پکستان کی نمائندگی ضروری یا من پسند مشغلے
آسٹریلوی مسلمانوں کی سب سے بڑی بین الاقو امی نمائش میں پاکستانی سفارت کارو ں کی عدم شرکت
حلال ایکسپو آسٹریلیا میں پاکستانی سفارتکاروں کی غیر حاضری انکی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے
سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیاٗ
آسٹریلیا میں تعئنات پاکستانی سفارتکاروں کی نا اہلی کا یہ کوئی نیا فسانہ نہیں۔ پچھلے 25 سالوں سے جو میں نے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے دیکھا، بحیثیت پاکستانی کمیونٹی کےایک سرگرم رکن اور اسلامی کمیونٹی کے بڑے اجتماعات کے اورگنائزر کے طور پر تجر بہ حاصل کیا اسکی فہرست اور کہانی بہت لمبی ہے لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان سرکار نے زیادہ تر ایسے سفارتکار آسٹریلوی سفارتخانے کیمبرہ اور کونسل خانہ سڈنی میں تعئنات کئے ہیں جو پاکستان اور آسٹریلیا میں بسنے والے سوائے چند مفاد پرست ٹولہ کے علاوہ تمام محبت وطن پاکستانیوں کے لئے شرمندگی کے سوا کچھ نہیں۔ انِ سفارتکاروں کے عمل سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی تعئناتی میرٹ پر نہیں سیاسی وابسطگیوں یا ذاتی تعلقات بنیاد پر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر جب پاکستان میں سیاسی حکومت تبدلی ہوتی ہے تو یہاں بھی اعلی سفارتکار تبدیل ہو جاتے ہیں۔
آسٹریلیا پاکستان کےلئے ایک اہم ملک ہے ۔ پاکستان کے قیام کے بعد سب سے پہلا پاکستان کا سفارتخانہ آسٹریلیا میں قائم کیا گیا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے کئی دھائیوں سے یہاں جو سفارتکار تئعنات کئے گئے ہیں ان میں اکثریت ایسے افسران کی ہے جو پاکستانی روائتی افسر شاہی اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ ان کی نا اہلی اور ذاتی مفاد پرستی کا عمل سارے پاکستانیوں کے لئے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔انِ سفارتکاروں کا یہاں تعئنات ہونے کے بعد سب سے پہلا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسِ طرح سے اپنی تعئناتی کی معیاد پوری ہونے سے پہلے اپنے اور اپنی فیملی کے لئے آسٹریلیا میں مستقل رہائش کے سامان پیدا کئے جائیں۔ اور اسِ کی زندہ مثال یہ ہے کہ آج یہاں کتنے ہی سابق سفیر ، کونسل جرنل اور دوسرے افسران سڈنی، کیمبرہ اور میلبورن کے شاپنگ سینٹرز میں اپنی فیملی کے ساتھ شاپنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ کیا پاکستان کی غریب عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر عیش کرنے والے یہ سرکار ی افسران اپنی ذمہ داریوں کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے جرم کے مرتکب نہیں؟ کیا پاکستانی سرکار نے کبھی کوئی دھیان اس طرف دیا اور ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا؟ یہ افسران آسٹریلیا میں مستقل رہائش حاصل کرتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کے سرکار ی خزانے سے ریٹائرمنٹ کے سارے فوائد بھی لیتے ہیں؟ پاکستان کے غریب عوام کے پیسوں سے اپنے لئے آسٹریلیا میں مستقل سکونت اختیار کرنا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا بڑا جرم پاکستان پیسہ باہر لیجاکر اپنی اثاثے بنانا!
پھر یہاں انکی کارکردگی پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ددطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے کیا ہے؟ صنعت ، زراعت، تعلیم ، صحت غرض کہ ہر شعبہ میں پاکستان کے خطے کے ممالک نے آسٹریلیا سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے مگر پاکستانی سفارتکاروں کی اپنی ذاتی مصروفیات ہی ختم نہیں ہوتیں۔ اسِ کی تازہ مثال آسٹریلیا کی تاریخ میں اسلامی کمیونٹی کا سب سے انٹرنیشنل بڑا حلال ٹریڈ شو اور انٹرنیشنل حلال کانفرنس کا سڈنی میں انعقاد تھا جس میں پاکستانی ہائی کمشنر، ٹریڈ کونسلر، کونسل جرنل اور تمام عملہ کی غیر حاضری اور عدم دلچسپی ہے نا صرف سڈنی میں بسنے والے پاکستانیوں کے لئے شرمندگی کا باعث تھا بلکہ دوسرے اسلامی ممالک مقامی اور انٹرنیشنل ڈیلیگیٹس کے لئے جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ملیشیا، انڈونیشنا ، برونائی، بنگلادیش، افغانستان، مصر، سنگاپور، تھائی لینڈ شامل تھے حیرانگی کا باعث تھا۔
آج اگر پاکستان کئی محاذوں پر حق اور اصولوں پر سچا ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے بین الاقوامی کمیونٹی کو مطمئن نہیں کر پار ہا تو ان میں قصور اِن ہی نااہل اورکرپٹ مافیہ کا ہے۔ انِ سفارتکار وں کے پاس عام پاکستانیوں کے لئے وقت نہیں، اہم پروگراموں میں حاضر ہونے کے لئے وقت نہیں لیکن اپنے مطلب کے لوگوں سے روابط بڑھانےکے لئے یہ لوگ بہت فارغ نظر آتے ہیں۔ اگر پاکستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کا دورہ کرے تو پاکستان سفیر پورے پورے میچ اپنی فیملز کے ساتھ وی آئی لائونج میں بیٹھ کر دیتے ہیں پھر انکے ساتھ ڈنر کی تقریبات رات دیر تک اٹینڈ کرتےہیں لیکن ایک ایسی بین الاقوامی نمائش جو ہے ہی حلال اشیا کی آسٹریلیا کی منڈی میں اپنے ملک کے لئے جگہ بنانے کے لئے اسُ میں پاکستان کی ہائی کمشنر اسِ لئے نہیں جاتی کیونکہ اسُ کو اپنے مطلب کی خود نمائی حاصل ہوتی نظر نہیں آتی اور جو دوسرے انٹرنیشنل حلال انڈسٹری کی شخصیات اور سفارتکاروں سے بات کرتے ہوئی اپنی نا اہلی کی وجہ سے گھبراتی ہے۔بار حال پاکستانی سفارتکاروں کی نااہلی اور کمزوریوں کے واقعات جب جب نظر آتے ہیں اور جب جب یہاں کے عام پاکستانیوں کو ان کی شرمناک واقعات سے تکلیف ہوتی ہے میں اپنا صحافتی فرض سمجھ کر میڈیا میں اجُاگر کرتا ہوں تاکہ شاید اسلام آباد میں بیٹھے کسی ذمہ دار کو اسِ کا سخت نوٹس لینے کی توفیق ہو۔ یہ ہی میرا عمل ان ِ اناہل سفارتکاروں کو ہضم نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ نا صرف مجھ سے ذاتی بغض رکھتے ہیں بلکہ میرے خلاف زہر اگلتے ہیں ، انکا یہ عمل ماضی بھی رہا ہے اور اب بھی ہے کیونکہ یہ سب ایک ہی کرپشن کر فیکٹری سے تیار ہوکر آتے ہیں۔ ان میں یہ ذہنی صلاحیت اور شعورہی نہیں کہ یہ چیزوں میں تفریق کر سکیں اور دیکھیں کہ کہاں پاکستان کامفاد ہے اور کہاں اِن کا اپنا مفاد۔ ان کے نزدیک ان کی اپنی انا، اپنا مفاد، اپنی پسند اور نا پسند پہلے اور پاکستان اور پاکستانیو ں کا مفاد بعد میں۔ہونا تو یہ چائیے تھا کہ اگر ان کو میری صحافتی سچائی بری لگتی ہے اور اسِ سے انکے کے ذاتی مقاصد کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کو ایک طرف رکھتے اور پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھ کر قومی اور بین الاقوامی نوعیت کی تقریبات میں اپنی شرکت یقینی بناتے ناکہ اپنا بدلہ اُن پروگراموں سے جو پاکستان ، پاکستانی عوام، اسلام اور مسلمانوں کے مقاصد کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔
عتیق الحسن نے انِ کے تمام نا اہل اور متعصباہ عمل کو بالا طاق رکھ کر ہمیشہ باقاعدگی سے ان کو دعوت دعوت دی ہے۔ عتیق الحسن کا ایک رول اسکی صحافتی ذمہ داری ہے جو وہ انشاءاللہ جب تک صحافت میں کام کر رہا ہے کرتا رہے گا کیونکہ عتیق الحسن کا یہ ایمان ہے کہ صحافی کا قلم عوام النساس کی امانت ہوتا ہے اور سچ بات کہنا اور لکھنا صحافی کے ایمان کا حصہ ہوتا ہے۔ عتیق الحسن کا دوسرے رول جو اس کا ایمان ہے اللہ کا ایک تحفہ ہے وہ عتیق الحسن اسلامی کا پچھلے پچیس سالوں سے کمیونٹی اور بالالخصوص پاکستانیوں کے لئے مختلف شعبوں میں سماجی کام ہے جس کی اب ایک لمبی فہرست ہے جس سے تمام پاکستانی بخوبی واقف ہیں اور فخر کرتے ہیں۔ مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ عتیق الحسن کی سربراہی میں ہونے والے پروگراموں کا یہ سفارتکار اکثر نا صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ اپنے گرد بنائے ہوئے مفاد پرست ٹولہ کو بھی ورغلا کرانُ کو پروگراموں میں جانے سے منع کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ سارے سفارتکاروں کا رویہ ایسا نہیں ان میں کچھ انصاف پسند اور پاکستان کا درد رکھنےوالے سفارتکار بھی یہاں آئے جنہوں نے عتیق الحسن کے کاموں کو سراہا اور باقاعدگی سے شرکت کی۔ مگر حال ہی میں جو رویہ پاکستان کی موجود خاتون سفیر نائیلہ چوہان کا ہے وہ نا صرف ایک افسوس ناک فیل ہے بلکہ انُکی نا اہلی ، انا پرستی اور امیتازی رویہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انِ محترمہ کا خود نمائی کا یہ عالم ہے کہ انکو اپنی سرکاری حیثیت کا اندازہ ہی نہیں۔ محترمہ نے عام لوگوں کی طرح اپنا فیس بک پیج بنایا ہوا ہے جس پر عام لوگوں کی طرح اپنی مختلف سوشل تقریبات کی تصاویر آویزاں کرکے اپنے چاہنے والوں سے داد لیتی ہیں اور پھر ریمارکس پاس کرتی ہیں۔ جب سے ان کی بحیثیت سفارتکار آسٹریلیا میں تعئناتی ہوئی ہے انہوں نے پاکستانی سفیر کی حیثیت کو ذاتی شہرت اور پاکستانی کمیونٹی میں گروپ بازی اور کمیونٹ کو تقسیم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ محترمہ کی ذہنی صلاحیت کا اندازہ اسِ بات سے لگایا جاتا ہے جس کا نوٹس بہت سے لوگوں نے لیا ہے کہ یہ محترمہ محفلوں میں پاکستانی مرد حضرات سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتی جو کہ اچھی بات ہے اور ہماری مشرقی روایات کے مطابق ہیں مگر اسی محفل میں آسٹریلیوں وزیروں اور اعلی شخصیات سے گرم جوشی سے ہاتھ ملاتی نظر آتی ہیں ، اسِ بات کا نوٹس انُ اعلی شخصیات نے بھی لیا ہوگا جن سے یہ ہاتھ ملاتی ہیں کیا ایسے لوگ پاکستان ثقافت اور تہذیب کا مزاق نہیں سرکاری سطح پر نہیں اڑاتے؟ اوسط درجہ کی کمیونیکیشن کی مالک یہ خاتون سفیر مقامی حکومتی شخصیات سے کھل کر بات کرتی ہوئی ڈرتی ہیں اور اپنے آپ کو بات چیت میں ایک فاصلے پر رکھتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ کہیں خارجہ امور پر اوسط درجہ کی قابلیت دوسروں پر عیاں نہ ہو جائے۔موصوف نے چند چیدہ چیدہ مفاد پرست اور خوش آمدی ٹولے سے ذاتی رابطے قائم کئے ہوئے ہیں پھر ان سے دوسرے پاکستانیوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرتی ہیں اور فیصلے کرتی ہیں کہ کسِ پروگرام میں جانا ہے کسِ میں نہ جانا جبکہ ان کا پیمانہ صرف اپنی ذاتی شہرت اور فوٹو سیشن ہے اور کونسا میزبان انِ کی کتنی چاپالوسی کرتا ہے، ان کی گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے اور کون ان کو اسٹیج پر مہمان خصوصی کی کرسی پر بٹھاتا ہے۔
محترمہ نائیلہ چوہان صاحبہ کی تازہ شرمناک حرکت انکا حلال ایکسپو آسٹریلیا میں نا صرف عدم شرکت بلکہ دوسرے افسران کو بھی پروگرام میں شرکت سے منع کرنا ہے۔ انہوں نے آخر ایسا کیوں کیا؟ اسِ کی وجہ ان کا پروگرام کے منتظمین اعلی سے ذاتی بغض اور متعصبانہ رویہ ہے۔ حیرانی انکی سوچ پر نہیں حیرانی انِ کی سفیر کے عہدہ پر تعئناتی ہے آخر نواز شریف حکومت نے انِ میں کونسی ایسی خوبی دیکھی کہ ان کو آسٹریلیا جیسے اہم ملک میں سفیر کے عہدہ پر بھیجا گیا ۔ یہ آسٹریلوی میڈیا میں بات نہیں کر سکتیں ، کمیونکیشن انِ کا مسلہ ہے۔ یہ کسی مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے گھبراتیں ہیں مگر چند مقامی پاکستانی ایڈورٹائئزنگ اخبار نما میگزین میں اپنی تصویریں لگوانے میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔
حلال ایکسپو آسٹریلیا صرف حلال مصنوعات کی نمائش اور حلال طرزِ زندگی کو اجاگر کرنے کے لئے منعقد کانفرنس کی حد تک محدود ایک تقریب نہیں بلکہ یہ آسٹریلیا میں آباد مسلمانوں کی موجودہ اور اگلی نسلوں کو صنعت و حرفت، معیشت اور مختلف شعبوں میں مضبوط کرنے، آسٹریلیا کے مغربی معاشرہ میں اسلامی اصولوں کے مطابق حلال طرزِ زندگی کو فروغ دینے اورآسٹریلیا کے کثیر الثقافت اور بین الامذاہب معاشرہ میں اسلام اور حلال طریقہ کار سے متعلق جو من گھڑت کہانیاں اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں انکو دور کرنے کا عظیم مقصد او ر غیر مسلم کو امن اور بھائی چارے کا پیغام دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حلال ایکسپو آسٹریلیا کو آسٹریلیا کی تمام مسلمان کمیونیٹیز اور انکی بڑی تنظیموں نے کو نا صرف سراہا بلکہ اس کی کامیابی کے لئے درجہ بدرجہ شرکت بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔ ملائشیا ، انڈونیشیا، برونائی، ترکی متحدہ عرب امارات اور سعودی عربیہ کے سفارتکاروں نے اسِ کے انعقاد اور کامیابی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور شرکت بھی کی ہے۔ اگر پاکستان اور پاکستانی کاروباری کمیونٹی کو سامنے رکھا جائے تو حلال ایکسپو آسٹریلیا پاکستان اور پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے لئے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جہاں ہر اشیا حلال پائی جاتی ہے۔ حلا ل ایکسپو میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنانا پاکستانی ہائی کمشنر اور سڈنی میں ٹریڈ کونسل کی بنیادی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔ جس کے لئے حلال ایکسپو کے منتظمین اعلی ، سید عتیق الحسن نے خود سڈنی کونسل آفس میں کونسلیٹ جرنل اور ٹریڈ کونسل سے ملاقات کرکے انُ دعوت دی انکو حلال ایکسپو کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اوران سے درخواست کی کہ حلال ایکسپو آسٹریلیا پاکستان اور پاکستانی بزنس کمیونٹی کے لئے ایک سنہری موقع ہے جس میں آپ لوگ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جس کے جواب میں ایک مرتبہ پھر روائتی قسم کے وعدے کئے گئے، منہ پر تعریفیں کی گئیں اور وعدے کئے گئے کہ وہ اسِ حلال ایکسپو میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے ۔ پھر اسی میٹنگ میں کونسل جرنل نے اپنے موبائل میں موجود پاکستان کے ایک بین الاقوامی اردو میگزین میں سید عیتق الحسن کا ہفتہ وار ایک کالم دکھایا اور عتیق الحسن سے کہا کہ کہا کہ ہائی کمشنر اور انکا عملہ آ پ سے ناراض ہیں کیونکہ آپ ہماری کارگردگی پر اپنے کالم میں نکتہ چینی کرتے ہیں اگر آپ یہ بند کردیں تو تمام معاملات ٹھیک ہو سکتے ہیں اور ہائی کمشنر صاحبہ آپ کے ساتھ کھڑی ہوسکتی ہیں اور آپ کے پروگراموں میں بھی آ سکتی ہیں۔ جس پر سید عتیق الحسن نے کہا کہ یہ انکی صحافتی ذمہ داریاں ہیں اگر اپنے معلامات اور جو ذمہ داریاں ہیں انکو خوش اصلوبی سے کریں گے تو عتیق الحسن کیسے آپ کی کارکردگی پر نکتہ چینی کر سکتا ہے اور یہ کہ عتیق الحسن کا وہ ایک صحافتی ذمہ داری ہے مگر اس وقت حلال ایکسپو کا اورگنائزر آپ سے مخاطب ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان اسِ موقع سے فائدہ اٹھائے۔ یہ ہی وہ وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے یہ سفارتی ٹولہ نے سید عتیق الحسن کے زیر سایہ ہونے والے پروگراموں کا اور عتیق الحسن کی کردار کشی کا عظم کیا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستانی کمیونٹی کے چند مفاد پرست ٹولہ سے عتیق الحسن کے خلاف ایک خط لکھوایا گیا اور اسکو ہائی کمیشن آفس کی مہر لگا کر پاکستان میں ایک اعلی اخبار کے مالکان کو پاکستان بھیجا گیا اسِ خط میں عتیق الحسن کی کردار کشی کی گئی اور شرمناک اور بیہودہ قسم کے الزامات عتیق الحسن کے بارے میں لگائے گئے اور مالکان سے کہا گیا کہ عتیق الحسن کو اپنے ادارے سے فارغ کریں مگر یہ عقل کے اندھے نہیں جانتے کہ ہر انسان اپنے کام سے اپنی جگہ بناتا ہے ان کی طرح منافقت، چمچہ گیری اور جھوٹ سے عزت نہین کماتا۔ شاید یہ کم عقل لوگ بھول جاتے ہیں کہ عزت اورذلت اللہ کے ہاتھ ہے۔ عتیق الحسن کو صحافت اور کالم نگاری کرتے ، حق اور سچائی کی آواز بلند کرتے ساری زندگی گزر گئی جن لوگوں کو عتیق الحسن کے بارے میں من گھڑت الزام لگا کر خط لکھے گئے ان سے انِکو منہ کی کھانی پڑی۔انسان اپنے کردار اور اپنے کام سے جانا جاتا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنا کام بجا طور پر کر رہے ہوتے تو آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر اکیلا نہ کھڑا ہوتا اور نہ ہی عتیق الحسن جیسے لکھاریوں کو ان لوگوں کی کارکردگی پر اپنا وقت خراب کرنا پڑتا۔
اسِ سال حلال ایکسپوآسٹریلیا کا تیسرا سال تھا۔ یہ تقریب بروز ہفتہ 11 اور اتوار 12فروری کو سڈنی کے سب سے اعلی مقام روز ہلِ گار ڈنز میں منعقد ہوئی۔ اسِ سال حلال ایکسپو آسٹریلیا میں آسٹریلو ی اور غیر ملکی جن میں سعودی عربیہ، متحدہ عرب امارات، ملائشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ ، اور برونائی کے مدوبین اور شرکت کی اور کچھ نے اپنے اسٹالز بھی لگائے ۔ دو روزہ بین الاقوامی حلال کانفرنس بھی حلال ایکسپو کا حصہ تھی۔ اس سال اسِ کانفرنس کا تھیم ٹریڈ، معیشت اور کلچر میں حلال کا کردار تھا ۔ یہ بین الاقوامی کانفرنس 7 سیشن اور 24 موضوعات پر مشتمل تھی جس میں بین الاقوامی شہرت کے مالک 24اہم اسپیکرز نے شرکت کی جن میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، ملائشیا، انڈونیشیا ، تھائی لینڈ، سنگاپور اور آسٹریلیا کے نامور اسپیکرز شامل تھی۔ اسِ دو روزہ حلال ایکسپو میں موسم شدید گرم ہونے کے باوجود دو روز میں 7 ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ پاکستان سے بھی کئی کمپنیوں نے اپنے اسٹالز بک کئے مگر وقت پر ویزے نہ ملنے کی وجہ سے وہ شرکت سے محروم رہے اگر یہ متعصب ہائی کمشنر نائیلہ چوہان اپنی ذاتی دلچسپی لیتی اور اپنے افسر شاہی کے خول سے باہر آتیں تو شاید وہ کمپنیاں شرکت سے محروم نہ ہوتیں جو شرکت کرنا چاہتی تھیں مگر ویزہ نہ ملنے وجہ سے شامل نہ ہو سکیں۔
آسٹریلیا میں اسِ حلال ایکسپو کا انعقاد اور اسِ کی کامیابی یہاں کے مسلمانوں کی بقا کے لئے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے جس کو کئی اسلامی ممالک کے سفارتکاروں نے تسلیم کیا اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملائشیا، انڈونیشیا ، اور برونائی جو حلا ل مارکیٹ کے اہم ترین اسلامی ممالک ہیں کےسفارتکاروں نے نا صرف شرکت کی بلکہ اپنے ممالک کی مصنوعات کو اجاگر کرنے کے لئے سرکاری اسٹالز بھی لگائے۔آسٹریلیا میں بسنے والے پاکستانیوں کے لئے حلال ایکسپو آسٹریلیا کی ایک خاص اہمیت اسِ لئے ہے کہ اسِ کے موجدِ اور منتظمین پاکستانی ہیں جو کہ پاکستان اور تمام پاکستانیوں کے لئے فخر کا مقام ہے سوائے نائیلہ چوہان جیسے نا اہل سفارتکار کے۔
جیسا پہلے بیان کیا گیا کہ حلال ایکسپو آسٹریلیا میں شرکت کے لئے حلال ایکسپو آسٹریلیا کے ناظم اعلی سید عتیق الحسن نے خود پچھلے سال سڈنی سے پاکستانی سفارتخانے کیمبرہ میں جاکر سفیر نائیلہ چوہان کو دعوت دی، حلال ایکسپو پر تفصیلی بریفنگ دی، حلال ایکسپو پرپرنٹ کی ہوئی تفصیلات بھی فراہم کیں اور درخواست کی کہ پاکستانی بزنس کمیونٹی کی اسِ حلال ایکسپو میں پاکستان سے شرکت کو یقینی بنائیں۔ مگر افسوس کے نائیلہ چوہان صاحبہ نے اسِ فرمائش کا اظہار کیا کہ انکو حلال ایکسپو میں بطور چیف گیسٹ بلایا جائے ۔ لحاظہ پاکستان کی وقار کو دیکھتے ہوئے محترمہ کی تقریر کو کانفرنس کا حصہ بنایا گیا۔ مگر محترمہ نے حلال ایکسپو کی کانفرنس میں صرف تقریبا 15 منٹ کی حاضری لگا ئی، اپنی تقریر کی اور واپسی اختیار کی تاکہ محترمہ کا فوٹو سیشن ہوجائے اور یہ دنیا کو یہ دکھاسکیں کہ انہوں نے حلال کانفرنس میں شرکت کرکے بہت بڑا احسان کیا۔ محترمہ کے اسِ طرح سے کانفرنس میں چند منٹ کے لئے آنا اپنی تقریر کرنا اور بغیر کسی اسپیکر کو سنے بغیر چلے جانا کا دوسرے سفارتکاروں اورمہمانوں نے نوٹس لیا جو پاکستانیوں کے لئے شرمندگی کا باعث تھا۔ پھر محترمہ نے حلال ایکسپو جو سڈنی اور میلبورن میں بروز اتورا منعقد کی گئی تھی شرکت نہیں کی۔ اسِ سال یعنی 2017 کی حلال ایکسپو جو کہ اسِ سال بین الاقوامی سطح پر منعقد کی گئی اور جس میں کئی ممالک سے مندبین نے شرکت کی اورکئی اسلامی ممالک کے سفیر بھی شریک ہوئے ایک مرتبہ پھر دعوت دینے کے با وجود شرکت کرنے سے انکار کیا جبکہ دعوت ایکسپو کے انعقاد سے چھ ماہ پہلےیعنی ستمبر 2016 میں دی گئی تھی ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس سال حلال ایکسپو کا انعقاد ہفتہ 11 اور اتوار 12 فروری کو کیا گیا تھا۔ ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار چھٹی والے دنِ محترمہ کی کیا مصروفیت ہو سکتی ہے ؟ جبکہ دوسرے ممالک کےسفارتکاروں نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا بلکہ اپنی کمیونٹی میں حلال ایکسپو کو پروموٹ کیا ۔نائیلہ چوہان نے نا صرف خود شرکت سے انکار کیا بلکہ کونسل جرنل سڈنی کے قریبی حلقوں کے مطابق کونسل جرنل اور انکے اسٹاف کو بھی جانے سے منع کیا۔ یہ عام بات ہے کہ کسی بھی ملک کا سفیر ہر پروگرام میں ذاتی طور پر شریک نہیں ہو سکتا تو وہ اپنے نائب یا کسی بھی افسر کو یا پھر نسل جرنل کو اپنے جگہ شرکت کے لئے بھیج دیتا ہے مگر نائیلہ چوہان نے حلال ایکسپو آسٹریلیا اپنے تمام اسٹاف سمیت بائیکاٹ کیا اور کمیونٹی کے اندر تقسیم کرواکر اپنے گرد اکھٹا کئے ٹولہ کو بھی جانے سے منع کیا۔ ان کی اسِ حرکت پر حکومت پاکستان کو فوری ایکشن لینا چائیے۔
پاکستانی سفارتکاروں کی اپنے بنیادی کاموں میں عدم دلچسپی اور ذاتی مصروفیات، پاکستانیوں کی محلفوں میں فرمائش کرکے دعوتیں اڑانا یہاں آسٹرلیا میں کوئی نہیں بات نہیں۔ اسِ سے پہلے بھی آسٹریلیا میں تعئنات پاکستانی سفارتکاروں کی یہاں تعئناتی کسی پرکشش اور پر لطف زندگی سے کم نہیں۔ یہ لوگ پاکستان کے سرکاری خزانے پر ایک بہت بڑا بوجھ ہیں جبکہ ان کی کارکردگی پاکستان کے لئے بیرونِ ملک کیا ہے کم سے کم آسٹریلیا میں ایک عام پاکستانی کو نہیں معلوم!یہ لوگ آسٹریلیا میں شہر کے مہنگے ترین علاقے میں مہنگا ترین مکان کرائے پر لیتےہیں ۔ جبکہ دوسرے پاکستان جیسے ممالک کے سفیر تکار عام اور مناسب مکانوں میں رہتے ہیں، اپنا گاڑی خود چلاتے ہیں، اپنا کھانا خود پکاتے ہیں۔ پاکستانی سفیر اور کونسل جنرل اپنے ڈرائیو اور باورچی بھی پاکستان سے لاتے ہیں۔ اور افسر شاہی کا یہ عالم ہے کہ ان ڈرائیورز کو پاکستانی تقریبات میں شرکت کے دوران گھنٹوں باہر بھوکے کھڑا رکھتے ہیں اور خود تقریب میں اعلی پکوان بھرپور مہمان نوازی کے ساتھ اڑا تے ہیں۔ اور یہ موجودہ سفیر صاحبہ ،جن کے پاس حلال ایکسپو میں چھ ماہ پہلے دعوت دینے کے باوجود ہفتہ وار تعطیل کے دنِ بھی وقت نہیں ، مقامی میڈیا اور عام پاکستانیوں سے ملنے کا وقت نہیں مگر فیس بک پر اپنا پیج پر پابندی سے وقت لگانے کا وقت ہے۔ پچھلے دنوں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کا ایک لمبا دورہ کیا جس میں کئی سارئے میچیز کھیلے گئے۔ نائیلہ چوہان صاحبہ نے بھرپور طریقہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کے سات مختلف تقریبات میں وقت گزارا انکےساتھ فوٹو بنائے اور ان کو فیس بک پیج کی زینت بھی بنایا، اور اپنےمداحوں سے داد بھی شکریہ کے ساتھ حاصل کی۔
آسٹریلیا ، پاکستان کے لئے ایک اہم ترین ملک ہے۔ سب سے پہلے پاکستان نے اپنا سفارتخانہ اسی ملک میں قائم کیا تھا۔ بھارت اور دوسرے ممالک کے سفارتکاروں کے انکے ممالک کے لئے صنعت و حرفت، سیاحت، تعلیم اور دوسرے شعبوں میں کام نظر آتے ہیں۔ مگر پاکستانی سفارتکاروں کے کام صرف اور صرف پاکستانیوں کی تقریبات میں مہمان خصوصی بن کر محفلوں کے مزے لوٹنا ہے۔ لحاظہ پاکستان کی حکومت کو چائیے کہ اسِ کا سخت نوٹس لیا جائے اس سے پہلے کہ یہ محترمہ مزید شرمندگی کا باعث بنیں انکی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ وہ کیا وجوہات تھیں کہ جن کی بناہ پر ایک ایسے بین الاقوامی پروگرام میں جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب، ملائشیا، انڈونیشیا ،تھائی لینڈ اور برونائی کے سفارتکارو ں نے شرکت کی جس میں 20 سے زیادہ بین الاقوامی شخصیات نے مختلف ممالک سے آکر شرکت کی اس میں نائیلہ چوہان نے آنا مناسب نہیں سمجھا؟ اگر وہ نہیں آسکتی تھیں تو پھر وہ کیا وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے کسی بھی نائب کو بھی بھیجنا مناسب نہیں سمجھا؟

حصہ