ہر دیگ کے چاول چکھنے والے شیخ رشید بھی عمران خان کے ساتھ انڈیا جائیں گے ۔( ذرائع )
محبتوں کی رُتیں تو صدا رہتی ہیں
یہ اور بات کہ لوگ ہیں موسموں کی طرح
تبصرہ ۔ ابوشزرے
باوثوق ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے بھارت جا رہے ہیں جہاں وہ میچ پر ایک ٹی وی چینل کے لیئے تبصرہ بھی کریں گے ۔ اس دورے میں عون چوہدری اور شیخ رشید بھی عمران خان کے ساتھ ہوں گے ۔ شیخ رشید جنرل پرویز مشرف کے دور میں جنرل کے وفادار اور عمران خان کے سخت ترین مخالف ہوا کرتے تھے ۔ ایک طرف تو شیخ صاحب پارلمنٹ کے پلیٹ فارم پر’’ سید مشرف‘‘ ’’سید مشرف‘‘ کی تسبیح پڑھتے تھے تو دوسری طرف ٹی وی ٹاک شوز کے ہڑبونگ کے دوران عمران خان سے مقابلہ کرتے ہوئے ہتک آمیز رویہ تک اختیار کر جاتے تھے ۔ باالکل اسی طرح جیسے انہوں نے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے مارشلا کی چھتری تلے جنم لینے والی سرکاری مسلم لیگ میں میاں نواز شریف کے ساتھ خود کو پروان چڑھا یا ۔ میاں نواز شریف کے ساتھ تھے تو اُس وقت ان کی سیاست دودھ کے دانت نکال رہی تھی لیکن انہوں نے پارلمنٹ میں انہوں نے بے نظیر بھٹو مرحومہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے’’ لال حویلی کلچر‘‘ کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔۔۔۔ پھر وہ پنجاب کے چوہدریوں کے ساتھ جنر ل مشرف کی محبت کے اسیر ہو گئے یہاں بھی انہوں نے جنرل مشرف سے اُسی طرح وفاداری کے تقاضے نبھائے جس طرح پیپلز پارٹی اور بے نظیر کے مقابلے میں انہوں نے میاں نواز شریف سے محبت نبھائی تھی ۔2008 ء میں آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا لیکن ووٹروں سے مسلم لیگ ن کی حمایت کا اشارہ دے کر ووٹ مانگے ۔2013 ء کے عام انتخابات میں عمران خان کی مقبولیت کو بھانپتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت شروع کر دی ۔ انتخابی نتائج کے بعد عمران خان کے ساتھ ہو گئے ۔ غیر مرئی قوتوں تک رسائی کے دعوے کے ساتھ ساتھ سیاسی پیشن گوئیوں کے انداز میں مرحوم پیر پگاڑہ مرحوم کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔عمران خان کے جتنا قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں عمران خان اُتنا ہی ہوشیار ہو جاتے ہیں ۔ پورے ملک میں اپنی مسلم لیگ کے واحد پارلمنٹرین ہونے کے باوجود عمران خان کی پارٹی سے مرضی کے فیصلے کروانے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔ کسی دانا کا کہنا ہے عوامی مسلم لیگ کی یہ اکلوتی نیرینہ اولاد اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتی ہے ۔ 1985 ء سے پاکستان کی سیاست میں ’’ہم خود زندہ باد ‘‘ کا نعرہ لگانے والا یہ سیاستدان شور شرابے کے ذریعے قوم کے حافظے کے ساتھ مذاق کرنے والوں میں شامل ہے ۔
عمران خان کی پارٹی کے حوالے سے تجزیہ نگار 2018 ء کے انتخابات میں بڑی کامیابی کی پیشن گوئیاں کر رہے ہیں ۔ لہذا عمران خان کو اب شیخ رشید سے وضعداری کا مظاہرہ اور سلوک کرنے کی بجائے اپنی اور پارٹی کے سیاسی مفاد کو ترجیح دینی چاہیئے کیوں کہ شیخ صاحب کا ماضی سیاست میں رواداری اور اُصول پسندی سے عاری بلکہ باالکل تہی دامن ہے اور شیخ صاحب اب عمر کے اُس حصے میں جہاں خصلتیں پختہ ہو کر عادتیں بن جایا کرتی ہیں۔۔۔
محبتوں کی رُتیں تو صدا رہتی ہیں
یہ اور بات کہ لوگ ہیں موسموں کی طرح

حصہ