عابد ایوب اعوان

جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد کا موسم ملک کے باقی شہروں کی نسبت کافی مختلف ہے۔ ایک دم زور کی گرمی پڑتی ہے مگر یہ گرمی ذیادہ دیر جڑواں شہروں کے باسیوں کو تنگ نہیں کرتی۔ زور کی گرمی پڑنے کے بعد ہی موسم ایک دم انگڑائی لیتا ہے اور جڑواں شہر بادلوں کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ موسم سہانا ہو جاتا ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے اور بارش بھی ہو جاتی ہے۔ ان دنوں بھی ایسا ہی ہے کہ جڑواں شہروں کا موسمی درجہ حرارت ملک کے باقی شہروں کی نسبت کم ہے۔ موسم بہت خوشگوار ہے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں ، بادل آئے ہوئے ہیں۔ مگر دوسری طرف جڑواں شہروں کا سیاسی موسم اس وقت یکسر مختلف ہے۔ سیاسی درجہ حرارت کافی تیز ہے اور سیاسی صورتحال میں گرما گرمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی حوالے سے کافی کشیدگی، تناو اور نارضگی غصے کی کیفیات پائی جاتی ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی تعلقات پر گرمی چھائی ہوئی ہے۔ ویسے تو وزیر اعظم ہاوس اور جی ایچ کیو کے درمیان ایک خبر کے لیک ہونے والے معاملے کے بعد سے ہی تناو پیدا ہو گیا تھا مگر اب وڈی سرکار کی طرف سے ایک ٹویٹ نے پورے ملک میں ایک ہلچل مچا دی ہے ، جس سے جہاں ایک طرف سیاسی کھلاڑی فارم میں آگئے ہیں وہاں حکومتی ایوانوں پر بھی پریشانی اور غصے کا عالم دکھائی دیتا ہے۔ جی ایچ کیو اور وزیر اعظم ہاوس کے درمیان اللہ کرے معاملات خوش اسلوبی اور افہام و تفہیم کے ساتھ حل ہو جائیں تو وطن عزیز کی بہتری بھی اسی میں ہے ورنہ معاملات بگڑ کر کسی بڑی آفت کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ڈان لیکس کی رپورٹ جسکا نوٹیفکیشن پچھلے دنوں وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہوا اسکو آئی ایس پی آر نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مسترد کر دیا تھا کہ فوج اس نوٹیفکیشن کو مسترد کرتی ہے کیونکہ یہ رپورٹ انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کیئے گئے نوٹیفکیشن میں وزیر اعظم کے مشیر خارجہ طارق فاطمی کو برطرف کر دیا گیا اور یوں سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کے بعد اب طارق فاطمی بھی قربان ہو کر سابق مشیر خارجہ ہو گئے۔ طارق فاطمی نے اپنے ردعمل کے طور پر وزیراعظم کے نام ایک خط ارسال کر دیا ہے جس میں انہوں نے اپنے اوپر لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ انکے 5 سال ملک کے لیئے خدمات میں گزرے ہیں اور وہ اسطرح سے ملک سے غداری نہیں کر سکتے جو الزامت ان پر لگائے گئے ہیں وہ انکو مسترد کرتے ہیں۔ فوج بھی ان 2 چھوٹی قربانیوں کو قبول کرنے پر تیار نظر نہیں آرہی اور ڈان لیکس کے اصل چہرے کو سامنے لاکر اسکی قربانی مانگ رہی ہے۔ اگر اس اصل چہرے کو سامنے لا کر قربان کر دیا جاتا ہے تو وزیراعظم شریف کی سیاست شاید آگے جاکر لاورث ہوجائے۔ وڈی سرکار کی ٹویٹ کے بعد چکری کے چوہدری بھی چکراتے دکھائی دیئے جو اس وقت کراچی کے دورے پر تھے اور اس ٹویٹ کے فورا بعد ایک پریس کانفرنس کر ڈالی جس میں انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کو ٹی وی چینل پر انٹرویو کے لیئے رسائی دینا غیر قانونی ہے اور ٹویٹ کے ذریعے اداروں کے درمیان پیغام رسائی خطرناک ہے۔ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس کو دیکھا جائے تو ان کے احسان اللہ احسان کے ٹی وی چینل پر انٹرویو کو غیر قانونی قرار دینے کے پیچھے سیاق و سباق واضح ہے کہ اس سے پہلے آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان ہونے والی خفیہ بات کو خبر بنا کر میڈیا تک رسائی پر فوج برہم ہوئی تھی جس پر ڈان لیکس معاملہ دیکھنے میں آیا اور وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو وزارت سے فارغ کیا گیا۔ فوج کی پرویز رشید کی قربانی سے بھی تسلی نہ ہوئی اور ڈان لیکس پر مزید انکوائری کرنے کا کہا گیا۔ حکومت کی طرف سے کی گئی انکوائری رپورٹ کو فوج نے مسترد کر دیا تھا پھر ایک اور انکوائری رپورٹ پیش کی گئی جس کو پھر آئی ایس پی آر کے ایک ٹویٹ سے مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس ٹویٹ والے معاملے پر ہی وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس بلائی اور یہ کہہ کر کہ دہشتگرد کو ٹی وی چینلز تک انٹرویو کے لیئے رسائی دینا غیر قانونی ہے۔ فوج اور حکومت کے درمیان اس سرد جنگ کے بیچ میں میڈیا ہی آرہا ہے دونوں طرف سے فوج کے ڈان لیکس معاملے پر بھی اور اب دہشتگرد احسان اللہ احسان کے ٹی وی چینل پر انٹرویو دینے کے معاملے پر بھی۔ حکومت اور فوج کے درمیان اس سرد جنگ کا اللہ کرے خاتمہ بالخیر ہی ہو۔۔ چوہدری نثار ایک کھرے آدمی ہیں اور انکی بات بھی درست ہے۔ دنیا میں کہیں بھی اسطرح سے جمہوری حکومتوں کو ڈکٹیٹ نہیں کیا جاتا۔ آئی ایس پی آر کی اس ٹویٹ سے بوٹوں کی آواز سنائی دی گئی۔ خیر وزیر اعظم ڈان لیکس معاملے پر بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ اور اس معاملے سے خود کو بچانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات بھی متوقع ہے جو اس ساری صورتحال جو ڈان لیکس معاملے پر پیدا ہو گئی ہے اس پر بات چیت ہو گی۔ جبکہ دوسری طرف کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شاید وزیراعظم جان بوجھ کر اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرا کر سیاسی شہادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ وزیراعظم بہت سے معاملات پر پھنس چکے ہیں جن میں پانامہ لیکس پر بننے والی جے آئی ٹی ، ڈان لیکس معاملہ پر ٹویٹ ، سیاسی کھلاڑی کے جلسے ، وکیلوں کے احتجاج ، سیاست کے گرو آصف ذرداری کے ترش بیانات ، شریف فیملی کے اندرونی اختلافات اور دوست ملک چین کی جمہوری حکومت سے بیزاری جیسے معاملات سرفہرست ہیں۔ پانامہ لیکس کے سپریم کورٹ کے 20 اپریل والے فیصلے پر جے آئی ٹی بنے گی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کے لیئے خصوصی بینچ قائم کر دیا ہے ، پانامہ کیس میں انکوائری کا فیصلہ دینے والے جسٹس اعجاز افضل خان بینچ کے سربراہ جبکہ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن بینچ کے رکن ہوں گے۔ ڈان لیکس معاملے پر ٹویٹ والا معاملہ ذیادہ سنجیدہ ہو چکا ہے۔ پھر سیاسی کھلاڑی عمران خان بھی وزیر اعظم کے اعصاب پر سوار ہو چکے ہیں اور سیاسی کھلاڑی نے ملک بھر میں جلسوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ وکیلوں نے بھی وزیر اعظم کے استعفی نہ دینے پر احتجاج کا اعلان کیا ہوا ہے۔ شریف خاندان کے اندرونی اختلافات بھی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی رائے ہے کہ نواز شریف کے بعد وزارت عظمی کا منصب شہباز شریف کو ملنا چاہیئے جبکہ نواز شریف اپنے بعد اپنا سیاسی وارث مریم نواز کو بنانا چاہتے ہیں۔ سیاست کے گرو آصف ذرداری بھی شریف خاندان کے لیئے اپنے دل سے نرم گوشہ نکال کر پھینک چکے ہیں۔ اور رہی بات دوست ملک چین کی تو وہ بھی جمہوریت سے اپنی کوئی خاص دلچسپی دکھائی نہیں دیتے کیونکہ چین پاکستان میں سی پیک جیسی بڑی سرمایہ کاری فوج کی ضمانت پر ہی کرنے پر رضامند ہوا تھا۔
بات ہو رہی تھی ایک ٹویٹ سے سیاسی موسم گرم ہونے کی تو مریم نواز صاحبہ بھی ٹویٹ کے ذریعے اپنے خیالات شاہی حکم نامے کی صورت میں پاکستانی رعایا تک پہنچانے میں کافی دلچسپی رکھتی ہیں۔ 2 مئی کو مریم نواز صاحبہ نے ایسی ہی اپنی ایک حالیہ ٹویٹ جاری کی ہے جس سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جس میں مریم نواز صاحبہ پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کے خلاف بول پڑی ہیں اور صحافی عمر چیمہ پر پاکستان کیخلاف سازش کا الزام عائد کر دیا۔ نیوز لیکس کی رپورٹ اور جی ایچ کیو کے ردعمل کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث بلا کسی اشتعال کے شاید مایوسی میں مریم نواز نے 2 مئی کو اچانک پانامہ پیپرز سے متعلق ٹویٹ کیا۔ جس میں کہا گیا کہ پانامہ پیپرز کبھی بھی کرپشن سے متعلق نہیں تھے ، پانامہ پیپرز جاری کرنے والے چور اور ہیکرز نے بھی اسے کرپشن نہیں کہا ، اس کے فوری ردعمل میں پولٹزر انعام یافتہ صحافی بیسٹین اوبرمیئر نے کہا کہ معذرت کے ساتھ پانامہ پیپرز کرپشن کے بارے میں ہیں ، ہمیں کرپشن کی متعدد دستاویزات ملی ہیں جو حیران کن اور حقیقی ہیں۔ جس پر مریم نواز نے بیسٹین کو ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ کہ پاکستان کے صحافی عمر چیمہ پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ اس پر ایک اور جرمن صحافی فریڈرک اوبرمیئر نے مریم نواز سے متعلق پانامہ دستاویزات شیئر کرتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ ڈیئر مریم نواز کیا آپ یہ دعوی کر ینگی کہ یہ آپ کا پاسپورٹ نہیں ؟ مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پانامہ کچرا ہے ، باقی دنیا نے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ اس پر فریڈرک نے جوابی ٹویٹ کا وار کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ پیپرز کے بعد 80 ممالک میں 150 تحقیقات ہوئیں اور انہوں نے اس سلسلے میں مریم نواز کو مزید تفصیلات کے لیئے ویب لنک بھی بھیج دیا۔
لیہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ گیدڑ کا شیر سے کیا مقابلہ اور 100 گیدڑ بھی آجائیں تو شیر کھڑا رہتا ہے۔ وزیر اعظم کے اس بیان پر ایک سابق کمانڈر پرویز مشرف نے زوردار قہقہہ لگا کر وزیراعظم کو انکے شیر ہونے کا جواب دے دیا۔
آخری بات جس کو سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جو ووٹ کی طاقت پر حاصل کیا گیا ہے۔ ووٹ ہی جمہوریت کی فیصلہ کن دلیل ہے اور ووٹ ہی شہری کے حق حکمرانی کا تعین کرتا ہے۔ پاکستان کسی کی مفتوحہ مملکت ہرگز نہیں۔ اس بات کو ٹویٹ کرنے والی راولپنڈی کی وڈی سرکار کو بھی یاد رکھنا چاہیے اور اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانی کے نشے میں مست بادشاہت کی طرز حکومت کے حاکموں کو بھی سمجھ لینا چاہیئے۔

حصہ