگتی تھی کائنات مجھے

میں اور جہانوں کا نمائندہ تھا لیکن
لکھتا رہا اک اور کہانی کوئی مجھ میں

میں اُڑ رہا ہوں پروں کے بغیر بھی کب سے
مری کہانی ہے ساری کہانیوں سے الگ

مری زمین مرا ایسا بھی جرم کیا ہے بتا
کہ پیاس میں بھی رہوں تیرے پانیوں سے الگ

یہی نہیں کہ دعائیں اثر سے خالی ہیں
یہاں تو پیڑ بھی برگ وثمر سے خالی ہیں

زمانے بعد ہوا خود سے رابطہ اپنا
سو آج کل نہیں بنتی کسی کے ساتھ اپنی

کیوں کرابھی کھلانہیں فرقِ قبول ورد
کیوں خیروشر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے

پرندوں کے مصائب مت سناؤ
مجھے میری کہانی ہی بہت ہے

ہوش آتا ہے تو ہوتی ہے کماں اپنی طرف
اور پھرتیرنکلتا ہوا رہ جاتا ہے

عذاب وکرب کا منظردکھارہے ہیں لوگ
یہیں کہیں مرا گھرتھا بتارہے ہیں لوگ
رضی الدین رضی
20مئی 2015

حصہ