ڈاکٹر طاہر القادری نے عوامی تحریک کی راولپنڈی میں قصاص ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف یہ لکھ لیں کہ ہم قصاص اور انصاف لے کر رہیں گے۔اُنہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ہر صورت پھانسی پر چڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آپ بیرونی طاقتوں سمیت اپنے وزیروں کو بھیج چکے لیکن میں نے شہیدوں کا سودا نہیں کیا اور مجھے اطمینان ہوگا کہ میں نے وقت کے فرعون کی طاقت کو ٹھکرادیا، ہم کبھی ماڈل ٹاؤن میں خون بہانے والوں سے بے وفائی نہیں کرسکتے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ یہ قتل صرف ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کا نہیں بلکہ پاکستان کی سالمیت کا قتل ہورہا ہے ۔ ’را‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو جو گرفتار ہوا وہ تو صرف ایک تھا لیکن یہاں تو کئی کلبھوشن موجود ہیں، سنیل کمار، باسکر بابو، دیش راج، اشوک، شیو کمار سمیت 300 لوگ ہیں جو نوازشریف اور شہباز شریف کی ملوں میں رہتے ہیں اور نوازشریف ان کو ویزا دلوا کر پاکستان میں لاتے ہیں ۔ نوازشریف اور شہباز شریف انڈین ایجنٹ ہیں، ان کا پاکستان کے اقتدار پر بیٹھنا ملک کی سالمیت کے خلاف ہے۔طاہر القادری نے ایک موقع پر کہا کہ بھارت نوازشریف کا اقتدار بچانے کی جنگ پچھلے چھ ماہ سے لڑ رہا ہے، ان کی حکومت کو خطرہ ہو تو لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہوتی ہے، سانحہ کوئٹہ، سانحہ مردان ہوجاتا ہے، یہ اس وقت کیوں ہوتا ہے جب آپ کی حکومت کو خطرہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے براہ راست پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو ماڈل ٹاؤن کا انصاف ضرور ملے گا مگروہ نوازشریف کے کسی وزیر اور ادارے سے نہیں ہوگا۔ ہم بھیک نہیں مانگ رہے لیکن آپ کا وعدہ کب وفا ہوگا کیوں کہ آپ تو ریٹائر ہونے والے ہیں، ریٹائرمنٹ آپ کا اپنا فیصلہ ہے لیکن آپ نے ریٹائرمنٹ سے پہلے ان لوگوں کو انصاف نہ دلایا تو اللہ کے حضور کیا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف ضرب عضب جیسا کامیاب آپریشن کرچکے ہیں اور ماڈل ٹاؤن بھی ریاستی دہشت گردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں انصاف اور قصاص لینا آتا ہے، یہ ہماری اپنی حکمت عملی ہے اور ہم سات دن میں خود لے سکتے ہیں لیکن میں ملک میں خانہ جنگی نہیں چاہتا اور میرا سبق صرف امن پسندی کا ہے، میں نے بارود کے بجائے درود پھیلایا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے اس موقع پر اپنی مستقبل کی حکمت عملی پر بھی کچھ مبہم اشارے کرتے ہوئے کہا کہ قصاص اور سالمیت پاکستان کے تین مرحلے ہیں، پہلے راؤنڈ میں ویڈیو لنک سے خطاب کرنا تھا اور آج اس کا آخری خطاب ہے جب کہ بقیہ دو مرحلے میرے ہاتھ میں ہیں جس وقت چاہیں استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سلطنت شریفیہ میں انصاف ملے گا نہیں بلکہ چھیننا پڑے گا جب کہ حکمران آج عوام کا ٹھاٹھے مارتا سمندر دیکھ لیں اور اگر میں کارکنان کو حکم دے دوں کہ فلاں تاریخ کو رائیونڈ چلنا ہے تو سوچ لیں کیا ہوگا، اب میرے پاس دو آپشن ہیں ایک اسلام آباد اور دوسرا رائیونڈ، لیکن فیصلہ کارکنان کو ہی کرنا ہے۔
طاہر القادری نے نام لیے بغیر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود ا چکزئی کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں نوازشریف کے اتحادی، جس کا تعلق کوئٹہ سے، وہ پاکستانی افواج کے خلاف بولتے ہیں وہ بھی پاکستان کے ہمسایہ ملک کی ایجنسی کے پے رول پر ہے، اس شخص کو حال ہی میں 10 کروڑ روپے کی ٹرانزکشن ملی ہے جس کا خط موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پاکستان کو گالیاں دی گئیں، ان ملک دشمن عناصر کی گرفت کون کرے گا ۔ اگر ملک کی سالمیت کا تحفظ نہیں ہے وہاں ایک غریب کا تحفظ کیسے ہوگا۔
ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ شریف برداران دہشت گردوں کے ساتھی ہیں اور انہوں نے آپریشن ضرب عضب کو ناکام بنانے کی بھی کوشش کی لیکن پاک فوج نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ اگر ان کا اقتدار ختم نہ ہوا تو یہ پاکستان کا ایٹم بم بھی بیچ دیں گے اور فوج کو پنجاب کی پولیس بنادیں گے کیونکہ یہ تمام ادارے خرید کر ہضم کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا اقتدار رہ گیا تو اگلا سانحہ ماڈل ٹاؤن پاک فوج پر ہوگا۔

حصہ