کوئٹہ: نیب نے بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ کے گھر چھاپہ مار کر 63 کروڑ سے زائد کی رقم سمیت 4 کروڑ مالیت کا سونا برآمد کرلیا جب کہ کارروائی کے بعد مشیر خزانہ نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپا مارا اور گھر کی تلاشی کے دوران کرنسی سے بھرے 12 بیگ برآمد کرلیے۔ نوٹوں سے بھرے بیگوں سے ملنے والی رقم کو گننے کے لیے نیب حکام کو کئی گھنٹے لگے لیکن اس کے باوجود بھی رقم مکمل طور پر گنی نہیں جاسکی تاہم اندازے کے مطابق برآمد ہونے والی رقم 63 کروڑ سے زائد ہے جس میں 50 کروڑ روپے نقد اور ڈالرز شامل ہیں جب کہ سیکریٹری خزانہ کی گاڑی سے بھی ڈیڑھ کروڑ روپے برآمد کیے گئے ہیں۔
نیب ذرائع نے بتایا کہ سیکریٹری خزانہ کے گھر سے 4 کروڑمالیت کا سونا، پرائزبانڈ اور کرنسی نوٹ چیک کرنے والی 4 مشینوں سمیت دیگر دستاویزات بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو محکمہ لوکل گورنمنٹ کے فنڈز میں ایک ارب روپے سے زائد خورد برد کے الزام میں آج حراست میں لیا گیا تھا جب کہ وہ 2013 سے بطور سیکریٹری خزانہ بلوچستان کام کررہے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی مشیر خزانہ میر خالد لانگو نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران میر خالد لانگو کا کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری نے سیکریٹری خزانہ کو فوری طور پر معطل کردیا ہے اور اس کا اضافی چارج سیکریٹری داخلہ کو دیا گیا ہے جب کہ کارروائی کے بعد خود بھی عہدے سے مستعفی ہورہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر یا میری پارٹی پر کوئی دباؤ نہیں پھر اس لیے مستعفی ہورہا ہوں تاکہ کوئی تحقیقات پر اثر انداز ہونے کا الزام نہ لگائے۔

حصہ