حدِ ادب
انوار حسین حقی
ڈونلڈ ٹرمپ اور برِِِ صغیر کی تاریخ
___________________________
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر ہمارے ہاں بھی شدید ردِ عمل کا اظہار کیا جا رہاہے سوشل میڈیا پر ایک دوست کا یہ تبصرہ دل کو بہت بھایا کہ ’’ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر پاکستانی اس طرح کے ردِ عمل کا اظہار کر رہے ہیں جیسے یہ لوگ اپنے انتخابات میں فرشتے منتخب کرتے ہیں ‘‘ ۔۔
میں تاریخ کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں ۔ اب تک کے مطالعے کے دوران میں نے پاکستان یا برصغیر کے عام لوگوں کو ہر لحاظ سے سادہ ، سُچا اور سَچا پایا ہے ۔ نظریات کا اظہار ہو یا قربانی کا تقاضا اس خطے کے لوگ کبھی پیچھے نہیں ہٹے ۔ لیکن ان کے مقدر اور خطے میں فیصلہ کرنے والی قیادت کے اپنے اپنے چہرے اور نصب العین رہے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر امریکی عوام سے زیادہ پاکستانی پریشان نظر آتے ہیں ۔اس بے قراری اور بی چینی کا بڑا سبب پاکستان کے لوگوں کی اپنے ملک اور نظریئے سے محبت ہے ۔
ماضی میں 1857 ء کی جنگِ آزادی ، تحریک خلافت، ہندوستان چھوڑدو تحریک سمیت تمام تحریکوں میں یہا ں کے لوگوں نے اپنے جذبہ حریت کا بھر پور اظہار کیا ۔ یہ جدو جہد اس خطے کی تاریخ کا روشن پہلو اور دبستانِ حریت کا عنوانِ جلی ہے ۔ لیکن اس کے برعکس بھی تاریخ کے صفحات میں بہت کچھ ہے جو تاریخ کے طالب علموں کی بے قراری کا باعث ہے ۔ ان موضوعات کو بہت کم منظرِ عام پر لایا گیا ۔ڈونلٖڈ ٹرمپ کی کامیابی پر پاکستانی عوام کی تشویش نے تاریخ کے گمشدہ اوراق کی ورق گردانی کے لیئے مہمیز کا کام کیا ہے ۔ یہ غز ل چھِڑنے پر جو ساز ہاتھ آیا ہے وہ قارئین کی امانت کے طور پر پیش کرنا چاہوں گا ۔ یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے اسے یہاں دوہرانے کا مقصد اس سے سوا کچھ نہیں ہے ہم میں تاریخ کے مطالعے کی دلچسپی پیدا ہو۔
1857 ء کی جنگِ آزادی میں اس خطے کے عوام نے قربانیوں کی ایک لازوال داستان رقم کی تھی ۔ جب برِصغیر براہِ راست تاجِ برطانیہ کے ماتحت آیا تو 1857 ء کی جنگِ آزادی کو’’پاگل پن کی آندھی ‘‘ قرار دینے والوں کی کمی نہیں تھی ۔ ان کی رائے میں مسلمان انگریزوں کے مخالف ہو گئے ہندوؤں نے انگریزوں کے قریب ہو کر انہیں مسلمانوں سے بدظن کرنا شروع کر دیا ۔ لہذا سوچ سامنے آئی کہ اگر زمامِ کار ہندوؤں کے ہاتھ میں آئی اور انگریز درمیان سے ہٹ گئے تو مسلمانوں کا کیا حال ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ انگریزوں کا اپنا نجات دہندہ سمجھتا تھا ۔ اس فکر کو آگے بڑھانے میں سب سے بڑا کردار سر سید احمد خان تھا ۔ 1884 ء میں ایک برطانوی رکنِ پارلمنٹ کی ہندوستان آمد کے موقع پر انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’’ ہم کو نہایت خوشی ہے کہ آپ ( مسٹر بلنٹ ) نے ہمارے ملک کو دیکھا ہماری قوم کے مختلف گروہوں سے ملے ہم کو اُمید ہے کہ آپ نے ہر جگہ ہماری قوم کو تاجِ برطانیہ کا لائل ( Loyal ) اور کوئین وکٹوریہ ایمپریس انڈیا کا دلی خیر خواہ پایا ہوگا ۔ انگلش نیشن ہمارے مفتوحہ ملک میں آئی مگر مثل ایک دوست کے نہ کہ بطور ایک دشمن کے ہماری خواہش ہے کہ ہندوستان میں انگلش حکومت صرف ایک زمانہٗ دراز تک ہی نہیں بلکہ انٹرنل (Enteral ) رہے ۔‘‘ایک دوسری جگہ سرسید کہتے ہیں کہ ’’ بے شک ہماری ملکہ معظمہ کے سر پر خدا کا ہاتھ ہے ‘‘۔ ملکہ برطانیہ کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کے اُستاد شمس العلماء مولوی سید میر حسن کا فتویٰ بھی تاریخ میں محفوظ ہے ۔
تاریخ ، سیرت اور فلسفہ پر عبور رکھنے والے معروف سکالر سید نصیر شاہ مرحوم نے اپنی آخری کتاب ’’ اسلام اور دہشت گردی ‘‘ میں اس بارے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ کتاب مصنٖف کی وفات کی وجہ سے منظر عام پر نہیں آ سکی لیکن یہ نادر معلومات کا خزینہ ہے اس کتاب میں سید نصیر شاہ لکھتے ہیں کہ ’’ ملکہ وکٹوریہ 22 جنوری1901 ء کو فوت ہوئیں یہ دن ہندوستان میں عید الفطر کا دن تھا ۔ علامہ اقبالؒ اور مولانا الطاف حیسن حالی ؒ دونوں نے پُر درد مر ثیئے لکھے ۔مولانا حالی کے مقابلے میں علامہ اقبال ؒ کا ایک سو دس اشعار کا مرثیہ بہت زیادہ پردرد اور اثر انگیز ہے اور اس میں جذبات کے ساتھ زبان و بیان کی ساری خوبیاں سمٹ آئی ہیں ۔ اسی مرثیہ میں ملکہ کی موت کو محرم سے بھی تعبیر کیا ہے ۔
آئی ادھر نشاط ادھر غم بھی آ گیا
کل عید تھی تو آج محرم بھی آ گیا ۔
اس مرثیئے کے چوتھے بند میں انہوں نے نیک حاکم کے اوصاف گنوائے اور کہا ہے ہر بات اس کی ایسی پاکیزہ ہونا چاہیئے جیسے جبرائیل کی صداہو وہ معاملات کا فیصلہ ایسے رنگ میں کرے گویا تقدیر کی مراد وہی ہو ۔ اور جیسے یہ سب اوصاف ملکہ میں بدرجہ اتم پائے جاتے تھے اُ نکے جاوداں ہونے کی بات چھیڑتے ہوئے کہتے ہیں
وکٹوریہ نہ مُرد کہ نام نکوگزاشت
ہے زندگی یہی جسے پروردگار دے
اور آخر میں وہی ظلِ الہی والی بات دہراتے ہیں
’’ اے ہند تیرے سر سے اُٹھا سایہ خدا ‘‘
انگریز حاکموں کو یہ مرثیہ بہت ہی پر سوز اور پر اثر لگا ۔ اسے سرکاری خرچ پر طبع کرایا گیا ۔ حکومت نے خود اس کی کئی ہزار کاپیاں مختلف زبانوں میں شائع کروائیں اس کا انگریزی ترجمہ خود علامہ اقبال ؒ نے کیا اور Tear of Blood کے نام سے شائع ہوا ۔
تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف سرسید کے مکتبِ فکر کا خیال نہیں تھا تمام مسلمان فرقے انگریزوں کی اطاعت کا دم بھرتے تھے ۔ مرقہء اہلحدیث کے مشہور عالم دین مولانا محمد حسین بٹالوی اپنے مشہورِ زمانہ ’’ اشاعت السنہ ‘‘ میں بار بار حکومت سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں ۔
’’ ملکہ معظمہ اور اس کی سلطنت کے لیئے دعائے سلامتی و حفاظت وبرکت‘‘۔۔ سجادہ نشین آستانہ عالیہ حضرت غوث بہاؤ الحق فرماتے ہیں ’’۔۔گورنمنٹ برطانیہ نے اپنے دورانِ سلطنت میں ہماری دینی اور روحانی ترقی میں جو نمایاں حصہ لیا ہے وہ محتاجِِ بیاں نہیں پس ہم کو من لم یشکرالناس لم یشکر اللہ سے بچنے کے لیئے لازم ہے کہ اپنی محسن گورنمٹ کے حق میں خاص مواقع پر صدقِ دل سے دعا کریں ‘‘ ۔ ( روزنامہ پیسہ اخبار لاہور 22 ۔ اگست1915 ء ) ۔
دیو بندی مسلک کے علماء کا کہنا تھا کہ ’’ ہر مومن مسلمان سے استدعا ہے کہ وہ گورنمنٹ عالیہ کے لیئے کہ جس کے عہدِ حکومت میں ہر فرد بشر نہایت عیش و آرام سے اپنی زندگی بسر کر رہا ہے ۔ اور اس کی عطاء کردہ آزادی کی بدولت اسلامی چمنستان سرسبز و بار آور ہے ۔ ضرور بالضرور اُٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے غرض ہر لحظہ اور ہر ساعت دعا کریں اے خدا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے انہیں مسندِ حکومت پر قائم رکھ ‘‘ ۔۔۔ اہل تشیعہ حضرات کا طرزِ عمل بھی ایسا ہی تھا ’’ ہم تمام ہندوستان کے اہل تشیعہ عزم بالجزم، ارادہء ہمم اور کامل مستعدی کے ساتھ اپنی جان ، اپنے مال ، اپنے عزیز و اقارب اور اپنی اولاد کی جانوں کو بغیر کسی قسم کی قیود و شرائط شہنشاہِ برطانیہ اور اپنی گورنمنٹ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ ‘‘
مجلس ندوۃ العلماء کے ماہوار رسالہ ’’ الندوہ ‘‘ میں شائع شدہ رپورٹ کا ایک اقتباس کچھ یوں ہے ۔’’ہز آنر لیفٹینٹ گورنر بہادر نے منظور فرمایا تھا کہ وہ دارلعلوم ندوۃ المعلماء کا سنگِ بنیاد اپنے ہاتھ سے رکھیں گے ۔ یہ تقریب28 نومبر1908 ء کو عمل میں آئی معزز شرکائے جلسہ کے علماء میں مولانا عبد الباری فرنگی محلی ، مولوی شاہ سلیمان صاحب پلھواری، مولوی مسیح الزمان خان صاحب استاذ حضور نظام ۔۔۔ اور اربابِ وجاہت میں سے راجہ صاحب محمود آباد ، صاحبزادہ آفتاب احمد خان ، شیخ عبد القادر بیرسٹر ، خان بہادر سید جعفر حسین صاحب ۔۔ جلسہ میں شریک تھے ۔ ارکانِِ انتطامیہء ندوہ ہزآنر کے استقبال کے لیئے لبِ فرش دو رویہ صف باندھے کھڑے تھے ۔ کمشنر صاحب لکھنؤ نے سیکرٹری دارلعلوم شبلی نعمانی کو لیفٹینٹ گورنر صاحب بہادر سے ملوایا ۔ ہز آنر سرخ بانات کے خیمہ میں لیڈی صاحبہ کے ساتھ چاندی کی کرسی پر رونق افروز ہوئے ‘‘۔۔۔یہ تو علمائے کرام کی داستانیں تھیں ۔تاریخ اسلام کا شاید پہلا موقع تھا کہ ترکی ٹوپیاں اور عمامے دوش بدوش نظر آتے تھے مقدس علمائے اسلام عیسائی فرمانروا کے سامنے دلی شکر گزاری کے ساتھ ادب سے خم تھے اور شاید یہ بھی پہلا ہی موقع تھا کہ ایک مذہبی درسگاہ کا سنگِ بنیاد ایک غیر مذہب کے ہاتھوں رکھا جا رہا تھا ۔چلتے چلتے اُس دور کی صحافت کا حال بھی جانیئے اور سر دھنتے رہ جائیے ۔۔۔’’مولانا ظفر علی خان کے اخبار ’’زمیندار ‘‘ کا سرنامہ یوں ہوا کرتا تھا ۔۔
روزانہ
زمیندار لاہور
تاجِ برطانیہ کانشان نشان خنجر
تُم خیر خواہِ دولتِ برطانیہ رہو
سمجھیں جناب قیصرِ ہند اپنا جاں نثار
تیغوں کے سایہ مین ہم پل کر جوان ہوئے
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا۔۔۔۔۔۔

حصہ