ثنا خوانَ تقدیس ِ مشرق کہاں ہیں

اسلام آباد: (آئی این پی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور کو بتایا گیا کہ ملک کی مختلف جیلوں میں قید خواتین قیدیوں کے ساتھ رات کے وقت بدسلوکی کی جاتی ہے لیکن اب تک ذمے داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں تجویز دی گئی کہ مردوں اور خواتین قیدیوں کی جیلیں فاصلے پر بنائی جائیں اور خواتین کی جیلوں میں عملے کے علاوہ خواتین سپرنٹنڈنٹس تعینات کی جائیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ خواتین قیدیوں کو غلط مقاصد کیلیے استعمال کیا جاتا ہے، اے این ایف کی طرف سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ 10 سال کے دوران 5 ارب ڈالر سے زائد کی منشیات پکڑی گئی ہے، امیر خاندانوں کے بچے اور بچیاں تیزی سے منشیات کے عادی ہو رہے ہیں، روک تھام کیلیے والدین کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیر مملکت بلیغ الرحمان نے کمیٹی کو بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد کیا گیا اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، کروڑوں کی تعداد میں موبائل فون سمز کی تصدیق کی گئی۔ دینی مدارس کی میپنگ کی گئی، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کیلیے اقدامات سمیت نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ رحمان ملک نے وزیر مملکت سے پوچھا کہ کالعدم تنظیموں پر حکومت پابندی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن کالعدم سپاہ صحابہ مختلف ناموں سے ملک کے مختلف شہروں میں جلسے کر رہی ہے،کیا نیشنل ایکشن پلان کی رو سے اس تنظیم کے عہدیداروں کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بچوں کی سزا سے متعلق بل پر اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام اور ملکی قانون میں بچوں کی سزا پر پابندی نہیں، بچوں کی تربیت کیلیے ان کی نگرانی اور ڈانٹ ڈپٹ ضروری ہے، رحمان ملک سمیت تمام اراکین نے بچوں کو ہلکی پھلکی سزا دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر بچوں کی نگرانی نہ کی جائے تو پھر وہ بگڑ سکتے ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ زیر حراست ملزمان کی وڈیو بیانات کے ذریعے لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں، ایسے بیانات کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلیے قانون سازی کرنا پڑی توکریں گے، اسلام آباد سیف سٹی منصوبے پر بریفنگ کے لیے متعلقہ ڈائریکٹر کی غیرحاضری پر چیئرمین کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا اورآئندہ 3 روزمیں منصوبے سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ رحمان ملک نے کہا کہ طالبان کمانڈر ملا منصور طالبان کی حکومت میں سول ایوی ایشن ڈویژن کا وزیر تھا اور پاکستان سمیت اس نے پوری دنیا کا سفرکیا، ولی محمد کے نام سے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ اس کے پاس تھا لیکن ہم پکڑ نہیں سکے

حصہ