میانوالی اور نارتھ زون پنجاب نے عمران خان کے ساتھ کیا کیا ؟؟؟؟؟
اسلام آباد( خصوصی تجزیہ ) سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس معاملے کی سماعت کے بعد عمران خان نے دو نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے کی کال کو موخر کر دیا ہے ۔ عمران خان کا فیصلہ حالات کی نزاکت کے حوالے سے ہر لحاظ سے درست قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عمران خان کو پی ٹی آئی کی قیادت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع میسر آ گیا ہے ۔ عمران خان کا آبائی ضلع میانوالی جسے عمران خان ہمیشہ اپنا قلعہ قرار دیتے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ جب میرے ساتھ کوئی نہیں تھا تو میانوالی کے لوگ میرے ساتھ تھے اور میانوالی کے لوگوں نے مجھے اسمبلی میں پہنچایا ۔۔۔ لیکن اب صورتحال اس طرح سے اُلٹ نظر آتی ہے کہ ’’ اب پورا ملک عمران خان کے ساتھ ہے لیکن میانوالی دکھائی نہیں دیتا ‘‘۔۔14915068_1640051822953817_1304874194_n
دو نومبر کے احتجاج کی کال کے بعد عمران خان نے تمام علاقوں سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ارکانِ پارلمنٹ اور عہدیداروں کو احتجاجی کال کو کامیاب کرنے کے لیئے ملاقاتیں کرکے احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیئے شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی ۔
عمران خان کی ہدایات کے بر عکس نارتھ زون پنجاب اور ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلمنٹ اور قیادت نے عمران خان کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ شدید ترین مشکل حالات میں جانی خطرات مول لے کر رکاوٹوں کو عبور کرکے دشوار گذار پہاڑی راستوں کو عبور کرکے نارتھ زون اور ضلع میانوالی کے جو کارکن ’’ بنی گالا ‘‘ پہنچے ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا ۔ پی ٹی آئی نارتھ زون پنجاب کے صدر عامر کیانی بنی گالا میں کارکنوں کو نظر تو آئے لیکن انہوں نے کارکنوں کے ساتھ ہاتھ ملانے اور سیلفی بنوانے سے سوا کچھ نہیں کیا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندورنی ذرائع کا کہنا ہے کہ نارتھ پنجاب کی قیادت نے مختلف اضلاع خصوصاً میانوالی کی قیادت کو ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات میں رابطہ بحال رکھنے کے لیئے دو سیٹلائٹ فون دینے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔ لیکن قیادت کی جانب سے کیا گیاکسی قسم کا کوئی وعدہ ایفاء نہیں ہوا ۔ 14656408_1173686936059531_745356509895277002_nایک اطلاع کے مطابق عمران خان کے آبائی ضلع میانوالی سے نارتھ پنجاب کے جنرل سیکرٹری ۔ ایک ایم این اے اور تین ارکانِ صوبائی اسمبلی 23 یوسی چیئرمین ، 23 وائس چیئر مین اور 100 سے زیادہ بلدیاتی کونسلرز مل کر 100 افراد بھی اسلام آباد لے جانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ بنی گالا میں میانوالی سے تعلق رکھنے والے 60 سے 70 افراد موجود تھے ان میں سے اکثریت ان پرانے ورکروں کی تھی جو 1997 ء سے عمران خان کے ساتھ تھے ۔ ملک طارق رکھی جس کا ذکر عمران خان قومی اور مقامی سطح پر بڑے فخر سے کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تحریک کا آغاز میانوالی میں ملک طارق رکھی کے ’’ بنوں میانوالی پٹرولیم سروس ‘‘ سے کیا تھا وہ اپنے ساتھیوں زبیر ملک سمیت 25 اکتوبر سے اسلام آباد موجود تھے ۔ 14595822_1175032232591668_7400557469403113208_n
میانوالی میں کارکنوں اور قیادت کے دوران کمنییوکیشن گیپ کی وجہ سے بھی کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ضلع میانوالی میں پولیس نے 45 کے قریب پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرکے ضلع بدر کر دیاتھا ۔ لیکن ابھی تک ان کارکنوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا ۔ ذرائع کے مطابق دو نومبر کے احتجاج کے لیئے ارکانِ صوبائی اسمبلی سے دو لاکھ روپئے اور ارکانِ قومی اسمبلی سے تین لاکھ روپئے فی کس کے حساب سے جو فنڈز طلب کیا گیا ۔ اور جمع کروانے کے لیئے بنک اسلامی کا جو اکاؤنٹ نمبر دیا گیا تھا اُس میں میانوالی کی پارلیمانی قیادت کی جانب سے کوئی فنڈ جمع نہیں کروایا گیا ۔۔۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نارتھ زون کی قیادت نے کارکنوں کو کہا تھا کہ آپ ٹرانسپورٹ کی ڈیمانڈ سے آگاہ کریں آپ کو فنڈز اور ٹرانسپورٹ فراہم کر دی جائے گی ۔ ذرائع کے بقول کارکنوں کی جانب سے 85 گاڑیوں کی ڈیمانڈ کی گئی تھی جس کے جواب میں نہ تو کارکنوں کو کوئی گاڑی فراہم کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کے فنڈز ۔۔۔۔ 14925259_1639800712978928_3650825380817515241_n
’’ بنی گالا ‘‘ کے ذرائع کے مطابق ضلع میانوالی میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں میں پائی جانے والی مایوسی سے چئیر مین عمران خان نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ انہوں نے معاملے کی تحقیقات کا عندیہ بھی دیا ہے ۔
عمران خان کو 2013 ء کے انتخابات کے بعد میانوالی سے دوسری مرتبہ مایوسی ہوئی ہے اس سے پہلے اگست2013 ء کے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے بعض لیڈروں نے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پی ٹی آئی کے امُید وار کی پیٹھ میں چھُرا گھونپا تھا ۔
نارتھ زون پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف میں عمران خان کے دیرینہ ساتھی عامر کیانی اپنے زون کے کارکنوں کو ایک لڑی میں پرونے میں کامیاب نہیں ہو سکے اس کے برعکس دو نومبر کے احتجاج کے حوالے سے علیم خان نے اپنے زون کے کارکنوں کا ہر طرح سے خیال رکھا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کو آئندہ احتجاج کی کال دینے سے پہلے پارٹی کی ان بنیادی خامیوں پر توجہ دینی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔

حصہ