باالحق
عنایت

صوبائی حکومت کے عوامی قوانین، سہولیات اور اقدامات
گلا کون گھونٹ رہا ہے؟؟؟
عنایت عادل
موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے متواتر ایسے قوانین سامنے آرہے ہیں کہ جن کا استعمال، بر اہ راست عوام کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ان میں سے سب سے اہم اور غالباََ اولین طور پر جو قانون سامنے آیا اسے ’’معلومات تک رسائی کا قانون‘‘ کا نام دیا گیا۔گو کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 19-Aایک شہری کو معلومات سے آگاہی کا حق دیتا ہے لیکن اسے ہماری بد قسمتی کہئے کہ جمہوریت کا دعوی کرتی، اور اسی آئین کی بنیاد پر خود کو جمہوری حقوق کا علمبردار ٹھہراتی ہماری حکومتوں نے عوام کو اس حق سے محروم ہی رکھا۔خیبر پختونخواہ اسمبلی نے اسی آرٹیکل کے تناظر میں ایک ایکٹ پاس کیا جس کے تحت جہاں عوام کو معلومات کی فراہمی کے حق کو حکومتی اداروں کی ذمہ داری ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ ان اداروں کے مقررہ افسران کی ذمہ داریاں طے کر دیں جبکہ اس سلسلے میں مختلف مدتوں کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ معلومات فراہم کرنے سے گریزاں افسران کے خلاف سزاؤں کا بھی تعین کر دیا گیا۔اس قانون کے تحت کوئی بھی شہری حکومت کے کسی بھی ٹھیکے ،صحت ،تعلیم ،مالیاتی مسائل سے متعلق ایک خط یا Email کے ذریعے معلومات حاصل کرسکتا ہے۔محکموں میں بھرتیوں اور ترقی کا ریکارڈ، طریقہ کار، افرا دکی قابلیت(ڈگریاں)اور اس قسم کی دیگر معلومات فراہم کرنا متعلقہ محکمہ کے مجاز افسر کی ذمہ داری ٹھہرائی گئی ہے۔
متعلقہ محکمہ کا سربراہ یہ معلومات عرصہ دس یوم کے اندر اندر فراہم کرنے کا پابند ہے تاہم اگر مجاز آفیسر کو مطلوبہ معلومات کے اکھٹا کرنے میں کسی دوسرے مہیا کرے گا۔ ہر محکمہ کا ایک انفارمیشن افسرمقر ر کردیا گیا ہے۔ اس افسر کی عدم تعیناتی کی صورت میں محکمہ کا سربراہ معلومات مہیا کرے گا۔ اگر کسی محکمہ کا افسر یہ معلومات نہیں دے گا تو اس پر 250 روپے روزانہ کے حساب سے جرمانہ عائد کیا جائے گا جو 25 ہزارروپے تک ہوسکتا ہے۔ جان بوجھ کر معلومات نہ دینے والے کو دیگر سزائیں بھی ہوسکتی ہیں جس میں جرمانے کے ساتھ قید کی سزا بھی شامل ہے۔اس قانون کے نفاذ سے معلومات، جو کہ اس قانون کی حدود میں آتی ہیں، کو خفیہ رکھنا ممکن نہیں، تا آنکہ اس پر مکمل طور پر عملدرآمد یقینی ہو۔اگرچہ قانون واضح ہے لیکن مستثنیات کے حوالے سے گہرائی کے ساتھ وضاحت نہیں کی گئی جن میں قومی سکیورٹی، معیشت اور قانونی استحقاق سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ قانون کے مطابق ایسی معلومات جن سے کسی فرد کی جان کو خطرہ لاحق ہو یا اس کے مفادات متاثر ہوتے ہوں تو ایسی معلومات کی فراہمی کے حوالے سے بھی استثنیٰ موجود ہے۔
امید ظاہر کی گئی تھی کہ اس قانون کے آنے سے بلیک میلنگ کا کلچر کم ہوگا۔ کیونکہ بلیک میلر معلومات عام کرنے کا خوف دلاکر بلیک میل کرتے ہیں۔چند بااثر اخباروں میڈیا گروپس اور صحافیوں کی اجارہ داری ختم ہوگی اور کوئی بھی فرد بغیر رقم خرچ کیے ای میل پر بھی معلومات حاصل کرسکے گا۔معلومات تک رسائی کا حق(آر ٹی آئی) اگرچہ سرکاری امور کی انجام دہی کے قواعد و ضوابط کا جزو بن چکا ہے جس کے باعث اب یہ حکام کی سرکاری ذمہ داریوں میں شامل ہوگیا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کے اس تاریخ ساز معلومات تک رسائی کے ایکٹ 2013 کے تحت عوام کی معلومات تک رسائی یقینی بنائیں لیکن اس قانون کی تشکیل کے عمل میں شامل رہنے والے ماہرین کے مطابق حقیقت تو یہ ہے کہ معلومات تک رسائی کا یہ ایکٹ روایتی کاہلی اور افسرِ شاہی کی جانب سے معلومات تک رسائی نہ دینے کے لیے منفی حربوں کے استعمال کے باعث اپنی افادیت کھودے گا۔اس کی تازہ ترین مثال اس خبر کی صورت میں سامنے آئی کہ جس میں ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک شہری کی جانب سے محکمہ پبلک ہیلتھ سے جب مختلف قسم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس محکمہ کے متعلقہ افسران نے اسی قانون کی ایک شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معلومات دینے سے انکار کر دیا۔اس قانون کے مطابق، طلب کی جانے والی معلومات کی نقول اگر 20 یا اس سے کم صفحات تک محدود ہو تو محکمہ نقول کی مد میں کوئی معاوضہ وصول نہیں کرے گا البتہ 20 سے زائد صفحات کی صورت میں سائل کو نقول کا معاوضہ ادا کرنا ہو گا۔محکمہ پبلک ہیلتھ ڈیرہ اسماعیل خان نے قانون کی اسی شق کا فائدہ اٹھایااور مطلوبہ معلومات کے عوض 40ہزار روپے ادا کرنے کا مراسلہ جاری کر دیا گیا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوا کہ جب ابھی معلومات کے صفحات کا تعین ہی نہیں کیا گیا اور اگر کیا بھی گیا تو جاری ہونے والے مراسلے، جسے کہ نقول کا بل کہنا زیادہ مناسب ہوگا، میں صفحات کی تعداد تک کا ذکر نہیں تو ایک شہری ایک خطیر رقم کس طرح ادا کر دے۔بادی النظر میں تاثر یہ پیدا ہوا کہ مذکورہ محکمہ اور اسکے افسران نے سائل کو پہلے ہی قدم پر ایک ایسے امتحان سے دوچار کر دیا کہ جس کی بنا پر وہ خواہش کردہ معلومات کے مطالبے ہی سے دستبردار ہو جائے۔جو کہ یقیناََ اس محکمہ کے پول نہ کھل سکنے کی ضمانت قرار دیا جا سکتا ہے۔کچھ اسی قسم کی صورتحال صوبائی اسمبلی میں براجمان منتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے سامنے آئی کہ جب خیبر پختونخوا اسمبلی نے گزشتہ برس جون میں ایک ترمیم پاس کی جس کے باعث آرٹی آئی ایکٹ 2013 کے تحت اب صوبائی اسمبلی پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ ترمیم اس وقت ایوان میں پیش کی گئی جب حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سالانہ معاشی بجٹ پر اعتراضات کے باعث صوبائی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ یہ ترمیم اسی روز 23جون کو متفقہ طور پران ارکان اسمبلی نے ہی منظور کر لی جنہوں نے 2013 میں یہ ایکٹ منظور کیا تھالیکن بعدازاں انہوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ آر ٹی آئی کا اطلاق خیبرپختونخوا اسمبلی یا دوسرے لفظوں میں اسمبلی کے منتخب نمائندوں پر نہیں ہوگا۔خیبرپختونخوا اسمبلی نے آر ٹی آئی قانون کے تحت نہ صرف خود کو جواب دہی سے مستثنی قرار دے ڈالا بلکہ خیبرپختونخوا کے انفارمیشن کمیشن کو سیشن کورٹ کے ماتحت کر کے اس کے اختیارات بھی کم کر دیے۔ آر ٹی آئی سے متعلق کمیشن کے فیصلے اب سپریم کورٹ کی بجائے ضلعی کورٹ میں چیلنج ہوسکتے ہیں۔دی کولیشن آن رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ(سی آر ٹی آئی)نے صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کرے۔ جولائی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں سی آر ٹی آئی نے خیبرپختونخوا اسمبلی اور پشاور ہائیکورٹ کو دیئے گئے استثنی کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مذکورہ تنظیم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن ایک چیف انفارمیشن کمشنر اور دو انفارمیشن کمشنرز پر مشتمل ہوجوبالترتیب عدلیہ، افسرِ شاہی اور سول سوسائٹی سے ہوں اور خیبر پختونخوا کے آرٹی آئی قانون کے دائرہ کار کوفوری طور پر صوبے کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں(پاٹا)تک وسعت دی جائے۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک ادارے سنٹر فار لا اینڈ ڈیموکریسی (سی ایل ڈی)، جو آرٹی آئی قوانین کے حوالے سے درجہ بندی کرتا ہے، نے خیبرپختونخوا کے آرٹی آئی ایکٹ 2013 کو دنیا کا ایک بہترین قانون قرار دیا تھا لیکن اس ترمیم کے بعدیہ منفی طور پر متاثر ہوا ہے اور صوبائی اسمبلی بھی اب اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔منتخب نمائندوں کی دیکھا دیکھی اب دیگر محکمے جیسا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن خیبرپختونخوا اور محکمہ قانون خیبرپختونخوا بھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان پر آر ٹی آئی قانون کا اطلاق نہ ہو۔دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک ایسا قانون کہ جس کی بدولت عوام کو انہی کے ٹیکس سے تنخواہیں ،مراعات لیتے افسران اور ان دونوں لوازمات کے ساتھ ساتھ ووٹ لیتے ارکان اسمبلی کی ریشہ دوانیوں کی معلومات حاصل کرنے کی نوید کو آہستہ آہستہ پھر سے معدوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہاں تک کہ گزشتہ دنوں راقم ہی کی جانب سے جب تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈیرہ سے کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو محکمہ کی جانب سے ایک عدد ’’نوٹس‘‘ ہی سائل کے حصہ میں آیا، جس میں بنا کسی صفحات کی تفصیل کے یکمشت ڈیرھ لاکھ روپے جمع کروانے کا حکم مطلوبہ معلومات کے حصول کے لئے شرط بنا کر پیش کر دیا گیا تھا۔اسی طرح شفقت سرحدی کی جانب سے محکمہ پبلک ہیلتھ کو دی جانے والی درخواست سے بھی جان چھڑانے کا یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔
اس اہم ایکٹ کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے ’’خدمات تک رسائی کا قانون‘‘ متعارف کروایا گیا۔اس قانون کے تحت ، ایک شہری ، صوبائی حکومت کے تحت آنے والے کسی بھی محکمہ کو اس کی متعلقہ خدمات سے روگردانی ، تغافل یا عدم توجہی کا ادراک کرواتے ہوئے مطلوبہ خدمت/خدمات حاصل کر سکتا ہے۔طلب یا نشاندہی کی گئی خدمت کے طے کردہ عرصہ کے اندر خدمت فراہم نہ کرنے والے محکمہ کے متعلقہ افسریا اہلکار کے خلاف سزا بھی اس قانون کا حصہ بنائی گئی۔اس قانون کے تحت درخواستوں کا طریقہ کم و بیش معلومات تک رسائی کے قانون سے مشابہت ضرور رکھتا ہے تاہم خدمات کے حصول کے لئے ایک شہری اسی محکمہ کے سربراہ سے ایک وقت میں ایک خدمت کی درخواست کر سکتا ہے جس کے جواب میں متعلقہ افسر طلب کی جانے والی خدمت کے لئے متعین کردہ مدت کے اندر وہ خدمات انجام دینے کا پابند ہے۔ اس قانون کو رو بعمل کرنے کے لئے درخواست براہ راست کسی متعلقہ محکمہ کو دینے کے بجائے، خدمات تک رسائی کے کمیشن کی جانب سے تعینات کر دہ ضلعی کنوینئر کو دی جاتی ہے جو اسے متعلقہ محکمہ تک پہنچانے کا ہی نہیں، اس پر عمل درآمد یا قابل نا عمل ہونے کی صورت میں سائل کو تسلی بخش جواب دینے کا بھی پابند ہے۔
مندرجہ بالا قوانین کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی جانب سے سٹیزن پورٹل Citizen Portalکے نام سے بھی ایک نہایت مفید سہولت فراہم کی گئی ہے۔موبائل فون ایپ کی طرز پر بنائی جانے والی اس سہولت میں ایک شہری کسی بھی صوبائی محکمہ یا اس کے اہلکار کے خلاف شکایت صوبائی حکومت تک پہنچا سکتا ہے۔ سٹیزن پورٹل میں تحریری شکایت کے ساتھ ساتھ ثبوت کے طور پر تصویر، ویڈیو فلم یا آڈیو پیغام کے اپلوڈ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے جس سے ایک صارف نہایت آسانی سے اپنی شکایات کو جامع انداز میں حکام بالا تک پہنچا سکتا ہے۔ تجربہ یہی ہے کہ اس سہولت کے تحت بھیجی جانے والی شکایت کا جواب ، اسی پورٹل پر، دو تین دن میں موصول ہوجاتا ہے جس میں شکایت کی وصولیابی سے لے کر مختلف مراحل اور آخر میں شکایات کے حل ہو جانے کی خبر بھی سائل کو کر دی جاتی ہے۔ تاہم، یہ خبر محض یک سطری اطلاع تک محدود ہوتی ہے ۔ سائل کو اپنی شکایت کے منطقی انجام یا اس کی تفصیل کا علم کم از کم پورٹل کے ذریعے نہیں ہو سکتا جو کہ اس سہولت کا ایک منفی پہلو سمجھا جا سکتا ہے۔اسی پورٹل کے ذریعے راقم نے ڈیرہ اسماعیل خان کے محکمہ تعلیم کی کچھ بے ضابطگیوں کی شکایت حکام بالا تک پہنچانے کی کوشش کی تو غالب امکان ہے کہ جواب میں متعلقہ محکمہ کو ملنے والی ہدایات ہی کو بنیاد بنا کر نا معلوم افراد کی جانب سے راقم کے نام پر کئی ایک جعلی شکایات حکام بالا تک پہنچ گئیں۔ جنہیں شاید راقم ہی کا اقدام گردانتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (زنانہ) کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔جس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ اب کسی بھی سائل کی جانب سے کی جانے والی درخواست کم از کم ردی کی ٹوکری کی نذر نہیں ہوتی اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
مندرجہ بالا سہولیات کے ساتھ ساتھ 4فروری2015کو صوبائی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا جس کے دوران کئی ایک اہم فیصلے ہوئے جو کہ براہ راست عوام کو مذید سہولیات بہم پہنچانے اور موجودہ سہولیات کی نوک پلک درست کرنے کی کوشش کہلائے جا سکتے ہیں۔ مذکورہ اجلاس کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات کے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں۔
1۔ٹرانسپورٹ کی فیسوں اور ریٹس میں اضافہ
محکمہ ٹرانسپورٹ نے صوبے میں روٹس پرمٹس کے اجرا اور تجدید کی فیسوں میں اضافے کی سمری کابینہ کے سامنے پیش کی جس میں بتایا گیا کہ ریٹس کی سطح گزشتہ کئی سالوں سے کم ترین سطح پر ہے لہذا محکمہ نے رکشوں، کاروں، ٹرکوں کے روٹ پرمٹس ، پارکنگ کیلئے اراضی کی فراہمی ،ورکشاپس کی رجسٹریشن وغیرہ میں3سو فیصد سے 1ہزار فیصد اضافہ تجویز کیا گیا لیکن کابینہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ صوبہ پنجاب کے ریٹس سے 10فیصد کم کی سطح پر لایا جائے۔کابینہ نے مزید فیصلہ کیا کہ گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیکٹ کیلئے ڈویژن اور ضلع میں ایسی ورکشاپوں کی شفاف طریقے سے نشاندہی کی جائے جن کو حکومت کو ذمہ داری تفویض کر سکے تاکہ گاڑی مالکان کو فٹنس سرٹیفکیٹ کے حصول میں کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔کابینہ نے فیصلہ کہ چالان کی صورت میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے سٹاف کو چالان سے حاصل کی گئی رقم سے 10فیصد بطور انعام دیا جائیگا
2۔خیبر پختونخوا فارسٹ آرڈیننس2002 میں مجوزہ ترامیم کی تنسیخ
2اکتوبر2014 کو صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا فارسٹ آرڈیننس میں بعض ترامیم کی منظوری دی تھی جن کی رو سے محکمہ بلدیات/ گلیات ترقیاتی ادارے کو گلیات میں26 ریسٹ مقامات جن میں19 ریسٹ مقامات ریزروڈ فارسٹ میں واقع تھے،بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔ان ترامیم کے تحت ٹورسٹس کو ان مقامات تک پہنچانے کیلئے جنگلات میں مزید ٹریکس بنانے پڑتے اور جس سے جنگلات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔علاوہ ازیں فارسٹ آرڈیننس2002 کی سیکشن۔26 کے تحت بھی اس مقصد کیلئے ریزرو فارسٹ کو کسی شخص یا ادارے کو نہ تو لیز ؤآٹ کیا جا سکتا ہے اور نہ دیا جا سکتا ہے۔لہذا کابینہ سے درخواست کی گئی کہ وہ ان مجوزہ ترامیم کو ختم کردے۔کابینہ نے ہدایت کی کہ گلیات میں چند ایسے ایریاز کی نشاندہی کریں جہاں درخت نہ ہوں اور ان کی تعمیر میں کنکریٹ بھی استعمال نہ ہو۔صرف ان جگہوں پر ہی ریسٹ پلیسز (آرام گاہیں) بنائی جائیں جس کیلئے اس رقبے کو بذریعہ نوٹیفکیشن ریزرو فارسٹ سے نکال دیے جائیں
3۔سول سرونٹس ریٹائرمنٹ بینیفیٹس اینڈ ڈیتھ کمپنسیشن ایکٹ 2014 میں ترمیم
صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ اور دوران ملازمت فوتگی یا کسی اور حادثے کی صورت میں کچھ مالی فوائد فراہم کرنے کے لئے سول سرونٹس ریٹائرمنٹ بینیفیٹس اینڈ ڈیتھ کمپنسیشن ایکٹ 2014 نافذ کیا ہوا ہے جس کے تحت اس مقصد کے لئے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔جب اس قانون کا بل اسمبلی میں پیش ہو رہا تھا تو حزب اختلاف ممبران اسمبلی کے مطالبے پر اس بل کے مسودے میں صوبائی حکومت کی مشاورت کے بغیر کچھ ایسی ترامیم ڈال دی گئیں جن کی وجہ سے اس ایکٹ پر عملدرآمد کے لئے صوبائی حکومت کو آئندہ پانچ سالوں کیلئے2.2 ارب جبکہ آئندہ پندرہ سالوں کیلئے 21 ارب روپے کی اضافی رقم کا بوجھ اٹھانا پڑے گاجبکہ صوبائی حکومت کے محدود مالی وسائل اس کے متحمل نہیں ہوسکتے اور نتیجتا یہ فنڈ دیوالیہ پن کا شکار ہوسکتا ہے ۔جبکہ اس میں آنے والے وقتوں میں بہت زیادہ قانونی پیچید گیاں پیدا ہونے کابھی احتمال ہے اس لئے مذکورہ ایکٹ میں یہ ترامیم تجویز کی گئی ہے کہ سول سرونٹ کی ریٹائرمنٹ پر انہیں مندرجہ ذیل شرح کے مطابق مالی فوائدکی ادائیگی ہوگی۔
*ریٹائرمنٹ کے پہلے پانچ سالوں میں مالی فوائد کا 25 فیصد حصہ ادا کیا جائے گا۔
*ریٹائرمنٹ کے دوسرے پانچ سالوں میں مالی فوائد کا 50 فیصد ادا کیا جائے گا۔
*ریٹائرمنٹ کے تیسرے پانچ سالوں میں مالی فوائد کا 75فیصد ادا کیا جائے گا۔
*ریٹائرمنٹ کے چھوٹے پانچ سالوں میں مالی فوائد کا 100 فیصد ادا کیا جائے گا۔
صوبائی کابینہ نے مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی۔
4۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ 2014 میں ترامیم
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ2014 کا بنیادی مقصد ایک ایسا مفید تجارتی ماحول بنانا تھا جس سے پرائیویٹ سیکٹر صوبے کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرے۔22 ستمبر 2015 کو وزیراعلی خیبر پختونخوا کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہBOIT کے پراجیکٹس میں بعض قوانین کی وجہ سے جو سست روی دیکھنے میں آ رہی ہے اس کو دور کیا جائے۔ کابینہ نے2014 ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر غور و خوص کے بعد اس سے اتفاق نہیں کیا اور محکمے کو ہدایت دی کہ وہ ایکٹ میں جلد از جلد ایسی ترامیم لائے جن سے ہر سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔کابینہ نے ہدایت کی کہ ترامیم کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس کو آرڈیننس کی صورت میں جلد از جلد لایا جائے۔
5۔یوتھ پالیسی2015
صوبائی کابینہ نے یوتھ پالیسی کی بھی منظوری دی۔ پالیسی کے تین بنیادی نکات ہیں۔نوجوانوں کی معاشی،سماجی اور سیاسی آزادی تاکہ نوجوان ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔اس یوتھ پالیسی کی تیاری میں صوبے کے تمام اضلاع سے380نوجوانوں اور250اداروں نے مدد دی جس میں ہر مکتبہ فکر کے نوجوانوں جس میں مرد، خواتین، آئی ڈی پیز، افغان مہاجرین، حکومتی اہلکار، جرنلسٹس، وکلا اور سول سوسائٹی کے افراد شامل تھے اور ہر فرد نے اپنے حصے کا کام کیا۔آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ قومی سطح پر نوجوانوں میں15 سے29سال کے افراد شامل ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر یہ شرح15سے24سال تک ہے۔ایک اندازے کے مطابق 2014 میں اس صوبے کی آبادی2کروڑ75لاکھ تھی جس میں نوجوانوں کی شرح27.230فیصد ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ اس لئے اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نوجوانوں کی اس بڑی تعداد کے ذریعے ہم اپنے صوبے کی قسمت بدل سکتے ہیں۔ اس پالیسی کا وژن ہے کہ خیبر پختونخوا میں نوجوانوں کو یکساں مواقعوں کا ایک مفید ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ ایک پر امن ماحول کے اندر اپنی پوری استعداد سے کام کریں اور پاکستان کو خوشحال بنائیں۔یوتھ پالیسی کے اہداف مندرجہ ذیل ہیں:
خیبر پختونخوا کے نوجوان معاشی طور پر متحرک ہو کر قومی ترقی میں کردار اداکریں۔
*نوجوان اچھی تعلیم کے ذریعے ایسی استعداد پیدا کریں کہ مستقبل کی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکیں۔
*ہمارے نوجوان سماجی طور پر آزاد ترقی پسندnon-violent پر امن اور اپنے مستقبل سے پرامید ہوں۔
*قومی فیصلہ سازی میں شریک ہوں اور حکومت مختلف شعبوں میں نوجوانوں کی ترقی کے ایک ہمہ گیر پروگرام کیلئے ان کے ہم قدم ہوں۔
*اس پالیسی کے تحت نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں ووکیشنل ٹریننگ دینے پر خصوصی توجہ دی جائیگی۔
*غریب نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے دیئے جائینگے اورانہیں تجارت میں ٹریننگ بھی دی جائیگی۔
*ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر جوان مراکز قائم کئے جائینگے۔
*نوجوانوں کو انٹرن شپ۔کیمپس جاب کے مواقع فراہم کئے جائینگے۔
*یوتھ ڈویلپمنٹ پر تمام سرکاری محکموں میں ایک انٹر ڈیپارٹمنٹل ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائیگا تاکہ ہر محکمہ نوجوانوں کی ترقی پر جو بھی کام کرے وہ دوسرے محکمے کے کام سے با خبر ہو۔نوجوانوں کیلئے2فیصد بجٹ مختص کیا جائیگا۔
یوتھ ڈویلپمنٹ کمیشن خیبر پختونخوا:
متعدد سرکاری محکمے ،این جی اوز، انٹر نیشنل ڈونرز اور کارپوریٹ باڈیز اپنے اپنے شعبوں میں نوجوانوں کی empowerment پر کام کر رہے ہیں۔ ان تمام اداروں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کیلئے نوجوانوں پر مشتمل ایک کمیشن بنایا جائیگا جو سول سوسائٹی کی تنظیموں ، یوتھ افیئرزڈیپارٹمنٹ اور سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہوگا۔یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ اس کا سیکرٹریٹ ہوگا جو یوتھ پالیسی پر عمل درعملدرآمد کرائے گا جس کے چیئرمین کی نامزدگی وزیراعلی کرے گا جبکہ ممبران میں سیکرٹرییوتھ افیئرز،سیکرٹری ٹورازم، قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین، صوبائی اسمبلی کی یوتھ افیئرز کی سٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران،ضلع اور تحصیل ناظمین،نوجوانوں کے نمائندے، نوجوان تنظیموں کے سربراہ، سوسل سوسائٹی کے تنظیموں کے نمائندے، کارپوریٹ باڈیز اور دیگر پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندے،صحافی برادری، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے نامزد مشہور و معروف اساتذہ یا تعلیمی ماہرین بھی اس کا حصہ ہوں گے
6۔ خیبر پختونخوا ہائیڈرو پاور پالیسی2016 ۔
صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا ہائیڈرو پاور پالیسی2016 کی بھی منظوری دی۔پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
*کم لاگت بجلی پیداوار کے منصوبوں کو فروغ دیا جائیگا اور پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔
*اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ پاور پراجیکٹ فاسٹ ٹریک، شفاف اور ماحول دوست ہوں۔
*پالیسی میںIPP ماڈل کے تحت پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر دونوں شامل ہیں جنہیں پالیسی کے متعلقہ مراعات دی جائینگی۔
*اس پالیسی کے تحت ہر سائز، استعداد اور ٹیکنالوجی کے پن بجلی منصوبے شامل ہیں۔
*جن پن بجلی کے منصوبوں کی قابل اعتماد فیزبیلٹی سٹڈی یا مکمل انجیئرنگ ڈیزائن موجود ہوں اس کے لئے بین الاقوامی بڈنگ کی جائیگی۔
* پن بجلی کے منصوبے بشمول ٹرانسمشن اورڈسٹریبوشن لائنز کو صوبائی کابینہ کی سفارش پرحکومت کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔
* 2016 کی پاور پالیسی کے تحت پن بجلی کے وہ تمام منصوبے جوپرائیویٹ سیکٹر میں خیبر پختونخو امیں واقع ہوں۔Built own operate &transfer (BOOT) یعنی خود بنا،چلا اور حوالے کر و کی پالیسی کے تحت ہونگے۔
*تمام سرمایہ کاروں کو ان منصوبوں کیلئےPEDOون ونڈو فیسبیلٹی فراہم کرے گی۔
*کارپوریٹ بانڈز جاری کرنے کی اجازت ہوگی۔
*منصوبوں کے سرمایہ کاروں کو اراضی کے حصول میں مدد دی جائیگی یا پیڈو اراضی حاصل کرنے کے بعد ایک معاہدے کے تحت سرمایہ کاروں کو لیز پردے گی۔ اس کے علاوہ ایکوٹی پر پرکشش واپسی، انکم ٹیکس، ٹرن اوورٹیکس سے مبرا، درآمد پر ود ہولڈنگ ٹیکس معاف، پلانٹ، مشینری اور سازوسامان پرکوئی سیلز ٹیکس نہیں ہوگا۔صوبائی سیلز ٹیکس بھی نہیں ہوگا اور جوپلانٹ اور سامان وغیرہ مقامی طور پر تیار نہیں ان پر صرف5فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی۔
*کارپوریٹ سوشل ذمہ داری(CSR) کے تحت سرمایہ کار پراجیکٹ ایریا میں سوشل،ہیلتھ اور تعلیم کے شعبوں میں مفاد عامہ کے پراجیکٹس پر بھی کام کریں گے جبکہ صوبہ بھر بھی پراجیکٹس کے واٹریوز چارجز (water use charges) سے ایک اچھی خاصی رقم علاقے کی ترقی پر خرچ کرے گی۔
7۔احتساب کمیشن میں ترامیم:
کابینہ نے کے اسی اجلاس میں صوبائی احتساب کمیشن ایکٹ2014 میں ترامیم کی منظوری دی گئی جس پر کمیشن کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل(ر) محمد حامد خان نے اولاََ شدید تحفظات کا اظہار جبکہ بعد میں اپنے عہدے سے استعفیٰ تک دے ڈالا۔صوبائی احتساب کمیشن ایکٹ میں کون سی ترامیم کی گئیں، انکی تفصیل یہ ہے۔
*ڈائریکٹر جنرل اور احتساب کمشنروں کی ذمہ داریوں کا مربوط تعین ۔
*کمیشن میں ڈائریکٹر جنرل ،پروسیکیوٹر اجنرل ا ور دیگر ڈایکٹرز کی شمولیت۔
*کمیشن کے اہلکاروں کی تعیناتی کیلئے ضابطوں اور طریقہ کار کا تعین جس میں انتہائی اہم طور پر کمیشن کو 30روز میں انکوائری مکمل کرنے اور 15دن میں تحقیقات مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن شامل ہے۔
* انکوائری کے دوران گرفتاری عمل میں نہیں لائی جائے البتہ اگر انکوائری کے بعد investigation کیلئے گرفتاری لازم ہو تو ممبران اسمبلی کی صورت میں سپیکریا چئیرمین اور سرکاری افسران کی گرفتاری کی صورت میں چیف سیکرٹری کو اطلاع دی جائے گی۔
*کابینہ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ مختلف تحقیاتی ادارے، دفاتر کا ریکارڈ حاصل کر لیتے ہیں جو طویل عرصے تک ان کے پاس پڑا رہتا ہے۔کابینہ نے فیصلہ کیا کہ احتساب ریکارڈ 15 دن سے زیادہ نہیں رکھ سکے گااور فوٹو سٹیٹ کرکے واپس کر دے گا۔اسی طرح محکمہ انٹی کرپشن کے بارے میں بھی کابینہ نے فیصلہ کیاکہ ہ وہ ریکارڈ حاصل کرتے ہی موقع پر فوٹو سٹیٹ کرنے کے بعد واپس کر دے گا تاکہ محکمہ جات کا باقی کام متاثر نہ ہو۔
بادی النظر میں مندرجہ بالا تما م قوانین، سہولیات اور اقدامات عوام کی فلاح و بہبود کے لئے نہایت اہم ہی نہیں، ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ اٹھائے جانے والے اقدامات کہلائے جا سکتے ہیں ۔لیکن ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا جہاں صوبائی حکومت اور صوبائی بیوروکریسی کا کام ہے وہیں عوام کو بھی ا س سلسلے میں آگے بڑھ کر ان قوانین کے استعمال اور دی جانے والی سہولیات سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔ اس سلسلے میں صوبائی وزارت اطلاعات کا کردار کافی کمزور دیکھا جا رہا ہے کہ جس کی وجہ سے عوامی فلاح و بہود کے حوالے سے اٹھائے جانے والے ان حکومتی اقدامات سے صوبہ کے عوام کی ایک غلاب اکثریت لا علم گمان کی جا رہی ہے۔ رہی بات میڈیا کی تو وہ ہمیشہ سے ایک مخصوص آنکھ سے خبر، تجزئیے یا رپورٹ تیار کرنے کی روش پر گامزن ہے جس کے تحت صرف منفی پہلو ہی صحافت کی اساس بن چکی ہے۔ عوامی آگاہی اور مثبت سرگرمیوں کی تشہیر اس وقت سامنے نہیں آتی کہ جب تک ذاتی التفات یا مفادات کا عنصر موجود رہے۔ صوبائی حکومت کو ا س سلسلے میں ایک جامع پروگرام وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسکی جانب سے جاری کردہ یہ قوانین عوامی آگاہی نہ ہونے کے سبب کہیں اپنی افادیت ہی نہ کھو بیٹھیں۔

حصہ