لاہور ( جبار صدیقی سے ) رویتِ ہلال کمیٹی کی رُکنیت سے معطل کیئے جانے والے مفتی عبد القوی کے ساتھ متنازعہ سیلفی سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی ماڈل قندیل بلوچ نے لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مفتی عبد القوی جیسے بد کردار مولوی کو اُس کی حرکتیں دیکھ کر ایکسپوز کرنے کا فیصلہ ملاقات کے دوران ہی کر لیا تھا ۔ لیکن جب سے یہ واقعہ ہوا ہے میری زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے ۔ مری جان کو شدید خطرہ ہے جس کی وجہ سے میں نے وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد اور ڈی جی ایف آئی اے کو سکیورٹی کی فراہمی کے لیئے درخواست دے دی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تصاویر سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کرکے نہ جانے کیا ثابت کیا جا رہا ہے ۔ اگر میرے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا غلط استعمال ہوا تو میں ذمہ دار نہیں ہوں گی ۔ اس حوالے سے میں نے ایس ایس پی اسلام آباد کو بھی درخواست دی ہے کہ کارروائی کی جائے ۔ قندیل بلوچ نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ میں جو کر رہی ہوں وہ ٹھیک ہے ۔ مفتی کو بدنام کرنے کی کوئی پلاننگ نہیں کی ۔ لیکن نہ جانے مجھے اتنا پریشان کیوں کیا جا رہا ہے ۔ کہ میری راتوں کی نیند حرام ہو چُکی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں قندیل بلوچ نے کہاہے ڈیرہ غازی خان میں رہنے والے تمام لوگ بلوچ کہلاتے ہیں اس لیئے میں نے بھی اپنے نام کے ساتھ بلوچ لگایا ہے اور یہ نام کسی صورت نہیں ہٹاؤں گی ۔ جب عدالت کی جانب سے نوٹس آیا تو وکلاء اور قانونی مشیروں کی معاونت سے جواب دے دوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ جرنلسٹ نہیں ہیں کہ لوگوں کو ایکسپوز کرتی پھروں یہ ایک حادثہ تھا جو ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ شوبز کی فیلڈ میں گذشتہ پانچ سال سے محنت کر رہی ہیں اور انہوں نے سخت جدوجہد کے بعد یہ مقام پا یا ہے ۔

حصہ