صوابی:(اے پی پی) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی قائد اسفند یار ولی خان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ اے این پی فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی بھرپورحمایت کرتی ہے، آئین میں ترمیم کر کے صوبائی اسمبلی میں قبائلیوں کو ان کا حق دے کرانھیں نمائندہ تسلیم کیا جائے، میں افغان تھا، ہوں اور مرتے دم تک افغان ہی رہوں گا۔ صوابی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ افغانستان میرے باپ دادا کا ملک ہے، پاکستان میں افغان مہاجرین سے ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس میں نام آنے والوں کاسب کااحتساب ہونا چاہیے، ہم نے فوجی عدالتوں کا کڑوا گھونٹ اس لیے پیا تھاکہ خطے میں امن کا قیام ممکن بنایا جاسکے، دہشت گردی ایک مائنڈ سیٹ بن چکی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے تمام امن پسند قوتوں کو مل کرکوششیں کرنا ہونگی۔ سربراہ اے این پی کا کہنا تھا کہ وزیرداخلہ پارلیمنٹ کو بتائیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر کس حد تک عملدرآمد ہوا؟ اور اگر نہیں ہوسکا تو اس کی وجوہ قوم کے سامنے لائی جائیں، وزیراعظم آل پارٹیزکانفرنس بلائیں اورملک کی خارجہ وداخلہ پالیسیوں کاازسرنوجائزہ لیا جائے،مردم شماری صرف اس لیے نہیں کرائی جا رہی کیونکہ اس سے پنجاب کاحصہ کم ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا کہاگر افغان مہاجرین کیساتھ ظلم بند نہ کیا گیا تو ہمیں سوچنا پڑے گا، افغانستان میں امن لائے بغیر پاکستان میں امن ممکن نہیں

حصہ