آج فیض احمد فیض صاحب کا یوم پیدایش ہے
13 فروری کو میرے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے اس عظیم شاعر نے نہ صرف اردو بلکہ روسی ، فارسی ، عربی ، پنجابی اور انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے ،
انکی مشہور تصانیف میں ،
نقش فریادی
دست صبا
زنداں نامہ
دست تہ سنگ
سر وادی سینا
شام شہر یاراں
مرے دل مرے مسافر
نسخہ ہائے وفا (کلیات شامل ہیں .
مزے کی بات یہ ہے کہ سر علامہ محمد اقبال رحمتہ الله علیہ اور فیض احمد فیض صاحب کے استاد ایک ہی تھے یعنی شمس العلماء مولوی میر حسن ،صاحب .
انہوں نے 1930ء میں ایلس فیض سے شادی کی۔1951 میں آپ نے ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت کی۔اور پھر ھیلے کالج لاہور میں ۔ 1942 میں آپ فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے شامل ھوگے۔ اور محکمہ تعلقات عامہ میں کام کیا ۔ 1943 میں آپ میجر اور پھر 1944 میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پا گے۔
1947 میں آپ فوج سے مستعفی ہو کر واپس لاہور اگے۔ اور 1959 میں پاکستان ارٹس کونسل میں سیکرٹری کی تعینات ھوے اور 1962 تک وہیں پر کام کیا۔ 1964 میں لندن سے واپسی پرآپ عبداللہ ہارون کالج کراچی میں پرنسپل کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔
9 مارچ 1951 میں آپ كو راولپنڈی سازش كیس میں معا ونت كے الزام میں حكومت وقت نے گرفتار كر لیا۔ آپ نے چار سال سرگودھا، ساھیوال، حیدر آباد اور كراچی كی جیل میں گزارے۔ آپ كو 2 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ۔ زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔

حصہ